مون سون کے طاقتور سسٹم کے زیر اثر کراچی میں موسلادھار بارش جاری ہے، جس کے سبب شہر کے کئی علاقوں میں اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔
پاکستان کے مالیاتی مرکز کراچی میں دوپہر کے وقت سرجانی ٹاؤن، فیڈرل بی ایریا، گلشن اقبال، قیوم آباد، گلستان جوہر، ملیر، شارع فیصل، ناظم آباد اور نیو کراچی میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش ہوئی۔بارش کے باعث شہر کی مرکزی سڑکوں اور اندرونی گلیوں میں پانی جمع ہو گیا۔ گلشن حدید میں ایک گھنٹے سے موسلادھار بارش کی وجہ سے گلیاں زیر آب آئیں اور پانی گھروں میں داخل ہو گیا، لوگ اپنا قیمتی سامان محفوظ جگہ منتقل کرنے لگے۔ہنس سکوائر، نیپا چورنگی، ضیاء کالونی، گلشن شمیم، لیاقت آباد 10 نمبر، جیل چورنگی، کارساز، کورنگی اور ایکسپریس وے سمیت دیگر مقامات پر پانی جمع ہونے سے ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی۔شہر کے مختلف علاقوں میں 600 سے زائد فیڈرز ٹرپ ہونے کی وجہ سے بجلی کی فراہمی بھی متاثر ہوئی۔ کے الیکٹرک کے ڈسٹری بیوشن نظام میں اب بھی غیر مستحکم صورتحال برقرار ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے مون سون بارشوں کے دوران متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ رہنے کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے ریسکیو اور انتظامیہ کو متحرک رہنے اور بارش کے پانی کے فوری اخراج کے لیے مشینری اور عملہ فعال رکھنے کی ہدایت کی ہے۔مراد علی شاہ نے کہا کہ اربن فلڈ سے بچاؤ کے لیے نالوں اور ڈرینج سسٹم کی سخت نگرانی کی جائے، ضلعی انتظامیہ، پولیس اور بلدیاتی ادارے آپس میں مربوط رہیں۔ ٹریفک پولیس کو ہدایت دی گئی کہ عوام کی رہنمائی کریں اور بجلی کے کھمبوں یا کمزور انفراسٹرکچر سے دور رہیں۔محکمہ موسمیات کے مطابق، شہر میں آئندہ تین روز تک طوفانی بارش کا امکان ہے۔ صوبے کے بیشتر علاقوں میں طاقتور مون سون ہوائیں اثر انداز ہو رہی ہیں، جس کے تحت منگل سے جمعرات کے درمیان کراچی میں وقفے وقفے سے گرج چمک کے ساتھ درمیانی اور موسلادھار بارش کا امکان ہے۔