چیف جسٹس کی زیر صدارت اجلاس؛ مقدمات نمٹانے کے لیے سخت اور فوری ٹائم لائنز مقرر

چیف جسٹس کی زیر صدارت اجلاس؛ مقدمات نمٹانے کے لیے سخت اور فوری ٹائم لائنز مقرر

اسلام آباد: قومی عدالتی پالیسی سازی کمیٹی (NJP MC) نے ملک بھر میں مقدمات کے فوری فیصلے کو یقینی بنانے کے لیے سخت اور واضح ٹائم لائنز مقرر کر دی ہیں۔

 زمین، وراثت، عائلی معاملات اور کم عمر مجرمان سے متعلق مقدمات کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت این جے پی ایم سی کے 54ویں اجلاس میں مقدمات کو زمروں میں تقسیم کرتے ہوئے ان کے فیصلوں کے لیے مدت مقرر کی گئی، جسے ججز کی کارکردگی کے جائزے کے کلیدی اشاریے (KPIs) کے طور پر شامل کیا جائے گا۔

مقررہ ٹائم لائنز:
زمین سے متعلق تنازعات کے فیصلے: 24 ماہ
وراثتی تنازعات اور رقم/ریونیو مقدمات: 12 ماہ
کنٹریکٹ پر عملدرآمد کے مقدمات: 18 ماہ
زمین پر حکمِ امتناعی، کرایہ داری، خاندانی مقدمات (خلع، حق مہر، نان و نفقہ، سرپرستی): 6 ماہ
غیر متنازع وراثتی مقدمات: 2 ماہ
بینکنگ اور سول کورٹ کے فیصلوں پر عملدرآمد، اور مجرمانہ مقدمات (7 سال تک سزا): 12 ماہ
کم عمر مجرمان اور لیبر مقدمات: 6 ماہ
قتل کے مقدمات: 24 ماہ
اجلاس کی دیگر اہم کارروائیاں:
کمرشل لِٹیگیشن فریم ورک (CLC) کو مضبوط بنانے پر غور کیا گیا اور طویل عرصے تک جاری رہنے والے مقدمات و حکمِ امتناعی کے مسائل کے حل کے لیے جسٹس شفیع صدیقی کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دی گئی۔اٹارنی جنرل آف پاکستان منصور اعوان نے یقین دہانی کرائی کہ جبری گمشدگیوں کے مسئلے پر جامع طریقہ کار آئندہ اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔ہائی کورٹس کو ہدایت دی گئی کہ شکایات کے اندراج سے لے کر کارروائی تک مرحلہ وار ٹائم لائنز مرتب کریں اور بیرونی دباؤ کے واقعات 24 گھنٹوں کے اندر رپورٹ کیے جائیں۔ماڈل کرمنل اور سول کورٹس کے قیام کو سراہا گیا اور قدیم مقدمات نمٹانے کے لیے ان کی فعالیت بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا۔جیل اصلاحات اور نیشنل پریزن پالیسی پر بھی اتفاق ہوا، جسے آئندہ اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔مقدمات کے اندراج کے وقت بائیو میٹرک تصدیق کو لازمی قرار دینے کی تجویز دی گئی۔
ایل جے سی پی اجلاس:
چیف جسٹس نے لا اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان (LJCP) کے 45ویں اجلاس کی بھی صدارت کی، جس میں سب شہریوں کے لیے مساوی اور قابلِ رسائی نظامِ انصاف کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔اجلاس میں خاندانی قوانین اور فوجداری قوانین میں اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا گیا۔Access to Justice Development Fund (AJDF) کے سالانہ حسابات کی منظوری دی گئی۔وفاقی حکومت کے 2 ارب روپے کے خصوصی فنڈ پر شکریہ ادا کیا گیا، جو عدالتوں میں سہولتوں خصوصاً خواتین کے لیے سہولتوں، سولرائزیشن اور ای-لائبریریز کے قیام پر خرچ کیا جائے گا۔سندھ اور بلوچستان ہائی کورٹس کے 63 کروڑ روپے سے زائد کے منصوبوں سمیت چاروں صوبوں کے ترقیاتی منصوبوں کی بھی منظوری دی گئی۔