نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا ایک روزہ دورۂ کابل — سیکیورٹی، تجارت اور باہمی تعلقات پر اہم مذاکرات متوقع

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا ایک روزہ دورۂ کابل — سیکیورٹی، تجارت اور باہمی تعلقات پر اہم مذاکرات متوقع

پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار ایک روزہ دورے پر افغانستان کے دارالحکومت کابل روانہ ہو گئے ہیں۔

 ان کے ہمراہ ایک اعلیٰ سطح کا وفد بھی کابل گیا ہے، جس کا مقصد پاکستان اور افغانستان کے مابین دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانا ہے۔

نور خان ایئر بیس پر میڈیا سے گفتگو:
روانگی سے قبل اسحاق ڈار نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا:"افغانستان کے ساتھ ہمارے برادرانہ اور تاریخی تعلقات ہیں۔ وہ ہمارا ہمسایہ ملک ہے، اور ہم چاہتے ہیں کہ دونوں ممالک مل کر کام کریں۔"
دورے کی تفصیلات:
اسحاق ڈار کابل میں افغان عبوری وزیرِ اعظم اور نائب وزیرِ اعظم برائے اقتصادی امور سے ملاقاتیں کریں گے۔افغان وزیرِ خارجہ امیر خان متقی سے وفود کی سطح پر مذاکرات ہوں گے۔
مذاکرات کے اہم نکات:
دوطرفہ سیکیورٹی تعاون
تجارت اور معاشی روابط
سرحدی رابطہ کاری
عوامی روابط، نقل و حرکت اور ویزا پالیسی
دہشتگردی سے نمٹنے کے مشترکہ اقدامات
پس منظر:
یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب دونوں ممالک کے تعلقات میں کچھ کشیدگی پائی جاتی رہی ہے، خاص طور پر سرحدی سیکیورٹی، غیر قانونی ہجرت، اور دہشت گردی کے خدشات کے باعث۔ پاکستان کی جانب سے غیر قانونی افغان باشندوں کی واپسی کا عمل بھی جاری ہے، جس پر افغان عبوری حکومت نے بعض تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

متوقع نتائج:
اس اہم ملاقات سے توقع کی جا رہی ہے کہ:دوطرفہ اعتماد میں اضافہ ہو گا۔تجارتی سرگرمیوں کو وسعت دی جا سکے گی۔سیکیورٹی امور پر بہتر ہم آہنگی ممکن ہو گی۔