وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے واشنگٹن ڈی سی میں فِچ ریٹنگز کے حکام سے ایک اہم ملاقات کی، جس میں انہوں نے پاکستان کی اقتصادی صورتحال، اصلاحات اور مستقبل کے اقدامات پر تفصیل سے گفتگو کی۔
اس ملاقات کا مقصد پاکستان کی مالی پوزیشن کو بہتر بنانے کے لیے بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانا اور اعتماد سازی کرنا تھا۔ملاقات کے دوران، وزیر خزانہ نے فِچ ریٹنگز کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ کو B- کے ساتھ مستحکم آؤٹ لک دیا ہے، جو ملک کی معاشی حالت میں بہتری کی علامت ہے۔ انہوں نے تینوں بڑی بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسیوں کی درجہ بندی میں ہم آہنگی پر اطمینان کا اظہار کیا اور اس بات پر زور دیا کہ حکومت معاشی استحکام اور ترقی کے لیے مکمل پرعزم ہے۔وزیر خزانہ نے فِچ ٹیم کو پاکستان کے حالیہ اقدامات سے آگاہ کیا، جن میں ٹیکس نظام میں اصلاحات، توانائی کے شعبے میں بہتری، سرکاری اداروں کی کارکردگی، اور نجکاری کے پروگرام شامل ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت نجکاری کے عمل کو تیز کرنے کے لیے پرعزم ہے تاکہ سرکاری اداروں کی کارکردگی میں اضافہ اور مالی استحکام حاصل کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ، انہوں نے پاکستان کے چینی مارکیٹ میں پانڈا بانڈ کے اجرا کے عمل، اور امریکہ کے ساتھ تجارتی اور ٹیرف بات چیت کے بارے میں بھی تفصیل سے بتایا۔
وزیر خزانہ نے فِچ ٹیم کو پاکستان کی معیشت کی موجودہ صورتحال، اصلاحاتی پروگرام، اور استحکام کے اقدامات سے بھی آگاہ کیا۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کی معیشت میں استحکام اور اصلاحاتی عمل جاری رہے گا، اور بیرونی سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا جائے گا۔ملاقات کے دوران، فِچ ٹیم کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے، وزیر خزانہ نے مختلف معاشی اور مالی مسائل پر وضاحت فراہم کی۔ اس موقع پر، انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان کی اقتصادی ترقی کے لیے بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانا بہت اہم ہے اور حکومت اس مقصد کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کرے گی۔آخر میں، وزیر خزانہ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ حکومت ملک کی معیشت کو مستحکم اور ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے تمام تر کوششیں جاری رکھے گی، تاکہ ملک کی مالی حالت بہتر بنائی جا سکے اور عوام کے لیے روزگار اور ترقی کے مواقع فراہم کیے جا سکیں۔