محمد افضل شاھد
ایران میں حالیہ شورش محض عوامی احتجاج نہیں بلکہ جون 2025 والے صہیونی کھیل کا پارٹ 2 تھا‘اس کھیل پر عمل درآمد گزشتہ برس ہی خاموشی سے یوں شروع کردیا گیا تھا‘مارکیٹ سے ایرانی ریال خرید کر غائب کرنے کا سلسلہ شروع کیا گیااور جب یہ مرحلہ مکمل ہوا تو اس سے عالمی کرنسی مارکیٹ میں ایرانی ریال کی قیمت اچانک 40 فیصد تک گرگئی‘جس کے نتیجے بالکل فطری احتجاج شروع ہوا ، جس میں ایرانی پولیس حسب سابق رکاوٹ نہ بنی‘وہ پرامن احتجاج میں کبھی بھی رکاؤٹ نہیں بنتی‘اگلے مرحلے میں کرد اور ایرانی بلوچ دہشت گرد اس احتجاج میں گھسے اور شروع ہوا اصل کھیل یعنی جلاؤ گھیراؤ اور خون ریزی‘خود ایرانی حکام کہہ رہے ہیں کہ اس کے سو سے زائد سیکیورٹی اہلکار قتل کئے گئے
یاد ہے اس موقع پر ٹرمپ نے کیا بیان دیا تھا ؟اگر ایران نے مظاہرین کو نشانہ بنایا تو ہم حملہ کریں گے"یہی پلان کا حتمی مرحلہ تھامگر اس دوران پانچ ممالک ایران کے دفاع کو آئے اور وہ بھی اپنے انٹیلی جنس اداروں کے ساتھ روس اور چین نے آلاتی مدد فراہم کرکے پورے ایران میں سٹارلنک کو جام کیا جبکہ سعودی، ترکی اور پاکستانی اداروں نے پاکستانی بلوچستان سے لے کر اسرائیل تک پورے علاقے میں گراؤنڈ پر کام سنبھالا‘ترکی کا نام دیکھ کر حیرت ہوئی ناں ؟جی ہاں ! خود ایرانی میڈیا کے آفیشل ٹویٹر اکاؤنٹس رپورٹ کر رہے ہیں
پچھلی بار کے بار کے برخلاف اس بار ترکی نے ہمارا ساتھ دیا"یہ سوال بہت اہم ہے کہ ترکی نے پارٹی کیوں بدلی ؟اس کا جواب شام کی صورتحال سے جڑا ہے جہاں نیتن یاہو نے اردگان کی ناک میں دم کر رکھا ہیسوال یہ بھی اہم ہے کہ سعودی عرب ایران کے دفاع میں اس حد تک کیسے سرگرم ہوگیا ؟اس کا جواب یمن کی صورتحال سے جڑا ہے‘حال ہی میں یو اے ای فورسز کے خلاف سعودیوں نے یمن میں جو آپریشن کئے ان میں ایران نے پوری طرح سعودی عرب کا ساتھ دیا تھااس حالیہ کھیل میں آل لہو لہان پوری طرح اسرائیلی کیمپ میں ہے‘اگر غور کریں تو صومالی لینڈ معاملے میں بھی یو اے ای اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہے اور صومالیہ نے ردعمل میں یو ای کے ساتھ اپنے تمام معاہدے منسوخ کردیئے ہیں‘اب آپ کو چند کڑیاں دیتے ہیں، ملانا شروع کیجئے
٭ دو ماہ قبل ایران نے کہا، ہمیں بھی پاک سعودی دفاعی معاہدے میں شامل کیا جائے
٭ حالیہ عرصے میں پاکستانی ملٹری حکام مشرق وسطی کے طوفانی دورے کر رہے ہیں۔ عین حالیہ مظاہروں کے دوران بھی پاکستانی ایئرچیف بغداد میں تھے
ان دوروں میں پاکستان ان ممالک کو انگیج کر رہا ہے جو نقشے پر اسرائیل کے ارد گرد نظر آتے ہیں، یعنی وہ ممالک جو "گریٹر اسرائیل پلان" میں ممکنہ اسرائلی ہدف ہیں
٭ چند ہی روز قبل خبر آئی کہ ترکی بھی پاک سعودی دفاعی معاہدے کا حصہ بننا چاہتا ہے
٭ صرف تین روز قبل ایرانی صدر مسعود پازکشیان نے بیان دیا کہ ایسا کیوں نہیں ہوسکتا کہ پاکستان سے لوگ چلیں، ایران، عراق، ترکی اور سعودی عرب تک آزادانہ سفر کریں ؟
٭ محمد بن سلمان نے آج ہی ایک بار پھر ٹرمپ کو خبردار کیا ہے کہ ایران سے دور رہو !
تجزیہ جب درج بالا کڑیاں جوڑتا ہے تو ایک ایسے مسلم ملٹری بلاک کی تصویر ابھر کر سامنے آتی ہے جس کے ابتدائی ارکان پاکستان، سعودی عرب، ایران اور ترکی ہوسکتے ہیں‘ذرا ان ممالک کی طاقت سمجھئے ‘پاکستان مسلم دنیا کی واحد ایٹمی طاقت ہے‘سعودی عرب جیو سٹریٹیجی میں بڑا عالمی پلیئر ہے، اس کا عالمی سیاسی اثر رسوخ غیر معمولی ہے‘ترکی فوجی طاقت بھی ہے لیکن اس کی اصل خصوصیت اس کی عسکری انڈسٹری ہے جو غیر معمولی ہے۔ خاص طور پر ڈرون اور بحری جہازوں کی تیاری میں اس کی حیثیت عالمی سطح پر مسلم ہے‘ایران موجودہ عہد میں استعمار کے خلاف مزاحمت کا واحد استعارہ بچا ہے، امریکی اور اسرائیلی لیڈر سونے سے قبل بھی اسی کو سوچتے ہیں اور بیدار ہونے پر بھی اسی کے خیال کے اسیر ہوجاتے ہیںاب اگر غور کریں تو اسرائیل ایران پر حملے کے لئے کونسا روٹ استعمال کرتا ہے؟یا تو وہ شام اور ترکی سے ہوکر آذربائجان تک جاتے ہیں اور وہاں سے کیسپئن سی کے اوپر سے ایران پر حملے کے لئے آتے ہیں یا پھر سیدھا عراق کے اوپر سے آتے ہیں
اگر ترکی، سعودی عرب، اور پاکستان ایک پیج پر ہوں تو اسرائیل کے پاس کیا بچتا ہے ؟ظاہر ہے اسے ٹھوس شکل دینے میں تھوڑا وقت لگے گا
پہلے معاملات طے ہونے ہیں، پھر ان پر عمل درآمد شروع ہونا ہے‘یعنی زمین پر دفاعی حصار قائم ہونے ہیں‘اہمیت اس کی یہ ہے کہ یہ ابھرتے مشرق میں فعال مسلم رول ہے‘وہی مشرق جسے چین اور روس جیسی بڑی طاقتیں لیڈ کر رہی ہیں‘روسی مفکر الیگزینڈر ڈوگن نے پچھلے سال ہی کہا تھا’’مسلم دنیا کو جاگنا ہوگا، اور مشرق کی گیم میں ایک بڑا پلیئر بننا ہوگا"گویا کام اسی رخ پر ہے جس کی ڈوگن نے آرزو کی تھی لیکن ایک فوری چیلنج بھی موجود ہے اور وہ یہ کہ ایران کو فی الحال ایک فوری خطرے کا سامنا ہے
امریکی و اسرائیلی حملے کا خطرہ !
اس کے دوست اس کے ساتھ کھڑے ہیں اور خود ایرانی اپنے ان دوستوں سے کہہ رہے ہیں’’آپ کا بس ساتھ ہی کافی ہے، اسرائیل کو ہم اس بار وہ مار دیں گے کہ اس کے کس بل نکال دیں گے"سو امید بھی اچھی رکھنی چاہئے اور دعاء بھی کرنی چاہئے‘آپ ایک مدت سے سوال کر رہے تھے
’’مسلم حکمرانوں کی غیرت کب جاگے گی ؟‘‘
ہمیں لگتا ہے مسلمان ممالک کی غیرت اب جاگ گئی ! اور یہیں سے اسلام دشمنوں کی بربادی شروع ہونے جا رہی ہیے۔انشاء اللہ