ایران اور امریکا کے درمیان اعلیٰ سطح کے مذاکرات 12 اپریل کو عمان میں ہونے جا رہے ہیں۔
یہ مذاکرات ایران اور امریکا کے درمیان کشیدہ تعلقات اور مختلف سیاسی مسائل کے تناظر میں اہمیت رکھتے ہیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ یہ مذاکرات اعلیٰ سطح پر ہوں گے، اور ان کے مطابق یہ بات چیت ممکنہ طور پر ایک معاہدے کی طرف لے جا سکتی ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ اگر یہ مذاکرات کامیاب نہیں ہوئے تو ایران کو بہت بڑے خطرے کا سامنا ہوگا۔اس سے قبل ایران نے براہِ راست مذاکرات کے بجائے عمان کے ذریعے بات چیت کرنے کی خواہش ظاہر کی تھی، مگر ٹرمپ نے اپنی پوزیشن برقرار رکھی ہے کہ امریکا ایران کے ساتھ براہِ راست بات چیت کرے گا۔ اس وقت ایران کی جانب سے مذاکرات میں وزیر خارجہ عباس عراقچی جبکہ امریکا کی طرف سے اسٹیو وٹکوف شرکت کریں گے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ مذاکرات امریکا کے ساتھ سیاسی تنازعات کو حل کرنے کے امکانات کا جائزہ لینے کے لیے اہم ہیں۔ ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات ایک موقع اور امتحان دونوں ہیں، اور اب گیند امریکا کے کورٹ میں ہے۔روس نے بھی اس بات پر تنقید کی ہے کہ امریکا کی دھمکیاں ناقابلِ قبول ہیں، اور وہ امید کرتا ہے کہ امریکا اس بات چیت میں سنجیدہ ہو گا۔یہ مذاکرات ایران اور امریکا کے مابین تعلقات میں نیا موڑ ثابت ہو سکتے ہیں، اور ان کا عالمی سیاست پر بھی اہم اثر پڑ سکتا ہے۔