نوازشریف نے ہی شہباز شریف کو وزیراعظم بنایا‘ نوازشریف نے اتحادی حکومت لینے سے معذرت کی تھی‘شہباز شریف کو اتحادی حکومت کا تجربہ تھا اس لئے انہیں وزیراعظم بنایا ‘اب بھی فیصلے نوازشریف کی مرضی سے ہوتے ہیں
عمران خان کی ضد اور کمپرومائز نہ کرنا ان کی سیاست ہے‘انہوں نے چار سال ملک کی بربادی کی‘وہ پارلیمنٹ کابائیکاٹ نہ کرتے تو ہماری حکومت جو16ماہ تک چلی تھی وہ16 دن بھی نہ چلتی
جب تک تمام سیاستدان اختلافات ختم کر کے سر جوڑ کر نہیں بیٹھیں گے اس وقت تک نہ دہشت گردی ختم ہو سکتی ہے نہ حالات زیادہ بہتر ہو سکتے ہیں:وزیراعظم کے مشیر کا ’’پبلک نیوز‘‘ کے بیورو چیف عدنان ملک کو انٹرویو
لاہور(انٹرویو:عدنان ملک)وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور راناثناء اللہ نے کہا ہے ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی سے عمران خان کی رہائی کا کوئی تعلق نہیں ہے‘ٹرمپ نے اپنے ملک کی پالیسی کے مطابق چلنا ہے‘ٹرمپ کے پاس اتنی فرصت نہیں ہوگی‘پاکستان کے حالات میں امریکہ کی وجہ سے نہ پہلے کوئی تبدیلی آئی نہ اب آئے گی‘پبلک نیوز کے بیورو چیف عدنان ملک کو انٹرویو دیتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا جب تک تمام سیاسی جماعتیں اور سیاستدان اختلافات ختم کر کے سر جوڑ کر نہیں بیٹھیں گے اس وقت تک نہ دہشت گردی ختم ہو سکتی ہے نہ حالات زیادہ بہتر ہو سکتے ہیں‘انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا میں کسی سیاستدان کے قید ہونے پر خوشی کا اظہار نہیں کرسکتا‘ضد اچھی چیز نہیں‘یہ نظام قدرت ہے جو کرو گے وہ بھگتناپڑتا ہے‘جو بویا وہ کاٹنا پڑتا ہے‘عمران خان نے اپنے دور میں جھوٹے مقدمات بنا کر لوگوں کو جیلوں میں بند کیا‘ان کی یہ باتیں ان کے آگے آئی ہیں‘ان کی ضد اور کمپرومائز نہ کرنا ان کی سیاست ہے‘انہوں نے چار سال ملک کی بربادی کی‘وہ پارلیمنٹ کابائیکاٹ نہ کرتے تو ہماری حکومت جو16ماہ تک چلی وہ16 دن بھی نہ چلتی‘ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا نوازشریف نے ہی شہباز شریف کو وزیراعظم بنایا‘ نوازشریف نے اتحادی حکومت لینے سے معذرت کی تھی‘شہباز شریف کو چونکہ اتحادی حکومت چلانے کا تجربہ تھا اس لئے انہیں وزیراعظم بنایا گیا‘اب بھی وفاقی حکومت اور صوبائی حکومت کے فیصلے نوازشریف کی مرضی سے ہوتے ہیں‘رانا ثناء اللہ نے ایک سوال کے جواب میں کہا اگر وہ سیاستدان نہ ہوتے تو کامیا ب وکیل ہوتے اور ان کا شمار ملک کے تین چار کامیاب ترین وکیلوں میں ہوتا‘رانا ثناء اللہ نے کہا پی ٹی آئی والے ایک دوسرے کو گالیاں دینے کا کلچرلے کرآئے ‘انہوں نے کہا تعلیمی نصاب تبدیل کر کے عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق ہونا چاہیے‘بامقصد تعلیم ہونی چاہیے