ٹرمپ کی خارجہ پالیسی:عالمی احتجاج اورتنقید

سمیع اللہ ملک (آخری قسط)
وائٹ ہاؤس کاکہناہے کہ یہ فیصلہ چین،کینیڈااورمیکسیکوکوامریکامیں زہریلی ادویات کی اسمگلنگ روکنے کے وعدوں پرعمل درآمدکیلئے جوابدہ ٹھہرانے کیلئے کیاگیاہے۔تاہم،ناقدین کے مطابق،یہ اقدام دراصل امریکی معیشت کوتحفظ دینے اورملکی صنعتوں کوفروغ دینے کیلئے کیاگیاہے۔اس کے علاوہ،اس پالیسی سے امریکاکی اندرونی سیاست پربھی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں،خاص طورپران ریاستوں میں جہاں صنعتیں درآمدات پرمنحصرہیں۔
ٹرمپ کے اس اعلان کے بعدکہ’’غیرقانونی تارکینِ وطن کوگوانتاناموبے کیمپ میں بھیج دیاجائے‘‘اس حکم نامے کے جاری ہونے کے بعدجہاں غیرقانونی تارکینِ وطن میں سخت تشویش اوراضطراب پیداہوگیاہے وہاں عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی انسانی ہمدردیوں کی بناپراسے مؤخرکرنے کامشورہ دیاہے۔یادرہے کہ اس فیصلے کے بعداب تک 8 ہزارسے زائدافرادامریکاچھوڑ چکے ہیں،جس کے نتیجے میں سستی لیبرکی قلت پیداہوگئی ہے۔اس قلت کے باعث امریکی صنعتوں،خصوصازرعی اورتعمیراتی شعبے میں مشکلات پیدا ہورہی ہیں۔مزدوروں کی کمی کے باعث امریکی مصنوعات کی پیداواری لاگت میں اضافہ ہوسکتاہے،جس سے کاروباروں پردبا بڑھے گا۔امریکی عوام کی قوت خریدپربھی برااثر پڑے گااوریہ بھی عین ممکن ہے کہ مہنگائی کادورجرائم میں بھی اضافہ کردے،اس لئے کسی بھی طورپرعجلت کامظاہرہ کرنے کی بجائے ان غیر قانونی تارکین وطن کوقانونی طورپر معافی دیکرامریکی ٹیکس گاروں میں اضافہ کرکے ملکی معیشت کوسنبھالادیاجائے۔ 
امریکااورہالینڈنے پاکستان میں قائم ایک بڑے سائبرکرائم نیٹ ورک کوختم کرنے کادعویٰ کیاہے۔اس نیٹ ورک کے خاتمے کے ساتھ ہی امریکی امدادسے چلنے والے درجنوں پروگرامزکوبھی بندکرنے کاحکم دیاگیاہے۔اس اقدام کے پاکستان میں ڈیجیٹل معیشت پرکیامنفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں اورہم ان منفی اثرات سے بچنے کیلئے کیامؤثراقدامات اٹھاسکتے ہیں،ایک مفصل مضمون اس کیلئے درکارہوگالیکن صرف چند اشاریے عرض کئے دیتاہوں:
جیساکہ ہم سب جانتے ہیں کہ ڈیجیٹل معیشت کسی بھی ملک کی ترقی میں اہم کرداراداکرتی ہے اورپاکستان میں بھی اس شعبے کی ترقی پرخصوصی توجہ دی جارہی ہے۔تاہم سائبر سیکیورٹی کے مسائل سے بھی ہم دوچارہیں لیکن اس کے ساتھ ہی ہمارے ملک میں سوشل میڈیاکے غلط استعمال نے سیاسی انارکی میں بے حداضافہ کردیاہے،اس کے تدارک کیلئے موجودہ حکومت کی پالیسیوں میں تبدیلی جیسے عوامل پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت پرمنفی اثرات ڈال رہے ہیں۔پاکستانی آئی ٹی سیکٹرکے کاروباری نقصانات میں دن بدن اضافہ ہوتا جارہاہے اورآئی ٹی سیکٹرجوکسی بھی ترقی یافتہ مملک کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی تصورکی جاتی ہے، پاکستان میں تیزی سے ترقی کرتی ہوئی یہ صنعت کاسانس بندہوتادکھائی دے رہا ہے اوربیرونِ ملک سے حاصل کردہ پراجیکٹس کو بروقت مکمل کرنے کیلئے پریشان ہیں۔یقیناان تمام مشکلات اورڈیجیٹل جرائم سے نمٹنے کیلئے نئی حکمتِ عملی کی ضرورت ہے جس کیلئے کئی مرتبہ ان صفحات پرطریقہ کارپر بھی بحث کرچکاہوں۔
اگرآپ کویادہوتوٹرمپ کی انتخابی مہم کے دوران کیے گئے وعدوں میں نیٹوسے علیحدگی کاامکان ظاہرکیاگیاتھا۔یقیناٹرمپ انتطامیہ اس سے بھی واقف ہوگی کہ اگرامریکانیٹوسے لاتعلق ہوجاتاہے تواس کے کیااثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔نیٹومیں امریکاکی شمولیت کابنیادی مقصدیورپی اتحادیوں کوتحفظ فراہم کرناہے۔علیحدگی سے یورپی یونین کے دفاعی نظام پردبابڑھے گا۔نیٹوکی کمزوری کا براہ راست فائدہ روس کوہوسکتاہے،خاص طورپریوکرین جنگ میں اس کی پوزیشن مزیدمضبوط ہوسکتی ہے۔گرین لینڈکے معاملے پرامریکااور ڈنمارک کے تعلقات پہلے ہی کشیدہ ہیں۔نیٹوکے دیگرممبران ڈنمارک کے ساتھ کھڑے ہوں گے،جس سے امریکاکیلئے سفارتی مسائل پیداہوسکتے ہیں۔
یوکرین پرروسی حملے کے بعدامریکانیٹوکے ساتھ مل کریوکرین کی بھرپورمددکررہاہے تاہم،ٹرمپ انتظامیہ یہ سمجھتی ہے کہ ممکنہ پالیسیاں اس خطے میں جنگ کی بجائے معاشی پابندیوں سے یوکرین میں ہوتی ہوئی شکست اورروس کے بڑھتے اقدام کو روکاجاسکتاہے۔ٹرمپ نیٹوپرانحصارکم کرنے کے نظریے پریقین رکھتے ہیں جس کے باعث یوکرین کیلئے امریکی امدادمیں کمی آ سکتی ہے۔ٹرمپ کی خارجہ پالیسی زیادہ ترمعاشی وتجارتی تعلقات پرمرکوزہوسکتی ہے،جس کے نتیجے میں روس کے ساتھ مذاکرات اورممکنہ معاہدے کاامکان بڑھ سکتا ہے۔امریکاکی ممکنہ پسپائی سے یورپ کواپنی دفاعی حکمت عملی پرنظرثانی کرنی پڑے گی،جس سے نیٹوکے اندرتناؤپیداہوسکتاہے۔
ٹرمپ کے غزہ کے بارے میں بیانات نے عرب ممالک میں تشویش پیداکردی ہے۔ان کے سابقہ دورمیں مشرق وسطی میں امریکی پالیسی اسرائیل نوازرہی ہے،جس کے دوبارہ ممکنہ اطلاق سے خطہ دوبارہ بدامنی کی طرف لوٹ سکتاہے جس کے پہلے سے کہیں زیادہ مضراثرات ہوسکتے ہیں۔سعودی عرب،متحدہ عرب امارات،اردن،مصرکے علاوہ دیگر خلیجی ممالک امریکی پالیسی سے مزیددورہوسکتے ہیں۔اگرامریکااسرائیل کی مکمل حمایت جاری رکھتاہے،توفلسطین کی صورتحال مزیدخراب ہوسکتی ہے۔ علاوہ ازیں ایران اورامریکاکے تعلقات مزیدکشیدہ ہوسکتے ہیں،جس کے نتیجے میں خطے میں عدم استحکام بڑھے گا۔آئندہ آنے والے وقت میں اسی خطے میں اسرائیل کی ترکی کے مخاصمت میں اضافہ ہوسکتاہے جو یقینا ٹرمپ کیلئے ایک بڑاچیلنج ثابت ہو سکتاہے۔ 
امریکی تجارتی پالیسیاں،امیگریشن اصلاحات،اورسائبرکرائم کے خلاف اقدامات عالمی سیاست اورمعیشت میں اہمیت رکھتے ہیں۔ جہاں ایک طرف یہ پالیسیاں امریکی مفادات کے تحفظ کیلئے بنائی گئی ہیں،وہیں دوسری طرف ان کے عالمی سطح پرشدیدردعمل دیکھنے میں آرہاہے۔ان پالیسیوں کے طویل مدتی اثرات کاجائزہ لیناضروری ہوگاتاکہ ان کے ممکنہ مثبت اورمنفی نتائج کوبہتر طریقے سے سمجھاجاسکے۔ان پالیسیوں کااثرصرف امریکاپرہی نہیں بلکہ عالمی معیشت پربھی پڑے گااوران کے تحت مختلف ممالک کونئی حکمت عملی اپنانے کی ضرورت پیش آسکتی ہے۔
امریکی خارجہ ودفاعی پالیسی میں ممکنہ تبدیلیاں عالمی سطح پراثراندازہوسکتی ہیں۔نیٹوسے علیحدگی،یوکرین میں امریکی کردار میں کمی،اورمشرق وسطی میں اسرائیل نوازپالیسی کے نتیجے میں امریکاکے اتحادی ممالک کے ساتھ تعلقات متاثرہوسکتے ہیں۔ان پالیسیوں کے طویل مدتی اثرات عالمی سفارتی،اقتصادی،اورسیکیورٹی صورتحال پرگہرے نقوش چھوڑسکتے ہیں جس کابہرحال سب سے پہلے امریکی اتحادی شکارہوں گے کیونکہ گزشتہ صدی سے امریکاکی یہ تاریخی روایت ہے کہ دوستوں کومفادکیلئے استعمال کرنے کے بعدان کی فوری قربانی ضروری ہے۔