سگریٹ پر ٹیکس اور منافع پر بحث، وکیل اعجاز زاہد نے ایف بی آر اعداد و شمار پیش کیے کردیئے
اسلام آباد(آن لائن)سپریم کورٹ آئینی بنچ نے سپرٹیکس کیس کی سماعت پیر تک کے لیے ملتوی کردی جبکہ جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیے ہیں کہ چھبیسویں ترمیم کے بعد آئینی بینچ ہیں، ہم نے تمام آئینی مقدمات دیکھنے ہیں، ہم کیسے آئینی سوال کو اگنور کر سکتے ہیں؟۔ 18 ویں ترمیم کے بعد سینیٹ میں نسبتاً زیادہ ٹیکنوکریٹ ہیں، اس لیے وہاں سے مشورے بہتر آسکتے ہیں۔جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس یدے کہ ہم مقدمے کے حقائق میں نہیں جائیں گے آپ قانونی سوالات پر دلائل دیں۔یہ ریمارکس جمعہ کو دیے ہیں۔ وکیل اعجاز احمد زاہد نے عدالت کو بتایا کہ ایف بی آر میں کل 10 ٹوبیکو کمپنیاں رجسٹرڈ ہیں۔ ایف بی آر کے وکلا نے اپنے دلائل کے دوران ایک ٹیبل پیش کیا اور اپنا موقف تبدیل کر لیا۔ ایک سگریٹ کی ڈبی جو 173 روپے کی ہے اس پر 44 ٹیکس ہے۔ ٹوبیکو کی قیمت پاکستان ٹوبیکو کمپنی کنٹرول کرتی ہے۔ ایک سگریٹ کا پیکٹ جس کی قیمت 77 روپے ہے اس پر 44 روپے ٹیکس ہے اور 33 روپے بچت ہے۔ موجودہ قانونی رجیم کے ہوتے ہوئے ونڈ فال لینا میرے لیے ممکن نہیں ہے۔