اپوزیشن اتحاد کا آج سے آئین کی بحالی کے لیے عوامی تحریک شروع کرنے کا اعلان

اپوزیشن اتحاد کا آج سے آئین کی بحالی کے لیے عوامی تحریک شروع کرنے کا اعلان

پاکستان کے سیاسی اور قانونی حلقوں میں آئین کی بحالی اور ملک میں امن و امان کے قیام کے لیے سرگرمیاں زور پکڑ رہی ہیں۔

 اپوزیشن اتحاد نے ملک گیر تحریک شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کا مقصد آئین کی مکمل بحالی اور سیاسی استحکام لانا ہے۔ اس سلسلے میں، انہوں نے آج پارلیمنٹ سے سپریم کورٹ تک ایک احتجاجی واک کرنے کا بھی اعلان کیا ہے، تاکہ عوامی حمایت حاصل کی جا سکے اور اپنے مطالبات حکومت تک پہنچا سکیں۔پی ٹی آئی کے رہنما اسد قیصر نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امن و امان کا قیام حکومت اور سیکیورٹی اداروں کی بنیادی ذمہ داری ہے، مگر موجودہ حکومت سیاسی مخالفین کے خلاف انتقامی کارروائیاں اور غیر آئینی ترامیم کرنے میں مصروف ہے، جو ملک کی سالمیت کے لیے نقصان دہ ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت اپنی ذمہ داریوں سے غافل ہے اور عوام کو آگاہ کرنا ضروری ہے۔ادھر، مجلس وحدت المسلمین کے رہنما علامہ راجا ناصر عباس نے اس موقع پر کہا کہ ہمیں اب باہر نکلنا ہوگا تاکہ آئندہ نسلوں کے مستقبل کو محفوظ بنایا جا سکے۔

 انہوں نے زور دیا کہ یہ وقت ہے کہ عوام اپنی آواز بلند کریں اور غیر آئینی اقدامات کے خلاف کھڑے ہوں۔دوسری جانب، لاہور ہائیکورٹ بار کے جنرل ہاؤس اجلاس میں وکلا نے بھی بھرپور احتجاج کیا۔ انہوں نے ریلی نکال کر اپنے غم و غصہ کا اظہار کیا اور 27 ویں ترمیم کے خلاف نعرے لگائے۔ وکلا نے جی پی او چوک سے ججز گیٹ اشارہ تک ریلی نکالی، جس میں انہوں نے اس ترمیم کے خلاف آواز بلند کی۔ اس موقع پر، سینئر وکیل سلمان اکرم راجا نے کہا کہ ہمیں اپنی آنے والی نسلوں کے مستقبل کے لیے احتجاج کرنا ہوگا اور ہمیں گھروں میں بیٹھنے کا وقت نہیں ہے۔یہ تمام سرگرمیاں ملک کی سیاسی صورتحال میں بغاوت اور عوامی شعور میں اضافے کا مظہر ہیں، جو آئین کی بحالی اور ملک میں امن قائم کرنے کے لیے ایک اہم مرحلہ ہیں۔