برطانیہ نے روس کے توانائی شعبے سے مبینہ کاروباری تعلقات کی بنیاد پر پاکستانی نژاد تاجر مرتضیٰ لاکھانی پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔
بلومبرگ کے مطابق برطانوی حکومت نے روس کے خلاف جاری پابندیوں کے دائرہ کار کو مزید وسیع کرتے ہوئے مرتضیٰ لاکھانی اور ان سے منسلک متعدد کاروباری اداروں کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مرتضیٰ لاکھانی پر روسی توانائی کے شعبے میں مبینہ کردار اور کاروباری روابط کے باعث یہ پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ لاکھانی طویل عرصے سے لندن کو اپنا کاروباری مرکز بنائے ہوئے ہیں اور بین الاقوامی سطح پر شپنگ اور توانائی کے شعبے میں ایک نمایاں نام سمجھے جاتے ہیں۔برطانوی حکام کے مطابق پابندیوں کی زد میں آنے والی کمپنیوں میں مرکنٹائل اینڈ میری ٹائم گروپ بھی شامل ہے، جبکہ لاکھانی سے وابستہ دیگر کئی کاروباری اداروں کو بھی اس فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔
ان پابندیوں کے تحت متعلقہ افراد اور کمپنیوں کے اثاثے منجمد کیے جا سکتے ہیں، جبکہ برطانیہ میں کاروباری سرگرمیوں اور مالی لین دین پر بھی سخت پابندیاں عائد ہوں گی۔بلومبرگ کے مطابق برطانوی حکومت روس کے خلاف اپنی پابندیوں کی پالیسی پر سختی سے عملدرآمد کر رہی ہے اور ان افراد و اداروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جن پر روسی معیشت، بالخصوص توانائی کے شعبے، کو سہارا دینے کا شبہ ہے۔برطانوی حکام کا کہنا ہے کہ ان پابندیوں کا مقصد روس پر دباؤ بڑھانا اور یوکرین جنگ کے تناظر میں اس کے مالی وسائل کو محدود کرنا ہے۔تاحال مرتضیٰ لاکھانی یا ان کی کمپنیوں کی جانب سے ان پابندیوں کے حوالے سے کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا۔