2017ء میں میری بات مان لیتے تو 5 سال تک کشکول لے کر نہ پھرنا پڑتا اسحاق ڈار

ٓٓآئی ایم ایف پروگرام کامیابی سے مکمل کیا تھا‘ پاکستان دنیا کی 24 ویں بڑی معیشت بن چکا تھا لیکن اس کے بعد ملک دیوالیہ ہونے کے دہانے پر جا پہنچا‘ سیاسی حالات کی پیچیدگیوں کے باوجود پاکستان کو دیوالیہ ہونے سے بچایا گیا

   ملک میں آج شہادتیں سرحد پار بھاگنے والے دہشتگردوں کو واپسی کی اجازت  اور قاتلوں کو جیلوں سے چھوڑنے کا نتیجہ ہے،  فلسطین کا مسئلہ پاکستان اور مسلم دنیا دونوں کے لیے اولین ترجیح ہے:نیویارک میں   او آئی سی  اجلاس  اور  پاکستانی کمیونٹی سے خطاب     
 نیویارک(آئی این پی ) نائب وزیر اعظم ووزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے کہا ہے  ملک میں آج ہونیوالی شہادتیں سرحد پار بھاگنے والے دہشتگردوں کو واپسی کی اجازت دینے اور قاتلوں کو جیلوں سے چھوڑنے کا نتیجہ ہے،   فتنہ الخوارج افغان سرزمین سے پاکستان پر کارروائیوں میں مصروف ہیں،  2017 میں میری بات مانی گئی ہوتی تو پاکستان 5 سال کشکول لے کر نہ پھرتا اور پاکستان کو دیوالیہ ہونے کا کوئی خطرہ نہ ہوتا، پاکستان میں اتنی لچک موجود ہے لیکن ہم خود اپنے دشمن بن جاتے ہیں، پاکستان او آئی سی کو اپنا بنیادی حلقہ سمجھتا ہے،  فلسطین کا مسئلہ پاکستان اور مسلم دنیا دونوں کے لیے اولین ترجیح ہے،پاکستان او آئی سی کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے،  فلسطین کے دو ریاستی کیلئے اقدامات  کئے جائیں۔ان خیالات کااظہار انہوں نینیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹرز میں او آئی سی  اجلاس  اور  پاکستانی کمیونٹی سے خطاب   کرتے ہوئے کیا ۔ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ  غزہ میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں ہوئیں،غزہ میں سیز فائر پر عملدرآمد کیلئے ڈپلومیٹک راستے اپنانا ہوں گے،غزہ کی بحالی کیلئے سب کو اپنا کردارادا کرنا ہوگا، اسرائیل لبنان میں مسلسل مسلح کارروائیاں جاری رکھیہوئے ہے، مغربی کنارے میں اسرائیلی جارحیت کو روکنے کیلئے اقدامات ضروری ہیں۔نائب وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مسئلہ فلسطین کا واحد حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے، غزہ کے حوالے سے اسرائیل سیز فائر معاہدے کی پاسداری یقینی بنائے، غزہ کی جنگ نے فلسطینی عوام کے لیے تبا ہ کن نتائج پیدا کیے ہیں، فلسطین کے مفادات اورعرب ومسلم امہ کے مقاصد کو محفوظ رکھنے کیلئے کام کرنا چاہیے، پاکستان غزہ میں جنگ بندی معاہدے کیتحفظ کیلئے سفارتکاری کی حمایت کرتا ہے۔اسحاق ڈار نے کہا کہ غزہ میں جنگ بندی معاہدے کے دوسرے وتیسرے مرحلے کے نفاذ کیلئے سفارتکاری کی حمایت کرتے ہیں، ہمیں غزہ کے عوام کو مناسب انسانی امداد کی فراہمی کو یقینی بنانا چاہیے، فلسطینیوں کو بے دخل کرنے کی تجاویز کی سختی سے مخالفت کرنی چاہیے، مغربی کنارے میں اسرائیل کی پر تشدد،بیدخلی کی مہم کو ختم کرنے کیلئے اقدامات کرنے چاہئیں۔وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ ہمیں دوریاستی حل کے حصول کے لیے ٹھوس اقدامات کا آغاز کرنے چاہئیں، سعودی عرب کے جاری کردہ بیان کی توثیق کرنی چاہیے، سعودی عرب فلسطینی ریاست کے قیام کو لازمی شرط قراردیتا ہے، او آئی سی کو اجتماعی طور پر اقوام متحدہ کی مکمل رکنیت کے لیے دبا ڈالنا چاہیے، ہمیں دوریاستی حل کو ناگزیر بنانا چاہیے۔