سپریم کورٹ کے فیصلے پر من وعن عمل کرینگے وفاقی حکومت
پی ٹی آئی نے 27 ستمبر کو پھر احتجاج کا اعلان کررکھا ہے‘ یہ معاملات سڑکوں پر حل نہیں ہوں گے، تشدد کا راستہ آپ کو کسی طرف نہیں لے کر جائے گا ‘ بلوچستان میں آپریشن کا کسی کو شوق نہیں :وفاقی وزیرطارق فضل
سپریم کورٹ کا فیصلہ آزادانہ اور میرٹ پر مبنی ہے تحریک انصاف کو چاہیے جب فیصلہ پسندکا نہ ہو تب بھی عدالتوں کا احترام کریں،تحریک انصاف نے بڑی دیرکی، سیدھا راستہ یہی تھا:مشیر وزیراعظم کا بیان
اسلا م آباد(آئی این پی)وفاقی وزیر ڈاکٹر طارق فضل چودھری نے کہا ہے حکومت بانی پی ٹی آئی عمران خان کی اسپتال منتقلی سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پرمن وعن عمل کرے گی۔ سینیٹ اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کے حوالے سے فیصلہ دیا ہے، پی ٹی آئی کے سینیٹرز کی جانب سے عدالت کی تعریف بھی کی گئی ہے، ہم یہی کہتے تھے بانی پی ٹی آئی کے مقدمات کا فیصلہ عدالتوں سے ہی ہونا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کے پاس کوئی ایسا اختیار نہیں کہ وہ خود جیلوں سے لوگوں کو رہا کروائیں، سپریم کورٹ کے فیصلے پر من و عن عمل کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ عدلیہ اگر فیصلہ آپ کے حق میں دے تو پھر ٹھیک ہے، اگر نہ دے تو یہ تنقید کرتے ہیں، عدالتیں ہی اصل راستہ ہیں، پی ٹی آئی کے لوگ عدالتوں میں جائیں، انہوں نے 27 ستمبر کو پھر ایک احتجاج کا اعلان کررکھا ہے، احتجاج ان کا حق ہے لیکن ان کا پرامن احتجاج بعد میں پرتشدد ہوجاتا ہے، یہ معاملات سڑکوں پر حل نہیں ہوں گے، تشدد کا راستہ آپ کو کسی طرف نہیں لے کر جائے گا۔انہوں نے کہا بلوچستان کے مسئلے پر سینیٹرز کسی بھی جماعت سے ہوں اپنا موقف پیش کریں، بلوچستان میں آپریشن کا کسی کو شوق نہیں ہے، بلوچستان میں روزانہ شہادتیں ہورہی ہیں، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے وہاں پر بہادری کی داستانیں رقم کررہے ہیں، بی ایل اے اور دہشتگردوں کو بھارت وسائل مہیا کررہا ہے۔ وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثنااللہ نے عمران خان کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے سپریم کورٹ کا فیصلہ آزادانہ اور میرٹ پر مبنی ہے، پی ٹی آئی گھیرائوکے بجائے قانونی راستہ اختیارکرتی تو ریلیف پہلے مل جاتا، تحریک انصاف نے بڑی دیرکی، سیدھا راستہ یہی تھا، تحریک انصاف نے درست فورم پرکیس رکھا جس کا فیصلہ میرٹ کے مطابق آیا ہے،تحریک انصاف عدالت کی تعریف کر رہی ہے، تحریک انصاف کو چاہیے جب فیصلہ پسندکا نہ ہو تب بھی عدالتوں کا احترام کریں۔اپوزیشن سے مذاکرات کے حوالے سے راناثنااللہ نے کا کہ مذاکرات سے متعلق وزیراعظم کی آفر بڑی دیر سے موجود ہے، اپوزیشن کی طرف سے اس پر مثبت ردعمل نہیں ملا۔نئے صوبوں سے متعلق انہوں نے کہا کہ صوبوں سے متعلق ابھی تک صرف بحث برائے بحث ہے، جب کوئی واضح بات سامنے آئے گی تو مسلم لیگ ن اپنی رائے قائم کرے گی ۔