فاریہ ملک
اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی دنیا کا سب سے بڑا عالمی فورم ہے۔ یہاں ہر سال دنیا کے طاقتور ترین ممالک کے سربراہان اور وزرائے خارجہ اپنی ریاستوں کے مسائل، ترجیحات اور پالیسیاں دنیا کے سامنے رکھتے ہیں۔ عموماً اس اجلاس میں بڑی طاقتوں کے رہنما ہی زیادہ نمایاں ہوتے ہیں اور میڈیا کی توجہ انہی کے گرد گھومتی ہے، لیکن اس بار ایک خوش آئند تبدیلی دیکھنے میں آئی۔ دنیا کی نظریں اس بار پاکستان کے وزیرِاعظم شہباز شریف پر جمی ہوئی تھیں۔وزیرِاعظم نے جیسے ہی خطاب شروع کیا تو ایوان میں ایک الگ سا سکوت چھا گیا۔ ان کا انداز نہ تو روایتی سیاسی نعرے بازی پر مبنی تھا، نہ ہی مبالغہ آرائی سے بھرا ہوا۔ بلکہ ایک متوازن، حقیقت پسند اور سنجیدہ لب و لہجہ تھا، جس میں پاکستان کا مؤقف عالمی برادری کے سامنے انتہائی خوبصورتی اور ذمہ داری کے ساتھ پیش کیا گیا۔ انہوں نے عالمی مسائل پر بھی اپنی رائے دی اور ساتھ ہی پاکستان کے اندرونی مسائل، قربانیوں اور ترقی کے عزائم کو بھی بھرپور انداز میں اجاگر کیا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ دنیا نے ان کی باتوں کو صرف سنا ہی نہیں بلکہ توجہ کے ساتھ قبول بھی کیا۔ اس کا ثبوت یو این کے آفیشل یوٹیوب چینل پر موجود ناظرین کے اعداد و شمار ہیں۔شہباز شریف کے خطاب کو ایک لاکھ 37 ہزار سے زائد افراد نے دیکھا، جو تمام رہنماؤں میں سب سے زیادہ ہے۔اس کے مقابلے میں امریکا کے صدر کے خطاب کو محض ایک لاکھ ایک ہزار ناظرین ہی دیکھ سکے۔اور چین کے وزیرِخارجہ جیسے بڑے عہدیدار کے خطاب کو صرف 81 ہزار لوگوں نے دیکھا۔یہ محض چند اعداد و شمار نہیں بلکہ ایک تاریخی حقیقت ہیں۔ یہ بتاتے ہیں کہ دنیا پاکستان کے بیانیے کو سننے میں سنجیدگی رکھتی ہے اور شہباز شریف نے اپنے مؤقف کو اس انداز میں پیش کیا کہ دنیا نے اس پر توجہ دینے پر خود کو مجبور پایا۔یہ منظر ہمارے لیے باعثِ فخر ہے کہ ایک عرصے بعد پاکستان کا مؤقف عالمی سطح پر اس قوت کے ساتھ ابھرا ہے۔ ماضی میں اکثر ہمارا پیغام دب کر رہ جاتا تھا یا اسے خاطر خواہ اہمیت نہیں ملتی تھی، لیکن اس بار شہباز شریف نے اپنی دانشمندی، مدلل انداز اور پْراثر سفارتکاری سے پاکستان کا مؤقف نہ صرف اجاگر کیا بلکہ اسے عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا۔یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ دنیا آج صرف طاقتور فوج یا بڑی معیشت کو ہی نہیں دیکھتی، بلکہ سنجیدہ قیادت، واضح موقف اور حقیقت پسندانہ بیانیے کو بھی قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ شہباز شریف نے ثابت کر دیا کہ اگر بات دلیل سے کی جائے اور الفاظ میں اخلاص جھلکے تو چھوٹا ملک بھی عالمی ایوان میں اپنی جگہ بنا سکتا ہے۔یوں کہا جا سکتا ہے کہ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اس بار سب سے نمایاں آواز پاکستان کی رہی، اور سب پر بھاری رہے وزیرِاعظم شہباز شریف۔ انہوں نے اپنے خطاب سے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ پاکستان نہ صرف ایک ذمہ دار ریاست ہے بلکہ عالمی امن، ترقی اور تعاون میں قائدانہ کردار ادا کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔یہ لمحہ دراصل پاکستان کی نئی شناخت ہے۔ شہباز شریف نے دنیا کو دکھا دیا کہ اب پاکستان کی بات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ وہ لمحہ ہے جو آنے والے وقت میں ہماری سفارتکاری اور قومی وقار کی بنیاد بن سکتا ہے۔