وقار عظیم بھٹی
مسلمان وہ ہے جس کی سیرت و کردار میں اللہ عزوجل اور اْس کے رسول کی تعلیمات کا رنگ نظرآتا ہو یعنی وہ اِیَّاکَ نَعببْدْ کا پیکرہو۔مشہور حدیث ہے رسول اللہ نے فرمایا:’’حقیقی مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے (دوسرے) مسلمان محفوظ رہیں ‘‘جس کی زبان دوسروں کو تکلیف نہ دے،کسی کی تحقیرنہ کرے،فحش کلام،سب وشتم اور گالم گلوچ سے محفوظ ہو۔ زبان لوگوںکیدرمیان محبت اوریہی اْن میں نفرت پیدا کرتی ہے یہ زبان دوست بھی بناتی ہے اوردشمن بھی۔یہ زبان چھری، کانٹے، چاقواور تلوار سے زیادہ گہرا زخم لگاتی ہے۔ آج ہماری معاشرتی و کاروباری زندگی، گھریلو اور دفتری زندگی میں عدم سکون، پریشانی واضطراب اورنااتفاقی وبیچینی کا سب سیبڑا سبب ہماری نوک دار زبان ہے جو ایسا تیزکاٹتی ہے کہ کسی کو دوستی سے کاٹ دیتی ہے، کسی کو رشتے سے فارغ کر دیتی ہے، کسی کی لازوال وفائوں کو ایک لمحے میں خاکسترکر دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا تھا ’’جو شخص مجھے اپنی زبان کی ضمانت دے میں اْسے جنت کی ضمانت دیتاہوں۔‘‘آپ کا یہ بھی فرمان ہے کہ’’مسلمان مسلمان کا بھائی ہے نہ وہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اْسے بییارومددگار چھوڑتا ہے‘‘ مطلب یہ ہے کہ اْس کے ہاتھ کسی بھی انسان کا خون نہ بہائیں اورکسی انسان کا مال نہ لوٹیں۔
آج ہم اپنے وجودوں میں اس مسلمان کو تلاش کرناچاہتے ہیں جس کی نشانیاں نبی نے بیان کی ہیں یہی علامات اور صفات اگر ہمارے وجود میں موجود پائی جائیں تو ہم حدیث نبوی کے مصداق ٹھہرسکتے ہیں۔ رسمی طور پرہم سب مسلمان ہیں اس لیے کہ مسلم گھرانے میں پیدا ہوئے، قطع نظراس کے کہ ہمارا کردار کیساہے؟ معاشرے میںیہ سوال بہت عام ہیکسی سے بھی پوچھ لیں مسلمان کون ہے؟برجستہ جواب ملیگا مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔ اگرتھوڑی سی ہمت کرکے دوسرایہ سوال کر لیں کہ ہمارے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ ہیں؟جس قدر معاشرے کی حالت بگڑی ہوئی ہے شاید ہی کوئی جواب دیسکے کہ میری زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ ہیں۔
قارئین کرام!قرآن وحدیث میں اللہ عزوجل اور حضرت محمدمصطفیٰ کے واضح احکامات موجود ہیں جن پر عمل کرنا ہرمسلمان پر فرض ہیمگر ہم اْنھیں نظراندازکررہے ہیں۔دوسروں کو دکھ، درد، تکلیف اور نفرت سے پکارنا ہمارا شیوہ بن چکا ہے جس دن ہم دوسروں کو بے عزت اور ذلیل نہ کر دیں اس روز طبیعت میں ایک بوجھ محسوس کرتے ہیںجیسے کہیں کوئی کام اَدھورا رہ گیا ہے ہر چھوٹا بڑا خود کو منوانے میں لگا ہے چھوٹا سننا نہیں چاہتا اور بڑا ایک ہی دفعہ سناناچاہتا ہے۔آج اصلاح کا طریقہ اتنا حقارت ا?میزہوچکاہے کہ پیار سے کسی کو سمجھانابھی خودکی توہین سمجھاجاتا ہیمگرسب بھول چکے ہیں کہ جس نبی کی اْمت سے ہمارا تعلق ہے اْن کا طریقہ اصلاح کیسا تھا؟ انھوںنے تومسلمان کی مثال شہد کی مکھی کے ساتھ دی کہ جو بیٹھتی بھی پھولوں پر ہیاور نکالتی بھی شہد ہے یعنی دونوںاعلیٰ چیزیں۔ ہم زبان سے شہدنکال رہے ہیں؟ لوگ ہم سے گفتگو کرنا پسند کرتے ہیں؟ ہمارے چھوٹے ہم سے خوش ہیں؟ بزرگوں کی قدر نوجوانوںکیدلوں میں ہے؟
رسول اللہ نے 10ہجری 9ذوالحجہ کے دن عرفان کے میدان میں کھڑے ہو کرفرمایا تھا ’’ پس تمھارے خون و مال اور تمھاری عزتیں ہمیشہ کے لیے ایک دوسرے پرایسے حرام ہیں جیسے تمھارے اس دن کی اور مبارک مہینے (ذوالحجہ) کی اوراس شہر کی حرمت ہے، تم سب اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہوگے اور وہ تم سے تمھارے اعمال کی بازپْرس کریگا۔‘‘ ہم بھی ذرا اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھیںاورجواب دیںکہ کیا ہمارے ہاتھ سے دوسرے مسلمانوںکی جان، مال اور عزت محفوظ ہے؟ جواب اگر ہاں میں ہے تو پھر مسجدوں، امام بارگاہوں اورتعلیمی اداروںپر حملے کرنیوالے کون ہیں؟ آج ہم سب حیرت کے ساتھ ایک دوسرے سے پوچھتے ہیںکہ دنیا ہماری عزت کیوں نہیں کرتی اورجہاں بھی ہیں رْسوا کیوںہیں ؟ہم کس قدر بیوقوف ہیں ہم یہ تک نہیںجانتے کہ جب ہم نے اللہ وحدہ لاشریک اور اْس کے رسول محمدعربی کی عزت نہیں تودنیا ہماری عزت کیوںکریگی؟
معاشرے میں باعزت زندگی گزارنے کے لیے ضروری ہے کہ ’’جیو اور جینے دو‘‘ کے اصول پر کاربندرہیں۔ بلاوجہ کسی دوسرے کیمعاملات میں مداخلت سے اجتناب کریں، اپنے ہاتھوںاور زبان کو کنٹرول میں رکھیں اوراپنے دل ودماغ میں مثبت سوچ کو پروان چڑھنے دیں۔منافقت اور مصلحت کے فرق کو سمجھیں، اپنے مسلمان بھائی کے لیے بھی وہی جذبات اوراحساسات رکھیں جو اپنے لیے پسند کرتے ہیں۔
جس طرح ایک نفیس آدمی اپنے لباس کو داغ دھبوں سے بچاتاہے اس سے کہیںزیادہ اْسے اپنے دل و دماغ کو گندی وگھٹیا سوچ سے بچانے کی کوشش کرنی چاہیے جیسے اْسیگندے کپڑوں میں شرم محسوس ہوتی ہے اسی طرح گندی سوچ رکھنے میں بھی شرم ا?نی چاہییلہٰذا ہمیشہ مثبت سوچیں اچھابولیں۔رسول اللہ کا فرمان ہے: ’’عورتوں کے متعلق اللہ سے ڈرتے رہو، تم نے انھیں اللہ کی امان کے ساتھ نکاح میںلیا ہے یہ تمھارے پاس اللہ کی امانت ہیں، تم ان کے لباس اور خوراک کا بندوبست کرو۔‘‘
ذرا جائزہ لے کر بتائیے خواتین کے ساتھ ہمارا رویہ شریعت کے مطابق ہے؟عورتوں پرانسانیت سوز تشدد کرنے والیکون ہیں؟ بحیثیت باپ بیٹی کا حق بیٹوں کو دینے والا اوربحیثیت بھائی بہنوںکے حق کھانیوالے کون ہیں؟ارشاد ہوا:’’ہرمسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے، کسی کے لیے جائزنہیں کہ وہ اپنے بھائی کے مال سے کوئی چیز اْس کی اجازت کے بغیرلے، جو کام کرواللہ تعالیٰ کی رضاوخوشنودی کے لیے کرو، غلام کو وہی کھلائو جو خود کھاتیہو، وہی پہنائو جو تم خود پہنتے ہو، اس سے غلطی ہو جائے تو اْسے سزا نہ دینا اور تین مرتبہ فرمایا کہ میں تمھیں پڑوسی کیبارے میں نصیحت کرتا ہوں۔‘‘آئیںاحتساب کریں! ہم عملی طور پر مسلمانوں کو اپنا بھائی سمجھتے ہیں؟ ہمارے ماتحت ملازمین ہماری طرح خوش حال ہیں؟ ہمارے پڑوسی ہم سے خوش ہیں؟
محض مسلک کی بنیاد پر مسلمانوں کو کافر قراردینیوالیکون ہیں؟عدالتوںمیں وراثت کے لاکھوں مقدمے کیوںچل رہے ہیں؟ سیدنا ابوہریرہ سے مروی ہے رسول اللہ نے فرمایا: ’’انسان کے اسلام کی خوبی اْس کا لایعنی(لغو) باتوں سے بچنا ہے‘‘ ایک سچامسلمان کبھی لغویات کا شکارنہیںہوتا بلکہ اْسے ہمیشہ اپنی ذمہ داریوں کا احساس رہتاہے وہ سمجھتاہے کہ دنیا دراصل ایک امتحان گاہ ہے جواْس کو امتحان کی
تیاری کے لیے دی گئی یہی احساس اْس کو بالکل اس طالب علم کی طرح سنجیدہ اور مشغول بنادیتاہے جو امتحان کے کمرے میں بیٹھا اپنا پرچہ حل کر رہا ہو۔ جس طرح اس طالب علم کو یہ احساس ہوتاہے کہ امتحان کے چندگھنٹے اس کی آئندہ کی زندگی کیلیے فیصلہ کن ہیں اسی احساس کی وجہ سے وہ اْن گھنٹوں کا ایک ایک لمحہ اپنے پرچے کو صحیح طریقیسے حل کرنیکی کوشش میں صرف کر ڈالتاہے،پھر دنیاکی کوئی بھی رنگینی اْسے اپنا قیمتی وقت ضائع کرنے پر ا?مادہ نہیں کر پاتی۔ٹھیک اسی طرح حقیقی مسلمان بھی دنیا کی زندگی کو انہی کاموں میں صرف کرتاہے جو انجام کے اعتبارسے مفیدہوں۔
مسلمان ہمیشہ باطل سے جداا ور حق کے ساتھ وابستہ ہوتاہے۔ وہ شرک کو چھوڑکر توحیدپر کمربستہ رہتا ہے۔ وہ جھوٹ سے بیزار اور سچائی کا دلدادہ ہوتاہے۔ مسلمان کاوجود شر نہیں بلکہ خیرکاباعث ہوتاہے۔ یہی وجہ ہے اللہ تعالیٰ کے حضور جھک جانے کیباعث اس کے وجود کا نام ہم نے قرا?ن میں مسلمان رکھا ہے۔ ارشادربانی ہے’اس (اللہ تعالیٰ) نے تمھارا نام مسلمان رکھا ہے اس سے پہلے (کی کتابوں میں) بھی اور اس (قرآن) میں بھی۔‘‘سیدناحسن فرماتے ہیں کہ ’’کسی بندے سے اللہ تعالیٰ کی توجہ ہٹنے کی نشانی یہ ہے کہ وہ لغو باتوں اور کاموں میں مشغول ہو جاتاہے۔‘‘ سیدنا ابوذر بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم سے عرض کی کہ مجھے وصیت فرمائیں تو آپ نے فرمایا: ’’آدمی کے بْرا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اپنے نفس کو بھلا دے اور لغوباتوں اور کاموں میں لگ جائے‘‘ لغوکاموں اورباتوں سے بچنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ہرشخص بات کرنے سے پہلے یہ سوچے کہ جو بات میں کہہ رہاہوں وہ غلط تونہیں، گناہ کی بات تو نہیں،کسی کوتکلیف دینی والی تو نہیں۔ لہٰذا کوئی بھی بات کرنے سے پہلے مشہور کہاوت ’’پہلے تول پھربول‘‘ کواپنے ذہن میں رکھیں۔
اللہ عزوجل فرماتے ہیں: ’’اور آپ کے رب نے فیصلہ کر دیا کہ تم اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو،اور والدین سے اچھا سلوک کرو،اگر ان دونوں میں سے ایک یا دونوں تیرے ہاں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو تْو ان سے ’اْف‘ تک نہ کہہ اور انھیں مت جھڑک، اور ان سے نرم (لہجے میں ادب و احترام سے) بات کرو۔‘‘ کیا ہم اپنے والدین کا ادب واحترام کرتے ہیںاوروالدین کو آگے سے اْف تک نہیںکہتے؟ہم حکم الٰہی سے انحراف کرتے ہوئے والدین سے نہ صرف زبان درازی کرتے ہیں بلکہ اْن کے لیے نازیبازبان استعمال کرنے سے بھی گریز نہیںکرتے۔ حسینہ کی محبت میں لخت جگر ماں کو اور مال ودولت کیچکر میں بیٹا باپ کو قتل کر دیتاہے۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’اورہم نیاْن پر ظلم نہیں کیااورلیکن وہ اپنی جانوں پرخود ظلم کرتے ہیں۔‘‘آج ہم پر مہنگائی مسلط ہیکیونکہ ہم ناپ تول میں کمی وبیشی اور ملاوٹ کرتے ہیں۔ کمائی میں برکت نہیں رہی کیونکہ سودخوری اورجوئے کیقریب ہوگئے ہیں۔ نماز میں سکون واطمینان نہیںرہاکیونکہ شراب نوشی کی لت میں پڑ گئیہیں۔ دعائیں اس لیے قبول نہیںہو رہیں کیونکہ زبان غیبت اور جھوٹ بولنے کی عادت میں مبتلا ہے۔ازدواجی زندگی خوشگوار نہیں کیونکہ ہم زناکاری کے شوقین ہیںاسلامی تعلیمات سیدوری اور احکامات الٰہیہ سے انحراف ہماری ذلت ورْسوائی کا سبب بنا ہوا ہے۔سچا مسلمان کون ہے اورکیاآج ہم سیرت وکردارکے لحاظ سے مسلمان کہلانے کے بھی حق دار ہیں