سپریم کورٹ نے ملزم پر جرمانہ 5 لاکھ سے کم ، 10 ہزار روپے کر دیا،6 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری
اسلام آباد(آئی این پی) سپریم کورٹ آف پاکستان نے زیادتی کے مقدمہ کو زنا بالرضا میں تبدیل کر دیا اور ملزم کی 20 سال کی سزا ختم کر کے 5 سال قید بامشقت کر دی۔سپریم کورٹ کے جسٹس ملک شہزاد خان نے 6 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا، جسٹس صلاح الدین پنور نے فیصلے سے اختلاف کیا۔سپریم کورٹ نے ملزم پر جرمانہ 5 لاکھ سے کم کر کے 10 ہزار روپے کر دیا، جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں مجرم مزید 2 ماہ تک قید رہے گا، ملزم کیخلاف کیس ریپ کا نہیں بلکہ رضامندی سے زنا کا بنتا ہے، رضامندی سے زنا پر مدعیہ بھی سزا کی حقدار ہے۔فیصلہ کے مطابق مدعی مقدمہ کا چالان ہوا نہ ہی ٹرائل کورٹ میں اسے صفائی کا موقع مل سکا، سپریم کورٹ میں اپیل کی سطح پر شنوائی کے بغیر سزا نہیں دی جا سکتی، ملزم کو زیادتی کے بڑے جرم کی جگہ چھوٹے جرم یعنی زنا
بالرضا میں سزا دی جا سکتی ہے