امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نئے ٹیکسز سے 2 دن میں سرمایہ کاروں کے 60 کھرب ڈالر سے زائد کا نقصان

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نئے ٹیکسز سے 2 دن میں سرمایہ کاروں کے 60 کھرب ڈالر سے زائد کا نقصان

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نئے تجارتی ٹیکسز عائد کرنے کے بعد عالمی مالیاتی مارکیٹس میں شدید مندی کا سامنا ہوا، جس کے نتیجے میں سرمایہ کاروں کو 60 کھرب ڈالر سے زائد کا نقصان اٹھانا پڑا۔

غیرملکی میڈیا کے مطابق، ٹرمپ کے نئے ٹیکسوں کے اعلان کے بعد امریکی اسٹاک مارکیٹس میں دو روز کے اندر زبردست مندی آئی، جس نے سرمایہ کاروں کو شدید مالی نقصان پہنچایا۔نئے ٹیرف کے اعلان کے باعث امریکی اسٹاک مارکیٹس 5 سال کی بدترین مندی سے دوچار ہوئیں۔ ڈاؤ جونز انڈیکس میں 5 فیصد، ایس اینڈ پی 500 میں 4.6 فیصد اور نیسڈک میں 4.7 فیصد کمی دیکھی گئی۔ لندن اسٹاک ایکسچینج کے فُٹسی ہنڈریڈ انڈیکس میں 5 فیصد، جرمنی کی اسٹاک مارکیٹ میں 4 فیصد اور جاپان میں 2.8 فیصد کمی آئی۔

اس کے علاوہ، تجارتی جنگ کے بڑھتے ہوئے خدشات کی وجہ سے عالمی تیل کی قیمتیں 8 فیصد تک گر کر 4 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئیں۔ نئے تجارتی ٹیرف کی وجہ سے چینی مصنوعات کے یورپی منڈیوں میں داخلے کے امکانات بھی بڑھ گئے ہیں، جس کے اثرات عالمی تجارت پر وسیع پیمانے پر پڑ رہے ہیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان سمیت دنیا بھر کے درجنوں ممالک پر جوابی تجارتی ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا تھا، جس سے عالمی مالیاتی مارکیٹس میں غیر یقینی صورتحال مزید بڑھ گئی ہے۔