بچوں میں آئٹزم کا بڑھتا رجحان اور ریاست کی ذمہ داری

محمد ندیم بھٹی
آٹزم ہمارے معاشرے میں آج بھی خوف، غلط فہمی اور لاعلمی کی علامت سمجھا جاتا ھے۔ جیسے ہی کسی بچے کے بارے میں یہ تشخیص سامنے آتی ھے، والدین کے ذہن میں سب سے پہلے مایوسی، بے بسی اور مستقبل کے اندیشے جنم لیتے ہیں۔ رشتے دار، ہمسائے اور غیر ذمہ دارانہ مشورے دینے والے افراد آٹزم کو ایک ایسا لیبل بنا دیتے ہیں جس کے بعد گویا زندگی رک سی جاتی ھے۔ حالانکہ حقیقت اس تصور سے مختلف ھے۔ جدید تحقیق، عالمی تجربات اور عملی مثالیں یہ ثابت کر چکی ہیں کہ آٹزم کوئی انجام نہیں بلکہ ایک مرحلہ ھے، اور اگر اس مرحلے کو سمجھ داری سے عبور کیا جائے تو بہتری کے امکانات نہ صرف موجود ہیں بلکہ کئی صورتوں میں غیر معمولی بھی ثابت ھوتے ہیں۔
سب سے پہلے یہ بات سمجھنا ضروری ھے کہ آٹزم کوئی بیماری نہیں بلکہ دماغی نشوونما سے متعلق ایک کیفیت ھے۔ یہی بنیادی فرق اگر والدین اور معاشرہ ذہن نشین کر لے تو آدھا مسئلہ وہیں حل ھو جاتا ھے۔ بیماری کا تصور ذہن میں آتے ہی ہم علاج کو صرف دوائی تک محدود کر دیتے ہیں، جبکہ آٹزم میں اصل کردار تربیت، ماحول، رویّے اور قبولیت ادا کرتے ہیں۔ آٹزم سپیکٹرم ڈس آرڈر کا مطلب بھی یہی ھے کہ اس کی شدت ہر بچے میں مختلف ھوتی ھے۔ کوئی بچہ معمولی تاخیر کا شکار ھوتا ھے، کوئی بات چیت میں دقت محسوس کرتا ھے اور کوئی سماجی میل جول سے گریز کرتا ھے، مگر ان سب میں بہتری کے راستے بند نہیں ھوتے۔
آٹزم کے بہتر ھونے کے چانسز کا سب سے اہم پہلو بروقت تشخیص ھے۔ ماہرین کے مطابق اگر دو سے تین سال کی عمر میں علامات پہچان لی جائیں تو بچے کی زندگی کا رخ بدلا جا سکتا ھے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں اکثر والدین یہ کہہ کر خود کو تسلی دیتے رہتے ہیں کہ بچہ ابھی چھوٹا ھے، خود ہی بولنا سیکھ جائے گا۔ یہی تاخیر بعد میں سب سے بڑی رکاوٹ بن جاتی ھے اور قیمتی وقت ضائع ھو جاتا ھے۔
آٹزم میں اسپیچ تھراپی بنیادی حیثیت رکھتی ھے۔ بول چال اور اظہارِ خیال انسان کو معاشرے سے جوڑتا ھے۔ آٹزم کے شکار بچے جب اپنی بات نہیں کہہ پاتے تو ان کی جھنجھلاہٹ رویّہ جاتی مسائل کی صورت میں سامنے آتی ھے۔ باقاعدہ اسپیچ تھراپی بچے کو نہ صرف بولنا سکھاتی ھے بلکہ وہ اپنی خوشی، غصہ اور ضرورت کا اظہار بھی سیکھتا ھے۔ دنیا بھر میں ایسی ہزاروں مثالیں موجود ہیں جہاں خاموشی سے آغاز کرنے والے بچے مناسب تھراپی کے بعد اسکول تک پہنچے اور عام زندگی گزارنے لگے۔
اوکیوپیشنل تھراپی آٹزم میں بہتری کا دوسرا مضبوط ستون ھے۔ یہ تھراپی بچے کو روزمرہ زندگی کے کاموں کے قابل بناتی ھے۔ خود کھانا کھانا، کپڑے پہننا، چیزیں پکڑنا، لکھنا، کھیلنا اور دوسروں کے ساتھ بیٹھنا وہ صلاحیتیں ہیں جو ایک بچے کو خودمختار بناتی ہیں۔ جب بچہ خود اپنے کام انجام دینے لگتا ھے تو اس کا اعتماد بڑھتا ھے اور یہی اعتماد اس کی مجموعی نشوونما کی بنیاد بنتا ھے۔
آٹزم کے بہتر ھونے میں والدین کا کردار سب سے زیادہ فیصلہ کن ھے۔ ہمارے معاشرے میں کئی والدین سماجی دباؤ یا شرمندگی کے باعث بچے کو محدود کر دیتے ہیں، تقریبات میں لے جانا چھوڑ دیتے ہیں اور یوں نادانستہ طور پر اس کی مشکلات میں اضافہ کر دیتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق مثبت سماجی ماحول، مستقل مزاجی اور والدین کی عملی شمولیت آٹزم میں بہتری کے امکانات کو کئی گنا بڑھا دیتی ھے۔

تعلیمی نظام بھی اس حوالے سے ہماری اجتماعی ناکامی کی عکاسی کرتا ھے۔ Inclusive Education کا تصور ابھی تک ہمارے ہاں پوری طرح نافذ نہیں ھو سکا۔ زیادہ تر اسکول خصوصی بچوں کو بوجھ سمجھتے ہیں، حالانکہ دنیا کے کئی ممالک میں آٹزم کے بچے عام بچوں کے ساتھ تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور عملی زندگی میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔ تھوڑی سی تربیت اور لچک ہمارے تعلیمی اداروں کو بھی اس قابل بنا سکتی ھے۔
یہ تاثر بھی غلط ھے کہ آٹزم کے شکار بچے کسی صلاحیت سے محروم ھوتے ہیں۔ حقیقت یہ ھے کہ کئی بچوں میں غیر معمولی یادداشت، فوکس اور تجزیاتی صلاحیت پائی جاتی ھے۔ مسئلہ صلاحیت کا نہیں، پہچان اور رہنمائی کا ھے۔
غذا اور طرزِ زندگی بھی آٹزم میں بہتری کے عمل کو سہارا دیتے ہیں۔ متوازن غذا، غیر ضروری شوگر اور اسکرین ٹائم کی حد بندی بچے کے رویّوں پر مثبت اثر ڈال سکتی ھے۔ یہ علاج نہیں، مگر بہتری کے سفر میں معاون ضرور ھے۔
یہ بھی سمجھنا ضروری ھے کہ آٹزم میں ‘‘ٹھیک ھونا’’ ہمیشہ مکمل نارمل ھو جانے کا نام نہیں۔ اصل کامیابی یہ ھے کہ بچہ اپنی صلاحیت کے مطابق بہتر زندگی گزار سکے، بات چیت کر سکے اور خود کو سنبھال سکے۔
اب سوال یہ ھے  ریاست کہاں کھڑی ھے؟ حقیقت یہ ھے کہ آٹزم جیسے حساس مسئلے پر انفرادی کوششیں کافی نہیں۔ یہاں حکومتی پالیسی اور سہولت ناگزیر ھے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صحت کے شعبے میں جس سنجیدگی کا مظاہرہ کیا ھے، وہ قابلِ تحسین ھے۔ اب وقت آ گیا ھے کہ اس وڑن کو آٹزم جیسے نظر انداز شدہ شعبے تک بھی وسعت دی جائے۔
یہ ایک سنجیدہ اور بروقت مشورہ ھے کہ مریم نواز شریف سوشل سیکورٹی ہسپتالوں میں آٹزم کی تشخیص، اسپیچ تھراپی اور اوکیوپیشنل تھراپی کے باقاعدہ یونٹس فعال کروائیں۔ سوشل سیکورٹی ہسپتال مزدور طبقے اور کم آمدنی والے خاندانوں کی آخری امید ھوتے ہیں۔ نجی مراکز کی بھاری فیسیں عام آدمی کے بس سے باہر ہیں، جس کے باعث ہزاروں بچے بہتری کے مواقع سے محروم رہ جاتے ہیں۔ اگر سوشل سیکورٹی کے نظام میں یہ سہولت شامل کر دی جائے تو یہ فیصلہ ہزاروں خاندانوں کے لیے زندگی بدل دینے والا ثابت ھو سکتا ھے۔
یہ محض ایک انتظامی قدم نہیں بلکہ ایک سماجی اصلاح ھوگی۔ مزدور کا بچہ بھی اتنا ہی قیمتی ھے جتنا کسی صاحبِ حیثیت کا۔ اگر ریاست اس حقیقت کو تسلیم کر لے تو آٹزم کے بہتر ھونے کے چانسز عملی حقیقت بن جائیں گے۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ھے کہ آٹزم مایوسی کا نام نہیں۔ یہ ایک چیلنج ضرور ھے، مگر ایسا چیلنج جس کا مقابلہ علم، صبر اور درست حکمتِ عملی سے کیا جا سکتا ھے۔ جو والدین ہمت نہیں ہارتے، جو معاشرہ قبولیت سیکھتا ھے اور جو ریاست ذمہ داری لیتی ھے، وہی آٹزم کے شکار بچوں کو بہتر مستقبل دے سکتی ھے۔