پاکستانی دفاعی کامیابی اور بھارتی مشکلات

ارشد مہدی جعفری
جنوبی ایشیا میں اس وقت سفارتی بساط کچھ اس انداز سے بچھی ہے کہ ہر چال خطے کی سیاست کا رخ بدل سکتی ہے۔ ایک طرف بھارت ہے، جو برسوں سے "علاقائی طاقت" بننے کے خواب دیکھتا آیا، اور دوسری طرف پاکستان ہے، جو اپنی دفاعی کامیابیوں اور متوازن خارجہ پالیسی کے ذریعے ایک نیا کردار نبھا رہا ہے۔ آج بھارت کئی عالمی محاذوں پر مشکلات کا شکار ہے، جبکہ پاکستان محتاط مگر کامیاب حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔
یہ کوئی اچانک پیش رفت نہیں۔ اس کی جڑیں تاریخ میں گہری ہیں۔ پاکستان نے 6 جنوری 1950ء￿  کو عوامی جمہوریہ چین کو تسلیم کر کے ایک سنگ میل عبور کیا، اور یوں چین کو تسلیم کرنے والا پہلا مسلم ملک بن گیا۔ صرف ڈیڑھ سال بعد، 21 مئی 1951ء￿  کو دونوں ممالک کے درمیان باضابطہ سفارتی تعلقات قائم ہوئے۔ ابتدا میں یہ تعلقات محدود نوعیت کے تھے، مگر بدلتے عالمی حالات کے ساتھ دونوں ممالک ایک دوسرے کے قریب آتے گئے۔
1960 کی دہائی میں یہ تعلقات ایک نئے دور میں داخل ہوئے۔ 1963 میں سرحدی معاہدے نے جغرافیائی تنازعات ختم کیے، اور 1964 میں کاراکورم ہائی وے کی تعمیر شروع ہوئی، جو آج بھی پاک–چین دوستی کی پہچان ہے۔ 1965 کی جنگ میں چین نے پاکستان کی سیاسی اور سفارتی حمایت کی، اور 1980 کی دہائی میں جوہری منصوبوں میں تعاون نے دونوں ملکوں کے رشتے کو مزید مضبوط کر دیا۔
پاکستان کی کہانی صرف چین کے ساتھ تعلقات تک محدود نہیں۔ آزادی کے فوراً بعد 1947ء￿  میں پاکستان نے امریکہ سے بھی تعلقات قائم کیے۔ سرد جنگ کے دور میں پاکستان نے SEATO اور CENTO جیسے امریکی اتحادی بلاکس میں شمولیت اختیار کی، جس کے نتیجے میں معاشی اور دفاعی امداد ملی۔ اس وقت دنیا دو بڑے گروپوں میں بٹی ہوئی تھی، ایک طرف امریکہ اور اس کے اتحادی، اور دوسری طرف سوویت یونین اور اس کا کیمپ۔ پاکستان نے اْس وقت امریکہ کا ساتھ دیا، مگر 1970 کی دہائی میں ذوالفقار علی بھٹو نے زیادہ متوازن پالیسی اپنائی، CENTO سے نکل کر چین کے ساتھ تعلقات کو مضبوط کیا اور امریکہ سے بھی روابط برقرار رکھے۔
یہی متوازن رویہ آج بھی پاکستان کی خارجہ پالیسی کی بنیاد ہے۔ دفاعی اور تجارتی معاملات میں جھکاؤ چین کی طرف ہے، مگر امریکہ کے ساتھ بھی تعلقات کو ٹوٹنے نہیں دیا گیا۔ یہی "توازن کی پالیسی" پاکستان کو خطے میں ایک منفرد مقام دیتی ہے۔
ادھر بھارت کی صورتحال مختلف ہے۔ امریکہ کے سابق صدر ٹرمپ کھل کر یوکرین کے اس مؤقف کی تائید کر چکے ہیں کہ بھارت روس سے جو تیل خرید رہا ہے، اس کی آمدنی یوکرین کے خلاف جنگ میں استعمال ہو رہی ہے۔ اس معاملے نے واشنگٹن اور نئی دہلی کے درمیان فاصلے پیدا کیے ہیں۔ وہی بھارت جو کل تک "اکھنڈ بھارت" کے خواب دیکھ رہا تھا اور امریکہ کی سیاسی حمایت پر نازاں تھا، آج کئی معاملات پر امریکہ سے بائیکاٹ کی راہ پر ہے۔
پاکستان کے لیے یہ صورتحال ایک موقع بھی ہے اور ایک چیلنج بھی۔ ایک طرف امریکہ اور چین دونوں کے ساتھ تعلقات رکھنا آسان نہیں، دوسری طرف یہ توازن ہی پاکستان کو عالمی بساط پر اہم بناتا ہے۔ 2013 میں شروع ہونے والا پاک–چین اقتصادی راہداری (CPEC) اسی توازن کا ایک بڑا ستون ہے۔ یہ منصوبہ چین کے "بیلٹ اینڈ روڈ" کا حصہ ہے، جس کے تحت توانائی، سڑکوں، ریل اور صنعتی شعبوں میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی۔ 2006 اور 2019 کے آزاد تجارتی معاہدوں نے دو طرفہ تجارت کو ریکارڈ بلندیوں تک پہنچایا، اور 2023 میں یہ تقریباً 20.76 ارب ڈالر تک جا پہنچی۔
دفاعی شعبے میں چین پاکستان کا سب سے بڑا شراکت دار ہے۔ جدید ٹینک، JF-17 لڑاکا طیارے اور بحری جہازوں کی تیاری میں چین کا کردار بنیادی ہے۔ دوسری جانب، امریکہ کے ساتھ تعلقات کا ایک طویل پس منظر ہے۔ کئی دہائیوں تک امریکہ پاکستان کو عسکری اور معاشی امداد دیتا رہا، اگرچہ بعض اوقات پابندیاں اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اختلافات بھی سامنے آئے۔ اس کے باوجود دفاع، تجارت اور انسداد دہشت گردی میں تعاون جاری رہا۔
ادھر بھارت کی مشکلات بڑھ رہی ہیں۔ عوام اور اپوزیشن اپنی حکومت سے شکوہ کر رہے ہیں کہ اس نے ملک کو عالمی سطح پر مشکل میں ڈال دیا ہے۔ اسی دباؤ سے نکلنے کے لیے آپریشن سندور کے آغاز کے تین ماہ بعد بھارتی ایئرچیف نے ایک ویڈیو جاری کی، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ بھارت نے پاکستان کے پانچ جنگی طیارے گرائے ہیں۔ نہ کوئی صحافی موجود، نہ کوئی ثبوت، اور ویڈیو کا معیار اتنا کمزور کہ عام ناظر بھی اسے غیر سنجیدہ قرار دے۔ بھارتی اعلیٰ عہدیداران، ملٹری اتاشی سمیت عالمی مبصرین تک مانتے ہیں کہ اس معاملے میں پاکستان کو واضح برتری حاصل ہوئی۔ اسکور 0-6 کے طور پر بیان کیا جا رہا ہے۔
دوسری طرف پاکستان عملی کامیابیاں سمیٹ رہا ہے۔ 9 اگست 2025 کو بلوچستان کے علاقے غز نالہ میں 46 دہشت گرد مارے گئے، اور کسی نے لاشیں لینے کی ہمت نہ کی۔ یہ کارروائی پاکستان کی عسکری صلاحیت اور سرحدی حفاظت کی واضح مثال ہے۔
دنیا پاکستان کی موجودہ پالیسی کو "محتاط توازن" کے طور پر دیکھتی ہے۔ کچھ ماہرین CPEC کو قرض کا بوجھ کہتے ہیں، کچھ اسے ترقی کا موقع سمجھتے ہیں۔ امریکہ کے ساتھ کسی بڑے معاہدے کو چین احتیاط سے دیکھتا ہے، تاکہ یہ توازن بگڑ نہ جائے۔ بھارت اور افغانستان کی طرف سے اندرونی خلفشار پیدا کرنے کی کوششیں جاری ہیں، مگر پاکستان کے ادارے اس سے نمٹنے کے لیے یکجا ہیں۔
آگے کا منظرنامہ دلچسپ مگر پیچیدہ ہے۔اگر بھارت اور امریکہ کے تعلقات مزید خراب ہوئے تو بھارت کی چین کے قریب جانے کی کوشش صرف سیاسی نہیں بلکہ اقتصادی محرکات سے بھی جڑی ہو سکتی ہے۔ یہ جنوبی ایشیا میں طاقت کے توازن کو بدل سکتا ہے۔ پاکستان کے لیے یہ ایک طرف کشیدگی کم کرنے کا موقع ہو سکتا ہے، لیکن خطرہ اس وقت پیدا ہوگا جب چین بھارت کو پاکستان پر ترجیح دے۔ اگرچہ چین کے لیے بھارت پر مکمل اعتماد کرنا مشکل ہوگا، مگر سفارتکاری میں کچھ بھی ناممکن نہیں۔ چین بھارت کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے، اور دونوں کے درمیان سالانہ تجارت 120 ارب ڈالر سے زائد ہے، اگرچہ توازن چین کے حق میں ہے۔ تاہم، دونوں ممالک کے درمیان ڈوکلام، لداخ اور اکسائی چن جیسے سرحدی تنازعات اور حالیہ سرحدی جھڑپیں ایک بڑی رکاوٹ ہیں، جو اس ممکنہ قربت کو مکمل شراکت داری میں بدلنے سے روکتی ہیں۔
تاہم، پاکستان کو عالمی بساط پر اپنی پوزیشن مضبوط رکھنے کے لیے اندرونی محاذ پر کئی چیلنجز کا سامنا ہے۔ معاشی بدحالی، غیر یقینی سیاسی ماحول اور مہنگائی عوامی دباؤ میں اضافہ کرتے ہیں۔ اگر یہ داخلی مسائل حل نہ ہوئے تو بیرونی کامیابیاں بھی دیرپا اثر نہیں ڈال سکیں گی۔ اس لیے دفاعی اور سفارتی کامیابیوں کے ساتھ ساتھ معاشی استحکام اور سیاسی ہم آہنگی ناگزیر ہیں۔
پاکستان کے لیے بہترین راستہ یہی ہے کہ پرانے دوست چین کو ساتھ رکھتے ہوئے امریکہ کے ساتھ تعلقات میں گرمجوشی برقرار رکھی جائے۔ یہ سفر آسان نہیں، اگر اندرونی استحکام کے ساتھ آگے بڑھا جائے تو پاکستان نہ صرف خطے کا بلکہ عالمی سیاست کا ایک مضبوط اور خودمختار کھلاڑی بن سکتا ہے۔ پاکستان کے لیے اندرونی استحکام اب بھی ایک اہم چیلنج ہے، مگر اللہ رب العزت کی مدد سے موجودہ پیش رفت اور قومی عزم کے ساتھ یہ ہدف قریب آتا جا رہا ہے۔