حکومت کی نئی کفایت شعاری مہم، سرکاری فیول میں 50 فیصد کٹوتی، سرکاری سمیت ہر قسم کی نئی گاڑیوں کی خریداری اور سرکاری عشائیوں کی میزبانی پر پابندی عائد

دکانیں‘مارکیٹیں9بجے بند‘غیر ملکی دوروں پرپابندی حکومت اور اشرافیہ سے قربانی کا آغاز کیا جائیگا:شہبازشریف
شادی ہال، مارکیز اور دیگر تقریبات کے مقامات رات 10 بجے بند ہوں گے‘ریسٹورنٹس، کیفے،فوڈ آؤٹ لیٹس رات 11 بجے بند ہوں گے ‘ ٹیک اوے اورہوم ڈیلیوری  کو پابندی سے مستثنیٰ  قرار دیا گیا ہے
فارمیسیز،ہسپتال، کلینکس، میڈیکل لیبارٹریز، پٹرول پمپس ، بیکریز، تنور، دودھ و ڈیری شاپس، الیکٹرک وہیکل چارجنگ سٹیشن، جم اور دیگر ضروری شعبے بھی پابندیوں سے مستثنیٰ ہوں گے
 ہونہار اور مستحق طلبہ کو میرٹ پر معیاری اور جدید تعلیم کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے،دانش یونیورسٹی میں داخلوں کیلئے طلبہ کا انتخاب میرٹ پر کیا جائے گا وزیراعظم کی  جائزہ اجلاس میں گفتگو
اسلام آباد(ایجنسیاں‘مانیٹرنگ ڈیسک) وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے دنیا بھر مہنگائی کی لپیٹ میں ہے،سب سے پہلے حکومت اور اشرافیہ سے قربانی کا آغازکیا جائے گا،معاشی طور پر کمزور اور متوسط طبقے کیلئے فیول سبسڈی کا آغاذ ہو چکا،موٹر سائیکل، رکشہ اور 800 سی سی گاڑیوں کو 100 روپے فی لیٹر کے تناسب سے سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے مشرق وسطی میں کشیدگی کی وجہ سے عالمی منڈی میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے تناظر میں ملک بھر میں سادگی و کفایت شعاری مہم کی منظوری دے دی۔فیصلہ اسلام آباد میں وزیرِ اعظم کی زیر صدارت منعقدہ کفایت شعاری اور توانائی کے تحفظ کے اقدامات پر اہم اجلاس میں ہوا۔وزیراعظم نے سرکاری اخراجات میں غیر ضروری کمی اور قومی وسائل کے دانشمندانہ استعمال کو یقینی بنانے اور متعلقہ اداروں کو کفایت شعاری اقدامات پر مؤثر اور فوری عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی۔‘حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کے استعمال اور سرکاری اخراجات میں کفایت شعاری سے متعلق اہم اقدامات کا نوٹیفکیشن جاری کردیا۔نوٹیفکیشن کے مطابق تمام سرکاری گاڑیوں کے فیول استعمال میں 50 فیصد کمی کی جائے گی، تاہم آپریشنل گاڑیاں، مسلح افواج، سول آرمڈ فورسز، قانون نافذ کرنے والے اداروں، ضروری خدمات اور ایف بی آر کی گاڑیاں اس پابندی سے مستثنی ہوں گی۔حکومت نے سرکاری گاڑیوں سمیت ہر قسم کی نئی گاڑیوں کی خریداری پر مکمل پابندی عائد کردی ہے، جبکہ آئی ٹی سے متعلق خریداری کے علاوہ تمام پائیدار اشیا کی خریداری بھی ممنوع قرار دی گئی ہے۔وفاقی حکومت کے تحت تین ماہ کے لیے غیر ملکی دوروں اور سفری پابندی عائد کی گئی ہے، تاہم مخصوص استثنی برقرار رہیں گے۔ ناگزیر غیر ملکی دوروں کی صورت میں وزرا، مشیران اور سرکاری حکام صرف اکانومی کلاس میں سفر کریں گے۔نوٹیفکیشن میں سرکاری اجلاسوں کے لیے ویڈیو کانفرنسنگ کو ترجیح دینے کی ہدایت کی گئی ہے، جبکہ غیر ملکی وفود کے علاوہ سرکاری عشائیوں کی میزبانی پر مکمل پابندی ہوگی۔حکومت کے فنڈز سے ہونے والے سرکاری سیمینارز، تربیتی پروگرامز اور کانفرنسز پر بھی پابندی عائد کردی گئی ہے، جبکہ ناگزیر سرکاری تقریبات کے لیے سرکاری آڈیٹوریم اور کمیٹی رومز استعمال کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔کفایت شعاری اقدامات کے تحت شادی کی تقریبات میں صرف ایک ڈش پیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔نوٹیفکیشن کے مطابق دکانیں، مارکیٹس، شاپنگ مالز اور بازار رات 9 بجے، شادی ہالز، مارکیز اور دیگر تقریبات کے مقامات رات 10 بجے جبکہ ریسٹورنٹس، کیفے اور فوڈ آٹ لیٹس رات 11 بجے بند ہوں گے۔ ٹیک اوے اور ہوم ڈیلیوری کو اوقات کار کی پابندی سے مستثنی قرار دیا گیا ہے۔فارمیسیز، اسپتال، کلینکس، میڈیکل لیبارٹریز، پٹرول پمپس اور دیگر ضروری شعبے اوقات کار کی پابندی سے مستثنی ہوں گے۔ بیکریز، تندور، دودھ و ڈیری شاپس، الیکٹرک وہیکل چارجنگ اسٹیشنز اور جم بھی استثنی میں شامل ہیں۔نوٹیفکیشن کے مطابق کفایت شعاری اقدامات سے استثنی کی درخواستیں کیس ٹو کیس بنیاد پر زیر غور لائی جائیں گی، جبکہ صوبائی اور علاقائی حکومتیں بھی اسی نوعیت کے کفایتی اقدامات اپنانے پر غور کرسکتی ہیں۔مزید بتایا گیا ہے کہ 50 فیصد کٹوتی انتظامی اور نان آپریشنل سرگرمیوں پر لاگو ہوگی، جبکہ نان ایمپلائز اخراجات میں بھی 5 فیصد کٹوتی نافذ کردی گئی ہے۔ یہ کٹوتی پورے مالی سال کے دوران ماہانہ بنیاد پر کی جائے گی۔نوٹیفکیشن کے مطابق غیر ملکی مشنز، پیشہ ورانہ گروپس اور سروسز پر بھی نان ایمپلائز اخراجات میں 5 فیصد کٹوتی نافذ ہوگی۔ دریں اثناء  شہباز شریف نے کہا ہے کہ ہونہار اور مستحق طلبہ کو میرٹ پر معیاری اور جدید تعلیم کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے،دانش یونیورسٹی میں داخلوں کیلئے طلبہ کا انتخاب میرٹ پر کیا جائے گا۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت دانش یونیورسٹی کے حوالے سے جائزہ اجلاس ہوا، جس میں دانش یونیورسٹی کے قیام سے متعلق وزیراعظم کی مختلف ہدایات پر پیش رفت سے آگاہ کیا گیا۔ شہباز شریف نے کہا کہ دانش یونیورسٹی پاکستان کے باصلاحیت اور مستحق نوجوانوں کو عالمی معیار کی تعلیم کے مواقع فراہم کرے گی، دانش یونیورسٹی بہترین تعلیمی، تحقیقی اور جدید تکنیکی سہولیات کی بدولت ملک بھر اور پورے خطے میں ٹیکنالوجی کے شعبے میں ایک مرکزِ امتیاز کے طور پر ابھرے گی۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ دانش یونیورسٹی میں داخلوں کیلئے پورے پاکستان سے باصلاحیت طلبہ کا انتخاب میرٹ پر کیا جائے گا