پانی کی تقسیم، غیرقانونی امیگریشن اور مذہبی اقلیتوں کے حقوق جیسے مسائل پر اختلافات مزید گہرے ہوگئے،رپورٹ
ڈھاکا(آئی این پی )بنگلا دیش کی نئی خارجہ پالیسی بھارت کے لیے نیا چیلنج بن گئی ہے۔ جس سے دونوں ممالک کے تعلقات مزید کشیدہ ہو رہے ہیں۔ بنگلا دیش کی عبوری حکومت نے بھارت کے ساتھ تعلقات میں نمایاں تبدیلیاں کرتے ہوئے کئی معاہدے منسوخ کر دئیے ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق بھارت میں بنگلا دیشی قونصل خانے پر حملے اور بنگلا دیش کے عوام میں بھارت مخالف جذبات کے باعث دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات میں تنا ئوبڑھ رہا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا کے مطابق پانی کی تقسیم، غیرقانونی امیگریشن اور مذہبی اقلیتوں کے حقوق جیسے مسائل پر دونوں ممالک کے درمیان اختلافات مزید گہرے ہوگئے ہیں۔چٹاگانگ میں پاکستانی کارگو جہاز کی آمد اور کسٹم کے معائنے میں نرمی، بنگلا دیش اور پاکستان کے بڑھتے تعلقات کا مظہر ہے جو کہ بھارت کے لیے شدید تشویش کا باعث بن رہا ہے۔عبوری حکومت نے بھارت کے ساتھ ٹیلی کام کا ایک بڑا معاہدہ بھی منسوخ کر دیا ہے، جس سے بھارت کی بنگلا دیش پر اثر و رسوخ قائم رکھنے کی کوششوں کو دھچکا لگا ہے۔