اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج نافذ کرنے سے پہلے وفاقی حکومت نے صوبائی حکومت کے ساتھ معاملات بہتر بنانے کی ہر ممکن کوشش کی، تاہم مذاکرات میں اتفاق رائے کے باوجود پیش رفت کو سبوتاژ کردیا گیا۔
مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی پارٹی سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ گزشتہ ڈھائی سال کے دوران خیبرپختونخوا حکومت کے ساتھ معاملات بہتر بنانے کے لیے مسلسل کوششیں کی گئیں، لیکن کئی امور پر اتفاق رائے کے باوجود بات چیت آگے نہ بڑھ سکی۔شہباز شریف کا کہنا تھا کہ مذاکرات کامیابی کے قریب پہنچ چکے تھے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے وفد نے آخری مرحلے پر مؤقف اختیار کیا کہ اسے صوبائی حکومت سے مشاورت کرنا ہوگی۔ ان کے بقول، شاید وفد کو وہاں سے 9 مئی جیسا ایک اور واقعہ کرنے کی ہدایت ملی تھی، جس کے نتیجے میں معاملات بگڑ گئے۔وزیراعظم نے کہا کہ وفاقی حکومت کے لیے یہ فیصلہ کن مرحلہ تھا اور اسے محسوس ہوا کہ مزید تاخیر کی گنجائش نہیں، چنانچہ حالات کے پیش نظر مجبوراً خیبرپختونخوا میں گورنر راج نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ متعلقہ لوگ دہشت گردوں کی مذمت میں ایک لفظ کہنے پر بھی آمادہ نہیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کو بھی وفاقی حکومت کی جانب سے تعاون کی یقین دہانی کرائی گئی تھی، جبکہ سہیل آفریدی سے بھی ملاقاتیں ہوئیں۔ ان کے مطابق، سابق وزیراعلیٰ نے جو گفتگو کی، وہ کسی دشمن سے بھی متوقع نہیں تھی۔
وزیراعظم نے الزام لگایا کہ پی ٹی آئی کے دور حکومت میں دہشت گردوں کو خیبرپختونخوا واپس لایا گیا اور صوبے میں اس حکومت کے قیام کے بعد سوات میں دہشت گردوں کی دوبارہ آمد شروع ہوگئی۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت ترقی کے عمل میں رکاوٹ ڈالنے پر تلی ہوئی تھی اور اس کے رہنما اب تک ڈی چوک کی سیاست سے باہر نہیں نکل سکے۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا کے عوام نے پاکستان کی خوشحالی اور امن کے لیے ہمیشہ قربانیاں دی ہیں۔ سیاست دانوں نے بھی صوبے میں امن کے قیام کے لیے قربانیاں دیں، جن کے نتیجے میں ماضی میں امن بحال ہوا تھا۔