اسلام آباد سمیت ملک کے مختلف شہروں میں زلزلے کے جھٹکے، شدت 5.2 ریکارڈ

اسلام آباد سمیت ملک کے مختلف شہروں میں زلزلے کے جھٹکے، شدت 5.2 ریکارڈ

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، راولپنڈی، پشاور سمیت ملک کے مختلف شہروں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے، جس کے باعث شہری خوف و ہراس کے عالم میں گھروں اور دفاتر سے باہر نکل آئے۔

زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی شدت 5.2 ریکٹر اسکیل ریکارڈ کی گئی جبکہ اس کی گہرائی 190 کلومیٹر اور مرکز ہندوکش ریجن تھا۔ زلزلے کے جھٹکے اسلام آباد، راولپنڈی، پشاور، سوات، چترال، ایبٹ آباد، صوابی، مردان، چارسدہ، بٹ خیلہ، ٹیکسلا، ڈیرہ اسماعیل خان اور گردونواح میں محسوس کیے گئے۔دوسری جانب کئی متاثرہ علاقوں میں پہلے ہی شدید بارشوں اور سیلاب کی صورتحال برقرار ہے، جس کے باعث مکانات، فصلیں اور انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ ایسے میں زلزلے کے جھٹکوں نے مزید نقصانات کے خدشات کو بڑھا دیا ہے۔ریسکیو اداروں، پی ڈی ایم اے اور مقامی انتظامیہ کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں کہ وہ ممکنہ آفٹر شاکس کے لیے الرٹ رہیں اور متاثرہ علاقوں میں نقصانات کا فوری جائزہ لیں۔

 زلزلے کیوں آتے ہیں؟
زلزلے ایک قدرتی آفت ہیں جن کے باعث دنیا بھر میں لاکھوں افراد اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔ ماہرین کے مطابق زمین کی تہہ تین بڑی پلیٹوں پر مشتمل ہے: یوریشین پلیٹ، بھارتی پلیٹ اور اریبین پلیٹ۔ زیرِ زمین حرارت کے دباؤ سے یہ پلیٹیں سرکتی ہیں اور زمین لرزتی ہے، یہی کیفیت زلزلہ کہلاتی ہے۔زلزلے کی لہریں دائرے کی شکل میں چاروں اطراف پھیلتی ہیں۔ وہ علاقے جو ان پلیٹوں کے سنگم پر واقع ہیں سب سے زیادہ خطرے کی زد میں ہوتے ہیں۔

 پاکستان زلزلوں کے اعتبار سے کیوں حساس ہے؟
پاکستان کا تقریباً دو تہائی علاقہ فالٹ لائنز پر واقع ہے، جس کی وجہ سے کسی بھی وقت زلزلے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ کراچی سے اسلام آباد، کوئٹہ سے پشاور، مکران سے ایبٹ آباد اور گلگت سے چترال تک تمام علاقے زلزلوں کی زد میں ہیں، جبکہ کشمیر اور گلگت بلتستان کے علاقے انتہائی حساس شمار ہوتے ہیں۔پاکستان دنیا کا پانچواں سب سے زیادہ زلزلہ خیز ملک ہے۔ یہ انڈین پلیٹ کی شمالی سرحد پر واقع ہے جہاں یہ یوریشین پلیٹ سے ٹکراتی ہے۔ یوریشین پلیٹ کے دبنے اور انڈین پلیٹ کے آگے بڑھنے کا عمل لاکھوں سال سے جاری ہے، جس کے باعث ملک میں وقفے وقفے سے درمیانے یا بڑے درجے کے زلزلے آتے رہتے ہیں۔