سرکاری نرخ نامہ نظرانداز، سبزیوں اور پھلوں کی قیمتوں میں بڑا فرق

سرکاری نرخ نامہ نظرانداز، سبزیوں اور پھلوں کی قیمتوں میں بڑا فرق

شہر کی اوپن مارکیٹ میں سبزیوں اور پھلوں کی قیمتوں میں سرکاری نرخ اور عملی فروخت کے درمیان واضح فرق برقرار ہے، جس کے باعث شہریوں کو مقررہ قیمتوں کے بجائے زائد نرخوں پر اشیائے ضروریہ خریدنا پڑ رہی ہیں۔

 آلو کی سرکاری قیمت 30 روپے فی کلو مقرر ہے، تاہم اوپن مارکیٹ میں 50 روپے کلو فروخت ہو رہا ہے۔ پیاز کا سرکاری نرخ 170 روپے مقرر ہونے کے باوجود بازار میں 250 روپے کلو تک فروخت کیا جا رہا ہے۔ملکی ٹماٹر کی سرکاری قیمت 160 روپے فی کلو مقرر ہے، لیکن صارفین کو بازار میں یہی ٹماٹر 290 روپے کلو تک خریدنا پڑ رہے ہیں۔ اسی طرح لہسن کا سرکاری نرخ 280 روپے ہے جبکہ اوپن مارکیٹ میں قیمت 390 روپے کلو تک پہنچ گئی ہے۔ادرک کی سرکاری قیمت 320 روپے فی کلو کے مقابلے میں 400 روپے وصول کیے جا رہے ہیں۔ سبزیوں میں بھنڈی 180 روپے کے سرکاری نرخ کے بجائے 250 روپے، کریلا 190 روپے کے بجائے 260 روپے جبکہ ٹینڈے 170 روپے کے مقررہ نرخ کے مقابلے میں 250 روپے کلو فروخت ہو رہے ہیں۔اروی کی سرکاری قیمت 70 روپے فی کلو مقرر ہے، تاہم بازار میں 120 روپے کلو میں فروخت جاری ہے۔ شملہ مرچ کا سرکاری نرخ 250 روپے مقرر کیا گیا ہے جبکہ اوپن مارکیٹ میں اس کی قیمت 290 روپے کلو تک پہنچ گئی ہے۔

پھل بھی سرکاری نرخ سے مہنگے
پھلوں کی قیمتوں میں بھی سرکاری نرخ اور اوپن مارکیٹ کی فروخت کے درمیان نمایاں فرق موجود ہے۔ انگور کی سرکاری قیمت 560 روپے فی کلو مقرر ہے، تاہم بازار میں 700 روپے کلو تک فروخت کیے جا رہے ہیں۔آڑو کا سرکاری نرخ 300 روپے فی کلو ہے جبکہ مارکیٹ میں 380 روپے کلو وصول کیے جا رہے ہیں۔ سیب کی سرکاری قیمت 350 روپے کے مقابلے میں 400 روپے کلو تک فروخت ہو رہا ہے۔کیلے کی سرکاری قیمت 180 روپے فی درجن مقرر ہے، تاہم بازار میں 200 روپے درجن میں دستیاب ہیں۔ امرود کی سرکاری قیمت 180 روپے فی کلو مقرر ہونے کے باوجود اوپن مارکیٹ میں 290 روپے کلو تک فروخت کیا جا رہا ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ سرکاری نرخ نامے موجود ہونے کے باوجود عملی طور پر ان پر عملدرآمد نہیں ہو رہا، جس کے باعث انہیں روزمرہ استعمال کی سبزیاں اور پھل مقررہ نرخ سے زائد قیمتوں پر خریدنے پڑ رہے ہیں۔ شہریوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ سرکاری نرخوں پر اشیائے خورونوش کی دستیابی یقینی بنانے کے لیے مؤثر نگرانی اور کارروائی کی جائے۔