ماسکو: روس نے امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کم کرنے کے لیے ایک بار پھر ثالثی کی پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر دونوں ممالک درخواست کریں تو ماسکو مذاکرات میں سہولت فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
روس نے ایران کے افزودہ یورینیم کے معاملے پر بھی تعاون کی پیشکش کی ہے اور کہا ہے کہ ضرورت پڑنے پر وہ ایرانی افزودہ یورینیم اپنے پاس رکھنے کے لیے تیار ہے۔روسی حکومت کے ترجمان اور کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف کے مطابق ماسکو امریکا اور ایران کے درمیان تنازع کے حل کے لیے سفارتی کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر متعلقہ فریق درخواست کریں تو روس دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کرا سکتا ہے۔روسی پیشکش میں خاص طور پر ایران کے افزودہ یورینیم کا معاملہ اہمیت رکھتا ہے، جسے امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ایک اہم اختلافی نکتہ سمجھا جاتا ہے۔ روس کا کہنا ہے کہ اگر یہ معاملہ سفارتی پیش رفت میں رکاوٹ بنتا ہے تو وہ ایرانی افزودہ یورینیم کو اپنے پاس رکھنے کے لیے تیار ہے۔
اس پیشکش کا مقصد ممکنہ طور پر یورینیم کے ذخیرے سے متعلق خدشات کو کم کرنا اور مذاکرات کے لیے کوئی قابلِ قبول راستہ نکالنا ہے۔ تاہم روسی حکام کی جانب سے یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یورینیم کی منتقلی کس طریقہ کار کے تحت ہوگی یا اس حوالے سے امریکا اور ایران کی جانب سے کوئی باضابطہ رضامندی سامنے آئی ہے۔امریکا اور ایران کے درمیان جوہری پروگرام، یورینیم کی افزودگی اور خطے میں جاری کشیدگی سمیت متعدد معاملات پر اختلافات موجود ہیں۔ ایسے میں افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا مستقبل کسی بھی ممکنہ سفارتی سمجھوتے میں اہم حیثیت رکھتا ہے۔