عرب میڈیا کے مطابق حماس کے سینئر رہنما غازی حماد قطر میں اسرائیلی حملے کے بعد پہلی مرتبہ میڈیا پر سامنے آئے اور صورتحال کی تفصیلات بیان کیں۔
غازی حماد کا کہنا تھا کہ ہمارا مذاکراتی وفد امریکی تجویز پر قطری ثالثوں سے یرغمالیوں کے معاملے پر بات چیت کر رہا تھا کہ اچانک ہمیں زوردار دھماکے سنائی دیے۔ ہمیں فوری اندازہ ہوگیا کہ یہ اسرائیلی بمباری ہے، جس کے بعد ہم جائے وقوع سے نکل گئے۔ان کے مطابق حملے کے دوران اسرائیل نے حماس کے 5 ارکان اور قطری سیکیورٹی اہلکار کو شہید کردیا۔حماس رہنما نے مزید کہا کہ یہ بمباری انتہائی شدید تھی، "ایک منٹ سے بھی کم وقت میں 12 راکٹ ہمارے آس پاس پھٹے، لیکن اللہ کے فضل سے ہم محفوظ رہے۔"انہوں نے واضح کیا کہ اس روز جاری مذاکرات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یرغمالیوں سے متعلق دی گئی تجاویز پر مرکوز تھے، تاہم اسرائیلی کارروائی کے باعث یہ عمل معطل ہوگیا۔