امریکی آئین، مذہب اور مسلمان

سمیع اللہ ملک(آخری قسط)
جیفرسن کے زمانے تک اسلام کے بارے میں بہت سے منفی تاثرات اورتصورات بھی پائے جاتے تھے اوریقینی طورپروہ ان سے پوری طرح محفوظ یالاتعلق تونہیں رہے ہوں گے۔ عین ممکن ہے کہ اسلام اوراسلامی دنیاسے متعلق یورپ سے ترکے میں ملنے والے چندتصورات اورمثالوں کوانہوں نے ورجینیامیں مذہب کوریاستی یاحکومتی امورسے الگ رکھنے کی
بحث میں مضبوط بنیادکے طورپراستعمال کیاہو۔
جیفرسن نے اٹھارہویں اورانیسویں صدی میں اصول اورتعصب کی جس جنگ میں فتح پائی تھی،وہ اب بھی،اکیسویں صدی میں، بحران کی صورت امریکیوں کے سامنے کھڑی ہے۔ انیسویں صدی کے اواخرسے اب تک امریکامیں مسلمانوں کی تعدادنمایاں رفتارسے بڑھی ہے اوراب امریکامیں آبادمسلمان نسلی تنوع اورتحرک سے متصف ہیں۔مگریہ بھی ایک حقیقت ہے کہ امریکا میں مسلمانوں کوکبھی کھلے دل سے قبول نہیں کیاگیا۔جیفرسن کے زمانے میں مسلمانوں کی ایک تصوراتی آبادی کوتعصب کا نشانہ بنایاجاتاتھا۔آج کے امریکامیں
 ان مسلمانوں پرسیاسی حملے ہورہے ہیں،جوایک حقیقت کی حیثیت سے امریکی معاشرے کا حصہ ہیں۔نائن الیون کے اوردہشتگردی کے خلاف جنگ کے نام پرامریکامیں مسلمانوں کے خلاف ایسی فضاتیارکردی گئی ہے ،جس میں سبھی اس بات کے حق میں دکھائی دیتے ہیں کہ مسلمانوں کوان کے تمام بنیادی وشہری حقوق نہ دیے جائیں۔
اب امریکامیں یہ بحث بھی زورپکڑگئی ہے کہ کوئی مسلمان امریکی صدربننے کی اہلیت رکھتاہے یانہیں۔ اوباماکے حوالے سے یہی سوال اٹھاتھامگریہ سوال نیانہیں۔امریکی سیاسی تاریخ میں جیفرسن پہلی شخصیت تھے جن پرمسلمان ہونے کا الزام بھی عائدکیاگیا۔کوئی امریکی مسلمان صدربن سکتاہے یانہیں،یااسے صدر بننے دیناچاہیے یانہیں۔اِس نکتے پربحث سے ہمیں یہ اندازہ لگانے میں بھی مددملتی ہے کہ امریکی شعورِعامہ میں مسلمان کس طورداخل ہوچکاہے اوریہ کہ مسلمانوں کے حقوق کس طرح ابتدائی مرحلے میں قومی آدرش کی حیثیت اختیارکرگئے تھے۔یوں آج کے امریکامیں مسلمانوں کی شہریت کے مسئلے کوسمجھنے کیلئے اٹھارہویں صدی کے اواخرمیں مسلمانوں کے حقوق سے متعلق چھڑنے والی بحث کوسمجھنالازم ہے۔
امریکی مسلمانوں کے حقوق نے نظری سطح پرتوبہت پہلے قبولیت پالی،مگرعملی دنیامیں انہیں سخت آزمائش سے گزرناپڑا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ امریکی مسلمانوں کوحقوق کے حوالے سے یومیہ بنیادپرآزمائش کاسامناکرناپڑتاہے۔آج کے امریکامیں اسلام کے معروف مورخ جان ایسپوزیٹوکوبھی مجبورہوکرکہناپڑاہے کہامریکی مسلمان یہ سوچنے پرمجبورہوگئے ہیں کہ مغربی وسیع النظری اوررواداری یعنی کلیت پسندی کی حدودکیاہیں؟ہمیں تھامس جیفرسن کاقرآنکے مطالعے سے یہ اندازہ لگانے میں مددملتی ہے کہ مسلمانوں کے حقوق کوامریکی آدرشوں کاحصہ کب،کہاں اورکس طرح بنایاگیا۔
مورخین نے اب تک یہ ثابت کرنے پرتوانائی صرف کی ہے کہ مسلمان مکمل طورپرامریکی آدرشوں کے خلاف ہیں۔اوریہی لوگ اس نکتے پربھی زوردیتے ہیں کہ پروٹسٹنٹ امریکیوں نے ہمیشہ اسلام اورمسلمانوں کوفطری طورپرغیرامریکی قرار دے کرمستردکیاہے۔بعض مورخین نے تویہ بھی ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ امریکادراصل اٹھارہویں صدی میں اسلام کی شدیدمخالفت اوراس کے جابرانہ طرزِحکومت کے مآخذکے خلاف ردعمل کے نتیجے میں معرضِ وجودمیں آیاتھا۔یہ بھی ناقابلِ تردیدحقیقت ہے کہ امریکاکی ابتدائی پالیسیوں اورحکمتِ عملی سے متعلق دستاویزات میں اس حوالے سے بہت کچھ مل بھی جاتاہے مگرساتھ ہی اسلام اورمسلمانوں کے بارے میں نمایاں حدتک مثبت تصورات بھی ملتے ہیں،جیساکہمستقبل کے امریکی مسلم شہریوں کے حقوقسے متعلق بحث ہے۔اس سے یہ بھی اندازہ ہوتاہے کہ تمام پروٹسٹنٹس نے اسلام کویکسر اجنبی مذہب کی حیثیت سے نہیں دیکھاتھا۔
یہ کتاب اس نکتے پرروشنی ڈالتی ہے کہ مسلمان نہ صرف یہ کہ غیرامریکی نہیں تھے بلکہ ملک کے قیام کے وقت ہی سے ان کی ممکنہ شہریت اورمتوقع حقوق پربحث بھی ہوئی۔یہ اوربات ہے کہ ان میں سے بہت سے آئیڈیلزکواس وقت کے امریکیوں کی اکثریت نے کھلے دل سے قبول نہیں کیاتھا۔اسلام اوراسلامی دنیاکے حوالے سے جیفرسن کے نظریات کااحاطہ کرنے کے ساتھ ساتھ یہ کتاب جان ایڈمزاورجیمزمیڈیسن کے خیالات کوبھی عمدگی سے بیان کرتی ہے۔مسلمانوں کے حقوق کی بحث ملک کے بانیان تک محدودنہ تھی۔ورجینیامیں بیپٹسٹ اورپریسبائٹیرینزکی جدوجہداورمذہبی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف ان کی معرکہ آرائی کا احوال بھی اس کتاب میں ہے اورکلیسائے انگلستان سے تعلق رکھنے والے مشہوروکیل جیمز آئرڈیل اورسیموئل جانسٹن کا مسلمانوں کے حقوق کیلئے آوازاٹھانابھی اسی کتاب سے ثابت ہے۔ایونجیلیکل بیپٹسٹ جان لی لینڈنے،جوجیفرسن اورمیڈیسن کے ساتھیوں میں سے تھے،مسلمانوں کے حقوق کیلئے کنیکٹیکٹ اورمیساچوسیٹس میں آوازاٹھائی۔ ساتھ ہی انہوں نے آئین میں پائی جانے والی خامیوں،پہلی آئینی ترمیم کے نقائص اورریاستی سطح پر مذہب کے کردارکے خلاف بھی احتجاج کیا۔
اس کتاب میں مغربی افریقاسے تعلق رکھنے والے دومسلم غلاموں ابراہیم عبدالرحمن اورعمرابن سعیدکاتذکرہ ملتاہے۔عمرابن سعیدعربی جانتاتھااوراس نے عربی میں آپ بیتی بھی لکھی تھی۔ان دومسلمانوں کے تذکرے سے اندازہ لگایاجاسکتاہے کہ اس وقت امریکامیں ہزاروں مسلمان تھے مگرانہیں مذہب پرکاربندرہنے سمیت بہت سے حقوق حاصل نہ تھے۔ انہیں شہریت کے حق سے بھی محروم رکھاگیاتھا۔کیتھولک عیسائیوں اوریہودیوں نے بیسویں صدی میں بھی اپنے حقوق کیلئے جدوجہدجاری رکھی۔انہیں جوحقوق ملے وہ آئین سے مکمل ہم آہنگ نہ تھے۔یہ حقیقت البتہ انتہائی تلخ ہے کہ آج بھی امریکامیں مسلمان واحدبرادری ہے جسے مکمل طورپر قبول نہیں کیاگیااورآج بھی اس کے اثرات کادائرہ محدودرکھنے کی کوشش کی جارہی ہے۔