وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے لاہور میں پاکستان کی پہلی مکمل الیکٹرک وہیکل (ای وی) بس سروس کا افتتاح کیا ہے۔
یہ بسیں ماحول دوست اور جدید سہولیات سے مزین ہیں، جن میں جی پی ایس لوکیشن ریکارڈر، وائی فائی، یو ایس بی پورٹس، اور خصوصی افراد کے لیے ریمپ شامل ہیں۔ ہر بس میں 30 نشستیں ہیں اور مجموعی طور پر 80 مسافروں کی گنجائش ہے۔ بسوں کے لیے گرین ٹاؤن میں چارجنگ اسٹیشن قائم کیا گیا ہے، جہاں ایک بار چارج کرنے پر یہ بسیں 250 کلومیٹر تک سفر کر سکتی ہیں۔ لاہور کے 21 کلومیٹر طویل روٹ پر 27 الیکٹرک بسیں چلائی جائیں گی، جو ریلوے اسٹیشن سے گرین ٹاؤن تک کوئینز روڈ، مزنگ، فیروز پور روڈ، کیمپس پل اور اچھرہ نہر کے راستے سے گزریں گی۔ مسافروں کی سہولت کے لیے 42 جدید بس شیلٹرز بھی قائم کیے گئے ہیں، جہاں ہر 9 منٹ بعد بس دستیاب ہوگی۔
کرایہ کی ادائیگی ڈیجیٹل والٹ یا کارڈ کے ذریعے ممکن ہوگی، اور ایک مخصوص ایپ کے ذریعے بس کی ٹریکنگ بھی کی جا سکے گی۔ اس منصوبے کے تحت روزانہ 17 ہزار مسافر سفر کر سکیں گے۔تاہم، اس اعلان کے بعد سندھ کے وزیر اطلاعات و ٹرانسپورٹ، شرجیل انعام میمن نے وضاحت کی کہ سندھ حکومت نے جنوری 2023 میں ہی الیکٹرک بسیں متعارف کروا دی تھیں، اس لیے پنجاب دوسرا صوبہ ہے جو یہ سروس شروع کر رہا ہے۔مزید برآں، فیصل آباد اور بہاولپور کے لیے بھی الیکٹرک بسوں کے ٹینڈرز جاری کیے گئے ہیں، جو پنجاب بھر میں ماحول دوست ٹرانسپورٹ کے فروغ کی نشاندہی کرتے ہیں۔