پاکستان میں دو خطرات، بڑھتی آبادی اور موسمیاتی تبدیلی کا سامنا کررہے ہیں ، عملی زندگی میں کوئی شارٹ کٹ نہیں ہوتا، نوجوان محنت کو اپنا شعار بنائیں
حکومت کا کام کاروبار کرنا نہیں بلکہ اس کیلئے سازگار ماحول فراہم کرنا ہے، پوری کوشش ہوگی تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کا بوجھ مزید کم کریں:تقریب سے خطاب
کراچی(آئی این پی ‘مانیٹرنگ ڈیسک)وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے موسمیاتی تبدیلی بقا کی جنگ ہے، نجی شعبے کو ساتھ دینا، حکومت تنہا کچھ نہیں کر سکتی، حکومت کا کام کاروبار کرنا نہیں بلکہ اس کیلئے سازگار ماحول فراہم کرنا ہے، پوری کوشش ہوگی تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کا بوجھ مزید کم کریں، سٹیٹ بینک نے مہنگائی کو بہترین طریقے سے قابو کیا اور آئندہ چند سالوں میں حالات مزید بہتر ہوں گے،مائیکرو استحکام سے گنجائش پیدا ہورہی ہے، تین ایجنسیوں نے پہلی بار مل کر پاکستان پر اعتمادکیا۔ان خیالات کااظہار انہوں نے پاکستان بینکس ایسوسی ایشن کی ورکشاپ سے خطاب اور جاب فیئر میں شرکت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔وزیر خزانہ نے کہا کہ ہم پاکستان میں دو خطرات، بڑھتی آبادی اور دوسرا موسمیاتی تبدیلی کا سامنا کررہے ہیں ۔ ورلڈ بینک کے ساتھ ایک فریم ورک کی بات ہوئی ہے، جس کی 6 جہتیں ہیں، جن میں سے 2 موسمیاتی تبدیلی سے متعلق ہے ۔ یہ وقت ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے تناظر میں نجی شعبے کو حکومت کا ساتھ دینا ہو گا۔انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی بقا کی جنگ ہے جس میں اکیلی حکومت کچھ نہیں کر سکتی۔وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ پاکستان اسٹاک ایکس چینج سابقہ ریکارڈز توڑ رہی ہے۔ اجارہ سکوک کا آغاز سست ہے، تاہم ہماری سمت درست ہے۔ 3 گلوبل ریٹنگ ایجنسیوں نے پاکستان کے بارے میں مثبت رائے دی ہے۔۔ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایف بی آر کا آئندہ مالی سال کا بجٹ ٹیکس پالیسی آفس کی جانب سے مرتب ہوگا۔ ایف بی آر کا آئندہ مالی سال کے بجٹ کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہوگا۔ نجی شعبے کو اس ملک کی قیادت کرنی ہے ۔ حکومت کا کام محض سازگار کاروباری ماحول مہیا کرنا ہے۔وفاقی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ دو تین مہینوں میں ٹیرف پالیسی، الیکٹرانک گاڑیوں، ڈیجیٹل پالیسی پر کام ہوا ہے۔ ہارون اختر صنعتی پالیسی پر کام کررہے ہیں۔ آبادی اور کلائمنٹ بڑے چیلنجز ہیں۔ مالیاتی شعبے کے لیے یہ حقیقی وقت ہے کہ آگے بڑھیں۔ نجی شعبے اور حکومت کو سرمایہ کاری کے بینک ایبل منصوبے دیں۔ قلیل مدتی سوچ سے نکل کر لمبے عرصے کی خوشحالی پر توجہ دیں‘انہوں نے نوجوانوں کو نصیحت کی کہ عملی زندگی میں کوئی شارٹ کٹ نہیں ہوتا، نوجوان محنت کو اپنا شعار بنائیں، اتارچڑھا آتے ہیں لیکن ٹیلنٹ کو کوئی فرق نہیں پڑتا، ہمیں مستقل گروتھ کی طرف جانا ہے۔وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ ٹیرف اصلاحات لائی گئی ہیں، سٹاک ایکسچینج روزانہ نئے ریکارڈ بنارہی ہے، سٹاک مارکیٹ میں تیزی معاشی بہتری کی علامت ہے، توانائی کی قیمتوں میں کمی کے حوالے سے درست سمت میں گامزن ہیں