مذاکرات کی کمیٹی کا حصہ ہونے کے باوجود اڈیالا جیل میں تھی:زرتاج گل

مذاکرات کی کمیٹی کا حصہ ہونے کے باوجود اڈیالا جیل میں تھی:زرتاج گل

تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کی رہنما زرتاج گل نے گوجرانوالہ میں انسداد دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اہم نکات پر روشنی ڈالی۔

 انہوں نے کہا کہ جب پی ٹی آئی کی طرف سے حکومت سے مذاکرات کے لیے کمیٹی بنائی گئی، تو وہ اس وقت اڈیالا جیل میں قید تھیں۔ تاہم، انہوں نے یہ بھی کہا کہ پارٹی کے بانی، عمران خان نے قومی مفاد کے پیش نظر مذاکرات کی پیشکش کی تھی، اور اس پیشکش کا مقصد ذاتی مفادات نہیں بلکہ پاکستان کے وسیع تر مفاد کو مدنظر رکھنا تھا۔زرتاج گل نے مزید کہا کہ عمران خان نے ہمیشہ ذاتی مفاد سے بالاتر ہو کر قومی مفاد کو ترجیح دی ہے، اور یہی وجہ ہے کہ وہ حکومت سے بات چیت کے لیے تیار ہوئے۔ تاہم، انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اب حکومت کے ہاتھ میں ہے کہ وہ مذاکرات کی طرف قدم بڑھائے یا اس موقع کو گنوا دے۔

پی ٹی آئی کی رہنما نے یہ سوال اٹھایا کہ اگر حکومت مذاکرات کی طرف نہیں بڑھنا چاہتی اور آنکھیں چرانا چاہتی ہے، تو پھر یہ ان کی مرضی ہے۔ اس کے ساتھ ہی زرتاج گل نے اس بات پر زور دیا کہ پی ٹی آئی کی قیادت ہمیشہ ملک کے مفاد میں بات چیت کے لیے تیار رہی ہے، اور حکومت کو چاہیے کہ وہ اس موقع سے فائدہ اٹھائے۔ان کی یہ باتیں سیاسی سطح پر اہمیت رکھتی ہیں، کیونکہ یہ پی ٹی آئی کی طرف سے حکومت پر دباؤ ڈالنے کا ایک طریقہ ہیں کہ وہ بات چیت کے عمل میں شامل ہو اور مسائل کا حل تلاش کرے۔