روم: ایران اور امریکا کے درمیان عمان کی ثالثی میں بالواسطہ جوہری مذاکرات روم میں شروع ہو گئے ہیں، جن میں ایران کی نمائندگی وزیر خارجہ عباس عراقچی کر رہے ہیں، جبکہ امریکا کی طرف سے مشرقِ وسطیٰ کے لیے امریکی صدر کے خصوصی نمائندے اسٹیو وٹکاف شریک ہیں۔
مذاکرات سے قبل ایرانی وزیر خارجہ نے اطالوی ہم منصب سے ملاقات میں واضح کیا کہ ایران ہمیشہ سے سفارتی راستے کا حامی رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران ایک ایسا معقول اور منطقی معاہدہ چاہتا ہے جو نہ صرف ایران کے جائز حقوق کا تحفظ کرے بلکہ اس پر عائد غیر منصفانہ پابندیاں بھی ختم کرے، اور جوہری سرگرمیوں سے متعلق شکوک و شبہات کا ازالہ کرے۔
ایرانی مؤقف کے جواب میں اطالوی وزیر خارجہ انتونیو تاجانی نے سوشل میڈیا پر ایک بیان میں کہا کہ "روم امن اور مکالمے کا دارالحکومت بن چکا ہے۔" ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ایرانی وزیر خارجہ کو جوہری ہتھیاروں کے خلاف مذاکرات کے راستے پر قائم رہنے کی ترغیب دی۔
اطالوی وزیر خارجہ نے امید ظاہر کی کہ یہ مذاکرات مشرقِ وسطیٰ کے لیے مثبت اور پائیدار حل کی جانب پیش رفت ثابت ہوں گے۔یہ مذاکرات ایک ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور جوہری معاہدے کی بحالی سے متعلق عالمی سطح پر خدشات بڑھتے جا رہے ہیں۔ ان مذاکرات کو نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن کے لیے بھی اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔