جمہوری اقدار کے تحفظ کے لیے پارلیمان کے اندر اور باہر جدوجہد جاری رکھیں گے ، ارکان
آئندہ اجلاس میں ترمیم کے خلاف مزاحمتی حکمتِ عملی طے کی جائے گی،شرکا ء کا مشترکہ موقف
اسلام آباد(خصوصی رپورٹ) تحریک انصاف اور اپوزیشن اتحاد نے آئین کی بالادستی، عدلیہ کی آزادی اور جمہوری اقدار کے تحفظ کے لیے پارلیمان کے اندر اور باہر بھرپور جدوجہد جاری رکھنے کا اعلان کر دیا ، تحریک انصاف اور اپوزیشن اتحاد کی پارلیمانی پارٹیوں کا مشترکہ اہم اجلاس پیر کے روزقومی اسمبلی میں ہوا۔ اجلاس کی صدارت قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ ناصر عباس نے کی۔اجلاس میں تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان، سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، چیف وہپ ملک عامر ڈوگر، بیرسٹر علی ظفر، لطیف کھوسہ سمیت دیگر ارکانِ پارلیمان نے شرکت کی۔چیف وہپ ملک عامر ڈوگر نے اجلاس کی کارروائی چلائی، ایجنڈا پیش کیا۔اجلاس بانی چیئرمین عمران خان کی جانب سے اپوزیشن لیڈرز کی نامزدگی کے بعد مشترکہ پارلیمانی پارٹی کا پہلا اجلاس تھا، جس میں اپوزیشن کے متحدہ لائحہ عمل اور آئندہ پارلیمانی حکمتِ عملی پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔اجلاس میں بیرسٹر علی ظفر اور سلمان اکرم راجہ نے اراکین کو 27ویں آئینی ترمیم کے مجوزہ مسودے پر بریفنگ دی۔ ارکان نے ترمیم کے مختلف پہلوئوں پر تفصیلی غور کیا اور اس پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔سینئر رہنما لطیف کھوسہ نے آئینی عدالت کے مجوزہ قیام پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ اس قسم کی ترامیم آئین کے بنیادی ڈھانچے اور عدلیہ کی آزادی کے منافی ہیں۔ اجلاس کے شرکاء نے متفقہ طور پر اس موقف کا اظہار کیا کہ 27ویں آئینی ترمیم کے ذریعے آئین پاکستان، سپریم کورٹ، جمہوریت اور دیگر آئینی اداروں کو کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جو کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ارکانِ پارلیمان نے عزم کیا کہ وہ آئین کی بالادستی، عدلیہ کی آزادی اور جمہوری اقدار کے تحفظ کے لیے پارلیمان کے اندر اور باہر بھرپور جدوجہد جاری رکھیں گے۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ آئندہ مشترکہ اپوزیشن اجلاس میں اس مجوزہ ترمیم کے خلاف پارلیمانی اور عوامی سطح پر مزاحمتی حکمتِ عملی طے کی جائے گی۔