خیبرپختونخوا میں حالیہ سیلابوں نے صوبے کے آبپاشی نظام کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
محکمہ آبپاشی کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق ایریگیشن انفرااسٹرکچر کو مجموعی طور پر 10 ارب 26 کروڑ روپے سے زائد کا نقصان ہوا ہے۔
رپورٹ کے مطابق:
چارسدہ سب سے زیادہ متاثر ہوا جہاں آبپاشی نظام اور واٹر کورسز کو نقصان پہنچا، دریائے سوات اور دریائے کابل کے کنارے بندھ ٹوٹ گئے اور تقریباً 6 کلو میٹر حفاظتی بندھ اور ریٹیننگ والز سیلابی ریلے میں بہہ گئیں، نقصان کی مالیت 1 ارب 71 کروڑ روپے ریکارڈ کی گئی۔
بٹگرام میں حفاظتی پشتے اور کھیتوں کو پانی دینے والا نظام مکمل طور پر تباہ ہوگیا، نقصان 1 ارب 68 کروڑ روپے سے زیادہ ہوا۔
مانسہرہ میں نقصان 1 ارب 42 کروڑ روپے جبکہ شانگلہ میں 1 ارب 12 کروڑ روپے رہا، کئی نہریں اور فلڈ پروٹیکشن پشتے متاثر ہوئے۔
ایبٹ آباد میں فلڈ پروٹیکشن وال بہہ جانے سے ساڑھے 43 کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔
باجوڑ میں حفاظتی پشتے بہہ گئے اور کھیتوں کو پانی دینے والا پورا نظام متاثر ہوا، نقصان کی مالیت 39 کروڑ 90 لاکھ روپے ریکارڈ کی گئی۔
بونیر میں فلڈ پروٹیکشن وال اور نہریں متاثر ہوئیں، نقصان 9 کروڑ 30 لاکھ روپے کا ہوا۔
ڈیرہ اسماعیل خان میں نقصان 60 کروڑ 90 لاکھ روپے جبکہ بنوں میں ایریگیشن انفرااسٹرکچر کو 3 کروڑ روپے کا نقصان پہنچا۔
محکمہ آبپاشی کے مطابق حالیہ تباہ کاریوں نے صوبے کے زرعی شعبے کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے اور زرعی اراضی کو پانی پہنچانے والا بڑا حصہ برباد ہوگیا ہے۔