سپریم کورٹ نے زنا بالجبر کے ملزم مدثر کی ضمانت منظور کرلی

 کیا کبھی کسی کو زنا بالرضا پر بھی سزا ہوئی ہے؟:جسٹس جمال مندوخیل کے ریمارکس
اسلام آباد (آن لائن) سپریم کورٹ نے زنا بالجبر کے ملزم مدثر کی ضمانت منظور کرلی ہے جبکہ جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ جتنا سنگین الزام ہو اتنی سنجیدہ تحقیقات بھی ہونی چاہیے۔ایسے تمام واقعات تو رپورٹ بھی نہیں ہوتے میڈیکل رپورٹ بھی ملزم کے خلاف نہیں؟ ہر مقدمہ ریپ کا نہیں ہوتا‘جتناجرم اتنی ہی سزا دے سکتے ہیں۔انھوں نے یہ ریمارکس جمعرات کے روزدیے ہیں۔وکیل ملزم۔نے موقف اختیار کیاکہ ملزم الزام سے مکمل انکار کررہا ہے سرکاری وکیل نے کہاکہ  تحقیقات میں لڑکی کا ملزم کے گھر رہنا ثابت ہے۔جسٹس ملک شہزادنے کہاکہ الزام مدعی نے ثابت کرنا ہوتا ہے ملزم نے نہیں  جسٹس مسرت ہلالی نے کہاکہ کوئی اپنی بیٹی پر جھوٹا الزام لگا کر تماشہ کیوں بنائے گا سرکاری وکیل نے کہاکہ میڈیکل دو ماہ کی تاخیر سے ہوا۔لوگ بیٹیوں کی عزت کی وجہ سے خاموش ہو جاتے ہیں جسٹس مسرت ہلالی نے کہاکہ خاتون نے خود ریپ تسلیم کیا اور کیا ثبوت ہوگا جسٹس ملک شہزاد نے کہاکہ صرف لڑکی کی گواہی پر تو ملزم کو سزا دینے کا نہیں کہہ سکتے جسٹس جمال مندوخیل نے کہاکہ کیا کبھی کسی کو زنا بالرضا پر بھی سزا ہوئی ہے؟ کیا رضا مندی کے مجرم کو زبردستی کی دفعات پر سزا دی جاسکتی ہے؟جو جرم ہو گا اتنی ہے سزا دیں گے جتنا جرم اتنی سزا۔