امریکا میں شام کے سابق عہدیدار کو قیدیوں پر تشدد کا ارتکاب کرنے پر 60 سال قید کی سزا

امریکا میں شام کے سابق عہدیدار کو قیدیوں پر تشدد کا ارتکاب کرنے پر 60 سال قید کی سزا

لاس اینجلس: امریکی وفاقی عدالت نے سابق شامی عہدیدار سمیر عثمان الشیخ کو قیدیوں پر تشدد اور امریکی امیگریشن حکام سے جھوٹ بولنے کے مقدمے میں 60 سال قید کی سزا سنا دی۔

لاس اینجلس کی وفاقی عدالت نے یہ سزا 17 ستمبر 2026 کو سنائی۔ امریکی محکمہ انصاف کے مطابق سمیر عثمان الشیخ بشار الاسد حکومت کا اب تک کا اعلیٰ ترین سطح کا سابق عہدیدار ہے جسے شام سے باہر امریکا میں موجودگی کے دوران مقدمہ چلا کر سزا سنائی گئی ہے۔

عدرا جیل میں تشدد کے الزامات
سمیر عثمان الشیخ تقریباً 2005 سے 2008 تک دمشق کے عدرا جیل کا سربراہ رہا۔ استغاثہ کے مطابق جیل کے ایک حصے، جسے ونگ 13 کہا جاتا تھا، میں قیدیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا تھا۔امریکی استغاثہ کے مطابق الشیخ نے بعض قیدیوں پر تشدد کے احکامات جاری کیے جبکہ کچھ واقعات میں وہ خود بھی مبینہ طور پر ملوث رہا۔امریکی عدالت نے مارچ 2026 میں اسے مجموعی طور پر 6 الزامات میں مجرم قرار دیا تھا، جن میں تشدد کی سازش، تشدد کے 3 مقدمات، ویزا فراڈ اور امریکی شہریت کے حصول میں فراڈ شامل تھے۔

امریکا پہنچنے کے بعد بھی تحقیقات سے بچنے کی کوشش
امریکی حکام کے مطابق سمیر عثمان الشیخ 2020 میں امریکا پہنچا۔ استغاثہ کا کہنا تھا کہ اس نے شام میں اپنی سابقہ سرگرمیوں اور مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق معلومات امریکی امیگریشن حکام سے چھپائیں۔حکام کے مطابق اس نے مبینہ طور پر غلط معلومات فراہم کرکے پہلے گرین کارڈ اور بعد ازاں امریکی شہریت حاصل کرنے کی کوشش کی۔سمیر عثمان الشیخ کو جولائی 2024 میں گرفتار کیا گیا تھا، جس کے بعد اس کے خلاف امریکی وفاقی عدالت میں مقدمہ آگے بڑھا۔

امریکی محکمہ انصاف کا مؤقف
امریکی محکمہ انصاف کے مطابق یہ سزا ان افراد کے خلاف کارروائی کا حصہ ہے جو ماضی میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث رہے اور بعد ازاں امریکا میں داخل ہوکر اپنی سابقہ سرگرمیوں سے متعلق معلومات حکام سے چھپانے کی کوشش کرتے رہے۔عدالت کی جانب سے 60 سال قید کی سزا سنائے جانے کے بعد سمیر عثمان الشیخ کو شام سے باہر اس کے خلاف چلنے والے مقدمے میں طویل قید کی سزا پانے والے نمایاں سابق شامی عہدیداروں میں شمار کیا جارہا ہے۔