ارشد مہدی جعفری
ایران اور اسرائیل کی جاری کشمکش نے جہاں مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے توازن کو بری طرح ہلا کر رکھ دیا ہے، وہیں اس کے غیر متوقع اثرات جنوبی ایشیا میں پاکستان جیسے ممالک کے لیے نہ صرف خطرات بلکہ مواقع کا سبب بھی بنے ہیں۔ بلوچستان میں بھارتی مداخلت کے خلاف جو آوازیں ماضی میں صرف پاکستان میں ہی سنی جاتی تھیں، وہ اب ایران کے اندر سے بھی گونجنے لگی ہیں۔ اسرائیل کے خلاف جنگی ماحول میں جب ایران کے حساس اداروں نے موساد کے اندرونی نیٹ ورک کو بے نقاب کیا، تو انکشاف ہوا کہ ان میں کئی ایجنٹ بھارتی شناخت کے ساتھ ایران میں موجود تھے اور یہ شناخت محض سفارتی چالاکی نہیں، بلکہ موساد ایجنٹوں کی یہ موجودگی اسی معاہدے کی سْرنگوں میں چالاکی سے چھپائی گئی تھی۔
برسوں تک تہران بھارت کو تجارتی شراکت دار کے طور پر دیکھتا رہا۔ چاہ بہار بندرگاہ پر بھارتی سرمایہ کاری، افغانستان سے رسائی اور سینٹرل ایشیا تک رسل و رسائل کے خواب دراصل موساد کے لیے ایرانی سرزمین پر دروازے کھولنے کا ذریعہ بنے۔ لیکن جب اسرائیلی حملے گہرے ہوئے اور موساد کی اندرونی جڑوں کی چھان بین کی گئی، تو ایران کو اپنے "اسٹریٹجک پارٹنر" کے دوغلے چہرے کا اندازہ ہوا۔ یہی وہ لمحہ تھا جب تہران نے خاموشی توڑی اور پاکستان کو اس سارے نیٹ ورک کی تفصیلات فراہم کرنا شروع کیں، جسے ہم سادہ زبان میں انٹیلیجنس شیئرنگ کہتے ہیں۔
یہ اشتراک کسی رسمی معاہدے کا حصہ نہیں، نہ ہی عالمی سطح پر اس کا اعلان ہوا ہے، لیکن بلوچستان میں حالیہ آپریشنز نے یہ بات صاف کر دی ہے کہ معلوماتی ہم آہنگی کی نئی راہیں کھلی ہیں۔ سوراب جیسے حساس علاقوں میں بھارتی فنڈڈ گروہوں کے خلاف کارروائیاں نہ صرف مؤثر ثابت ہوئیں بلکہ ان سے یہ بھی معلوم ہوا کہ بھارت نے اپنی سفارتی حیثیت کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان کے اندر دہشت پھیلانے کا ایک نیا ماڈل کھڑا کیا تھا۔ ایرانی سرحد سے اسمگل ہونے والا اسلحہ، کرپٹو فنڈنگ، اور بھارتی ساختہ سیٹلائٹ کمیونیکیشن ڈیوائسز، یہ سب وہ شہادتیں ہیں جو اب بھارتی عزائم کو اقوامِ متحدہ اور دیگر عالمی پلیٹ فارمز پر پیش کیے جانے کے قابل ہو چکی ہیں۔
بھارتی میڈیا میں دنیش ووہرا جیسے تجزیہ نگار اس پالیسی کو کھلی شکست سے تعبیر کر رہے ہیں۔ ان کے بقول، بھارت نے ایران کو اتنا نظر انداز کیا کہ اْس نے اْسے سجا کر چین کے حوالے کر دیا۔ چاہ بہار جو بھارت کی جنوبی ایشیائی برتری کا ایک خواب تھا، اب چین، ایران اور پاکستان کی مشترکہ سوچ کی جھولی میں جا گرا ہے۔ ایران، جو کبھی بھارت کی پراکسی سٹریٹیجی سے لاعلم تھا، اب خود پاکستان کے ساتھ معلوماتی رابطے میں ہے۔ یہی وہ لمحہ ہے جہاں پاکستان کو سفارتی سطح پر مستعدی دکھانے کی ضرورت ہے۔
یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ بھارت صرف سفارتی غلطی کا شکار نہیں بلکہ اس کی کوشش ہے کہ اسرائیل اور امریکہ کی مدد سے پاکستان کے خلاف محاذ کھولا جائے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان اس نئی جنگی حکمتِ عملی کے لیے تیار ہے؟ اگر تیار ہونا ہے تو سب سے پہلے
ہمیں اپنے اندر موجود اْن راستوں کو بند کرنا ہو گا جن سے بھارتی، اسرائیلی یا کسی اور قوت کو مداخلت کا موقع ملتا ہے۔ اب وقت ہے کہ ایران اور پاکستان سرحد پر ایک مکمل جیوفینسنگ نظام، مشترکہ انٹیلیجنس کور اور ملٹری کوآرڈی نیشن سینٹر قائم کریں، تاکہ جو معلومات شیئر ہو رہی ہیں وہ آپریشنل اثر بھی رکھیں۔
پاکستان کو یہ بھی سوچنا ہوگا کہ چاہ بہار جیسے اہم اسٹریٹجک مقام کو اگر بھارت سے مکمل طور پر علیحدہ کرنا ہے تو اس میں ایران کو وہ متبادل تعاون دینا ہوگا جو اْسے معاشی اور سیاسی اعتبار سے بھارت کے بغیر آگے بڑھنے کا اعتماد دے۔ چین پہلے ہی اس میدان میں سرگرم ہے، بنگلہ دیش بھی ایک اہم پارٹنر بن سکتا ہے۔ اگر پاکستان، چین، ایران اور بنگلہ دیش پر مشتمل ایک عملی اقتصادی و دفاعی بلاک کی بنیاد رکھ دی جائے تو بھارت اور اس کے مغربی اتحادیوں کی خطے میں بالادستی کا خواب مستقل طور پر دفن ہو سکتا ہے۔
مگر یہ سب اسی وقت ممکن ہے جب پاکستان اسرائیل کو تسلیم کرنے جیسے مطالبات کے آگے نہ جھکے۔ ابراہم اکارڈز جیسے عالمی منصوبے صرف سفارتی معاہدے نہیں بلکہ نظریاتی غلامی کی زنجیر بھی ساتھ لاتے ہیں۔ اگر پاکستان انہیں تسلیم کرتا ہے تو نہ صرف ایران سے تعلق متاثر ہوگا بلکہ چین جیسا اتحادی بھی شکوک کا شکار ہو سکتا ہے۔ یہ صورتِ حال بھارت کے لیے کسی غیبی نعمت سے کم نہ ہو گی، کیونکہ وہ چاہتا ہی یہی ہے کہ پاکستان تنہائی کا شکار ہو اور عالمی نظام میں امریکہ و اسرائیل کے قریب ہو کر اپنے جیو-پالیٹیکل فیصلوں پر سمجھوتہ کرے۔
آج پاکستان کے پاس سفارتی، عسکری اور معاشی میدان میں ایسے کئی مواقع ہیں جن سے وہ بھارت کی ہر چال کا توڑ کر سکتا ہے۔ سب سے پہلی ضرورت ہے "خود فیصلہ کرنے" کی۔ جب تک ہمارے فیصلے ریاض، ابوظہبی یا واشنگٹن سے مشروط ہوں گے، تب تک ہم نہ ایران کے قریب جا سکیں گے، نہ چین کی مکمل حمایت لے سکیں گے، اور نہ ہی بھارت کے پھیلائے گئے جال کو توڑ سکیں گے۔ ایران نے پہل کی ہے، اور یہ پہل صرف وقتی فائدے کے لیے نہیں بلکہ خطے کے نئے اتحاد کی بنیاد رکھ سکتی ہے۔
یہی وہ لمحہ ہے جسے نظرانداز کرنا تاریخ کا ایک اور ضائع شدہ موقع بن سکتا ہے۔ بلوچستان میں امن و ترقی، ایران سے انٹیلیجنس اشتراک، اور بھارت کے جھوٹے اسٹریٹجک خوابوں کو دفن کرنے کے لیے ہمیں اپنی داخلہ و خارجہ پالیسی کو شفاف، خودمختار اور باوقار بنانا ہو گا۔ یہ ایک مشکل راستہ ہے، لیکن اگر اختیار کیا جائے تو یہ وہ کنواں ثابت ہو سکتا ہے جو ہم نے دشمن کے لیے کھودا تھا، اور اب دشمن ہی اس میں گرتا دکھائی دے رہا ہے۔