رفیع صحرائی
امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی ناکامی کوئی معمولی سفارتی تعطل نہیں بلکہ عالمی سیاست کے اس نازک موڑ کی علامت ہے جہاں سے راستے یا تو امن کی طرف مڑتے ہیں یا پھر تباہی کی گہرائیوں میں اتر جاتے ہیں۔ اصل سوال یہ نہیں کہ بات چیت کیوں ناکام ہوئی؟ بلکہ سوال یہ ہے کہ اب دنیا کس سمت کا انتخاب کرتی ہے؟ وہ تصادم کی طرف چل پڑے گی یا تدبر کی راہ اختیار کرے گی؟
اسلام آباد میں ہونے والی حالیہ پیش رفت نے اس تعطل کو مزید واضح کر دیا۔ امریکی مؤقف کی نمائندگی کرتے ہوئے جے ڈی وینس نے‘‘فائنل آفر’’کی بات کر کے گویا فیصلہ ایران کے کورٹ میں ڈال دیا جبکہ ایرانی ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی اس امر کا اعتراف کیا کہ کئی امور پر اتفاق کے باوجود چند بنیادی نکات نے معاہدے کی راہ روک لی۔ دونوں طرف سے یہ نہیں بتایا گیا کہ وہ کون سے امور تھے جن پر فریقین کے درمیان اتفاق ہو گیا تھا۔ یہ صورتِ حال اس بات کی بھی عکاس ہے کہ مسئلہ محض اختلافات کا نہیں بلکہ اعتماد کے فقدان کا بھی ہے۔ یہ صورتحال محض اختلافِ رائے نہیں بلکہ گہرے عدم اعتماد کی عکاس ہے،ایسا عدم اعتماد جو نصف صدی پر محیط کشیدگی کی پیداوار ہے۔
امریکہ اور ایران کے تعلقات محض دو ریاستوں کے باہمی تنازع تک محدود نہیں بلکہ یہ مفادات، نظریات اور علاقائی بالادستی کی ایک پیچیدہ جنگ ہے۔ ایسی طویل دشمنی میں الفاظ کمزور اور مفادات طاقتور ہو جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب مذاکرات کی میز سجتی بھی ہے تو تکنیکی اختلافات اکثر سیاسی عزم پر غالب آ جاتے ہیں۔ ایسی دشمنی صرف بیانات سے ختم نہیں ہوتی۔ اس کے پیچھے مفادات کی ایک پوری دنیا کھڑی ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فریقین جب مذاکرات کی میز پر آتے بھی ہیں تو تکنیکی نکات سیاسی ارادوں پر غالب آ جاتے ہیں۔
پاکستان نے اس موقع پر ایک ذمہ دار ثالث کا کردار ادا کرنے کی کوشش کی۔ وزیرِاعظم شہباز شریف اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی موجودگی اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ اسلام آباد خطے میں امن کے قیام کے لیے سنجیدہ ہے۔ مگر تاریخ گواہ ہے کہ ایسے تنازعات کا حل ثالثی سے نہیں بلکہ فریقین کے اندرونی عزم اور لچک سے نکلتا ہے۔ جنگ کے دوران ثالث کا کام سہولت کار کا ہوتا ہے جو کوشش کرتا ہے کہ مزید نقصان یا خون خرابہ نہ ہو اور فریقین کسی ایسے میثاق پر متفق ہو جائیں جو امن پر منتج ہو تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ ایسے بڑے فیصلے ثالثوں کے نہیں بلکہ اصل فریقین کے ہاتھ میں ہوتے ہیں۔
یہاں کسی معاہدے پر پہنچنے میں اصل رکاوٹ سفارتی نہیں، بلکہ سیاسی ارادے کی کمزوری دکھائی دیتی ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان
معاہدہ نہ ہونے کے بعد اہم سوالات اپنی جگہ موجود ہیں۔ اگر ایران واقعی ایٹمی ہتھیار بنانے کا ارادہ نہیں رکھتا تو یورینیم افزودگی پر اس قدر اصرار کیوں کر رہا ہے؟ اور اگر امریکہ خطے میں استحکام کا خواہاں ہے تو پرامن ایٹمی پروگرام کے حوالے سے لچک کا مظاہرہ کیوں نہیں کرتا؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کے جواب بیانات میں نہیں بلکہ عملی اقدامات میں تلاش کرنے ہوں گے۔
دنیا کی تاریخ ایک تلخ سبق بار بار دہراتی ہے۔ جنگ کا انجام ہمیشہ یا تو مکمل تباہی ہوتا ہے یا پھر وہی معاہدہ، جسے بہت سا نقصان اٹھانے اور بڑی تعداد میں انسانی جانوں کے ضیاع سے پہلے بھی طے کیا جا سکتا تھا۔ افغانستان، عراق اور شام کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ تباہ حال معاشرے، بکھری ہوئی معیشتیں اور ایک نسل جو عدم استحکام کی کوکھ میں پروان چڑھی۔ کیا دنیا ایک اور ایسا تجربہ دہرانا چاہتی ہے؟
یہ بات بھی اہم ہے کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اثرات صرف دو ممالک تک محدود نہیں رہیں گے۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ، عالمی معیشت میں بے یقینی اور مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کا بگڑتا توازن، یہ سب عوامل پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ جنگ میں سب سے زیادہ قیمت ہمیشہ عام انسان ہی ادا کرتا ہے۔ وہ عام انسان جو نہ تو پالیسی بناتا ہے اور نہ ہی جنگ کا فیصلہ کرتا ہے مگر اس کے نتائج بھگتنے پر مجبور ہوتا ہے۔
یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ عالمی سیاست میں کچھ قوتیں کشیدگی سے فائدہ اٹھاتی ہیں۔ اسلحہ کی صنعت، علاقائی بالادستی کی خواہش اور جغرافیائی سیاست کے پیچیدہ کھیل، یہ سب عوامل امن کے راستے میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ ایسے میں امن کا خواب صرف بیانات سے نہیں بلکہ جرات مندانہ فیصلوں سے حقیقت بن سکتا ہے۔
اس تمام تر پیچیدگی کے باوجود ایک حقیقت نہایت سادہ اور دو ٹوک ہے اور وہ یہ کہ
''امن کا کوئی متبادل نہیں''۔
امریکہ اور ایران دونوں کو چاہیے کہ وہ انا، وقتی مفادات اور داخلی سیاسی دباؤ سے بالاتر ہو کر وسیع تر انسانی مفاد کو ترجیح دیں۔ مذاکرات ناکام ضرور ہوئے ہیں مگر ختم نہیں ہوئے۔ دروازہ ابھی بند نہیں ہوا۔ دروازہ صرف نیم وا ہے، اسے پوری طرح کھولنے کی ضرورت ہے تاکہ حبس ختم ہو اور تازہ ہوا اندر آئے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ امن کے لیے دونوں فریق ایک قدم پیچھے ہٹیں، اپنے مؤقف میں لچک پیدا کریں اور مکالمے کو ایک بار پھر موقع دیں۔ کیونکہ اگر یہ موقع بھی ضائع ہو گیا تو تاریخ شاید ایک اور المیہ رقم کرنے کے لیے تیار بیٹھی ہے اور اس بار اس المیے کی قیمت پوری انسانیت کو چکانی پڑ سکتی ہے۔