حکومت کی تبدیلی کیساتھ پالیسی نہیں بدلنی چاہیے: سپیکر پنجاب اسمبلی

معاہدوں کا تحفظ، سیاسی اتفاقِ رائے کے بغیر معدنی وسائل سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھایا جاسکتا 
معدنی شعبے میں سرمایہ کاری کیلئے سرمایہ کاروں کو آئینی و قانونی تحفظ دینا ہوگا:ملک محمد احمد خان 
لاہور(سپیشل رپورٹر)سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے کہا ہے کہ پاکستان کے معدنی وسائل سے حقیقی معاشی فائدہ اٹھانے کیلئے سیاسی اتفاقِ رائے، پالیسیوں میں تسلسل، معاہدوں کا تحفظ اور واضح آئینی و قانونی فریم ورک ناگزیر ہے۔ حکومتوں کی تبدیلی کے ساتھ پالیسیوں میں تبدیلی سے سرمایہ کاروں کا اعتماد مجروح ہوتا ہے، اس لیے معدنی شعبے کیلئے طویل المدتی پالیسی مرتب کرنا ہوگی جس پر حکومتوں کی تبدیلی کا اثر نہ پڑے۔نیشنل اسکول آف پبلک پالیسی لاہور میں سالانہ کانفرنس ’’پاکستان میں نایاب ارضی معدنیات: مواقع اور چیلنجز‘‘ کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسپیکر ملک محمد احمد خاں نے کہا کہ پاکستان کو معدنی وسائل سے مالا مال ملک قرار دیا جاتا رہا ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ ہم ان وسائل کو قومی دولت اور معاشی خوشحالی میں تبدیل کرنے میں اب تک کیوں کامیاب نہیں ہوسکے۔ملک محمد احمد خان نے کہا کہ ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ مسئلہ سیاسی عزم کی کمی کا ہے، حکومتی ڈھانچے کا ہے یا ہمارے پالیسی فریم ورک میں کوئی بنیادی خامی موجود ہے۔ جب کسی پالیسی یا معاہدے کے حوالے سے اسٹیک ہولڈرز کے تحفظات سامنے آئیں تو انہیں نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے بلکہ ان کے سوالات کو سنجیدگی سے سننا اور دلیل کے ساتھ حل کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے آئین کے معمار اس حقیقت سے بخوبی آگاہ تھے کہ وفاق اور صوبوں کے درمیان وسائل اور اختیارات کے معاملات کو ایک واضح آئینی فریم ورک کے تحت چلانا ہوگا۔ آئین نے اس حوالے سے بنیادی ڈھانچہ فراہم کیا ہے، اب ضرورت اس بات کی ہے کہ سیاسی عزم کے ساتھ اس آئینی فریم ورک کو مؤثر طور پر بروئے کار لایا جائے۔اسپیکر ملک محمد احمد خاں نے کہا کہ معدنی شعبے میں ہونے والے بین الاقوامی معاہدے پانچ یا دس سال کیلئے نہیں ہوتے بلکہ کئی حکومتوں اور کئی دہائیوں تک جاری رہ سکتے ہیں۔ اگر ہر حکومت کی تبدیلی کے ساتھ پالیسی تبدیل ہوتی رہے گی تو طویل المدتی سرمایہ کاری کیسے آئے گی؟