اپوزیشن نے پنجاب اسمبلی سے ریلی اور وکلا نے جی پی او چوک سے ریلی نکالی
قوم جبر کے نظام کو اکھاڑ پھینکے گی، سلمان اکرم ،سپریم کورٹ کو غیر موثر بنادیا ،نسوانہ
لاہور، اسلام آباد (خصوصی رپورٹ)اپوزیشن نے پنجاب اسمبلی سے ریلی چیئرنگ کراس تک احتجاجی ریلی نکالی۔تمام اپوزیشن ارکان ’کالے قانون‘ اور 27ویں ترمیم کے خلاف احتجاجی واک کی اور نعرے لگائے ، جبکہ 27 ویں آئینی ترمیم کیخلاف لاہور ہائیکورٹ بارایسوسی ایشن کے زیر اہتمام جی پی او چوک سے ججز گیٹ اشارے تک ریلی نکالی گئی، وکلاء نے حکومت کیخلاف نعرے بازی کی۔ریلی کے بعد اپوزیشن رہنماؤں نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے حکومت کی جانب سے پیش کی گئی 27ویں آئینی ترمیم کو مکمل طور پر مسترد کر دیا۔ اپوزیشن لیڈر معین ریاض قریشی نے کہا کہ یہ ترامیم صوبوں میں محرومی پھیلانے کا باعث بنیں گی اور انہیں محض ذاتی مفادات کے لیے لایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحریک تحفظ آئین نے عوام کو احتجاج کی کال دی ہے اور ہم اس کال پر پورا اتریں گے۔جنرل سیکرٹری پی ٹی آئی سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان آج طاقت ور افراد کی ریاست بنتا جا رہا ہے۔ 27ویں آئینی ترمیم کے ذریعے عدلیہ پر براہِ راست حملہ کیا گیا ہے، جس کی کسی طور اجازت نہیں دی جا سکتی۔ یہ قوم بہادر ہے اور ایک دن ضرور جبر کے نظام کو اکھاڑ پھینکے گی۔ادھر 27 ویں آئینی ترمیم کیخلاف لاہور ہائیکورٹ بارایسوسی ایشن کے زیر اہتمام جی پی او چوک سے ججز گیٹ اشارے تک ریلی نکالی گئی، وکلاء نے حکومت کیخلاف نعرے بازی کی، قبل ازیں لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کا اجلاس ہوا، صدر لاہور ہائیکورٹ بار ملک آصف نسوانہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 27 ویں ترمیم کے ذریعے متوازی آئینی عدالت بنا کر سپریم کورٹ کو غیر موثر بنادیا گیا،آج عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ کیلئے کوئی عدالت موجود نہیں، ہم وکلاء اس آئینی عدالت کو مسترد کرتے ہیں، ججز کے تبادلے کے اختیارات کو ہم وکلاء مسترد کرتے ہیں، جیل میں بیٹھے ایک شخص کے خوف سے آپ نے استثنیٰ لیا ہے،ہمیں اپنی صفوں میں چھپے غداروں کو پہچاننے کی ضرورت ہے،ہائیکورٹ بار اور لاہور بار ہر جمعرات کو اجلاس منعقد کرکے ریلی نکالیں گے،کل آل پاکستان وکلاء ایکشن کمیٹی اگلا لائحہ عمل دے گی،جنرل سیکرٹری پی ٹی آئی سلمان اکرم راجہ ایڈووکیٹ نے کہا کہ آج ہم پھر وہاں کھڑے ہیں جہاں اس ملک کی تاریخ میں بار بار کھڑا ہونا پڑا ہے، ہم گھروں میں نہیں بیٹھ سکتے، آج پھر وقت آ گیا ہے کھڑے ہونے کا۔ اس کے علاؤہ کوئی چارہ نہیں، آج اس ملک میں شرافت، آئین اور قانون کی کوئی جگہ نہیں ہے، ویگو ڈالا کسی کو بھی اٹھا سکتا ہے اور اندھی گونگی عدالتوں میں پیش کیا جا سکتا ہے، آج ہم سب کو متحد ہو کر اپنے حقوق کیلئے نکلنا ہو گا۔ادھر تحریک تحفظ آئین پاکستان کے وفد نے گذشتہ روز جوڈیشل کمپلیکس کا دورہ کیا،محمود خان اچکزئی، علامہ راجہ ناصر عباس، اسد قیصر، مصطفی نواز کھوکھرپر مشتمل وفد نے جوڈیشل کمپلہکس خودکش دھماکہ پر وکلاء کیساتھ افسوس کا اظہار کیا اورخودکش دھماکے کے شہداء کیلئے فاتحہ خوانی کی، بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کے دوران علامہ راجہ ناصر عباس نے کہاکہ سرحدوں پر حملہ اوروں کے خلاف بھی کھڑا ہونا ہوگا اور ائین پر حملہ اوروں کے خلاف بھی کھڑا ہونا ہوگا۔جو طالبان کو لایا اس پر خدا کی لعنت ہو،جس نے آئین میں ترامیم کروائی اس پر بھی لعنت ہو،تا حیات استثنیٰ قران اور سنت کے خلاف ہے، اسد قیصرنے کہاکہ ،26ویں اور 27ویں ائینی ترمیم کے ذریعے عدالتوں کو مفلوج کر دیا گیا ،ہم 26 ویں اور 27 ویں ائینی ترمیم کے خلاف بھرپور اواز اٹھائیں گے،مصطفی نواز کھوکھرنے کہاکہ 27 ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے احتجاج کریں گے،آزاد عدلیہ پر یقین رکھنے والوں کے ساتھ ملکر تحریک چلائیں گے۔