لندن: چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیر سرکاری دورے پر برطانیہ میں موجود ہیں، جہاں وہ رائل ملٹری اکیڈمی سینڈہرسٹ میں منعقدہ ساتویں ریجنل اسٹیبلائزیشن کانفرنس میں شرکت کریں گے۔
اہم خطاب:
آئی ایس پی آر کے مطابق، آرمی چیف اس کانفرنس میں "ابھرتا ہوا عالمی نظام اور پاکستان کا مستقبل" کے موضوع پر کلیدی خطاب کریں گے۔یہ کانفرنس ہر سال منعقد کی جاتی ہے اور پاکستان و برطانیہ کے درمیان دفاعی تعلقات کو مستحکم کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ اس میں سول و عسکری پالیسی ساز، معروف تھنک ٹینکس کے ارکان اور دیگر اعلیٰ حکام شرکت کرتے ہیں۔
استقبالیہ اور ملاقاتیں:
دورے کے پہلے روز، جنرل سید عاصم منیر کو شاہی ہارس گارڈز پریڈ گراؤنڈ میں ایک شاندار استقبالیہ دیا گیا اور انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔
اس دورے کے دوران آرمی چیف برطانیہ کی اہم سول و عسکری قیادت سے ملاقاتیں کریں گے، جن میں شامل ہیں:
برطانوی چیف آف ڈیفنس اسٹاف ایڈمرل ٹونی ریڈیکن
برطانوی آرمی کے چیف آف جنرل اسٹاف جنرل سر رولینڈ واکر
برطانیہ کے نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر جوناتھن نکولس پاول
برطانوی ہوم سیکرٹری یویٹ کوپر
ملاقاتوں میں باہمی چیلنجز، دو طرفہ دفاعی تعاون، خطے کی سیکیورٹی صورتحال اور مشترکہ اقدامات پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
پاکستان اور برطانیہ کے تعلقات:
پاکستان اور برطانیہ کے تعلقات دیرینہ تاریخی بنیادوں پر استوار ہیں اور دونوں ممالک دفاع، سفارت کاری، معیشت اور انسدادِ دہشت گردی میں قریبی تعاون جاری رکھے ہوئے ہیں۔
عسکری تربیت اور دفاعی تعاون:
پاکستان اور برطانیہ کی افواج کے درمیان خاص طور پر انسدادِ دہشت گردی اور پیشہ ورانہ تربیت کے میدان میں گہرا تعاون ہے۔ آرمی چیف کے اس دورے میں برطانوی فوج کی جدید حکمتِ عملیوں اور اصلاحات پر بھی غور کیا جائے گا۔
برطانوی فوجی تنصیبات کا دورہ:
جنرل عاصم منیر اپنے دورے کے دوران برطانوی فوج کی اہم یونٹس جیسے کہ لینڈ وارفیئر سینٹر اور 1st اسٹرائیک بریگیڈ کا بھی دورہ کریں گے، جہاں انہیں برطانوی فوج کی جدید حکمت عملیوں اور آپریشنل تیاریوں پر بریفنگ دی جائے گی۔
دورے کی اہمیت:
یہ دورہ پاکستان اور برطانیہ کے درمیان دفاعی و سیکیورٹی تعاون کو مزید مستحکم کرنے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے مشترکہ کوششوں کی عکاسی کرتا ہے۔