ماضی کی گونج:آج کے امریکی مسلمان

سمیع اللہ ملک  (دوسری قسط)

1784میں جارج واشنگٹن نے ماونٹ ورنن کے مقام پراپنے گھرپرمسلمانوں کے حوالے سے اپنے خیالات کوپوری طرح کھول کر رکھ دیا۔ورجینیاسے کسی دوست نے جارج واشنگٹن کولکھاکہ اسے اپناگھربنانے کیلئے ایک بڑھئی اورایک مستری(معمار)کی ضرورت ہے۔جارج واشنگٹن نے اسے لکھاکہ کسی بھی مکان کی تعمیریافرنیچرکی تیاری میں اس امرکی کوئی اہمیت نہیں کہ کاریگرکس مذہب،فرقے،رنگ یانسل سے تعلق رکھتاہے۔اچھاکاریگرایشیا،افریقایایورپ کاہوسکتاہے۔ہوسکتاہے کہ وہ مسلمان، عیسائی یایہودی ہویاپھریہ کہ وہ کسی مذہب پریقین ہی نہ رکھتاہو۔اس خط سے اندازہ ہوتاہے کہ جارج واشنگٹن کے فکری دھاروں میں مسلمان بھی بہتے تھے۔انہوں نیامریکاسب کیلئیکے تصورمیں مسلمانوں کونظر اندازنہیں کیاتھا۔ہوسکتاہے جارج واشنگٹن کواندازہ ہوکہ کسی بھی شعبے میں کوئی کرداراداکرنے کیلئے ابھی بہت دنوں تک مسلمان نمودارنہیں ہوں گے۔
مختلف ذرائع سے معلوم ہوتاہے کہ18ویں صدی عیسوی میں بھی امریکامیں مسلمان سکونت پذیرتھے مگرتھامس جیفرسن اوران کے ساتھیوں کوبہرحال ان کے بارے میں معلوم نہیں ہوسکاتھا۔تھامس جیفرسن اوران کے ساتھیوں نے مسلمانوں کومستقبل کے امریکی شہری تصورکرتے ہوئے ان کاذکرکیاتھا۔جارج واشنگٹن اورتھامس جیفرسن کی تحریروں اورتقاریر میں مسلمانوں کاذکربلا سبب ہرگزنہیں ہوسکتا۔یہ دونوں عظیم شخصیات مسلمانوں کے حوالے سے پائے جانے والے دومتضادیورپی رویوں اورتصورات کی وارث تھیں۔
ایک تصوریہ تھاکہ اسلام کی تعلیمات پروٹسٹنٹ عیسائیت کی تعلیمات کے یکسرمنافی بلکہ اس سے متصادم ہیں اوریہ کہ جابرانہ حکومتوں کے قیام میں بھی اسلامی نظریات نے مرکزی کرداراداکیاتھا۔مسلمانوں کوامریکاکے پروٹسٹنٹ معاشرے میں قبول کرنے کامطلب ایک ایسی برادری کوقبول کرناتھاجس کے مذہب اوراس سے متعلق تصورات کویورپ نے غلط،اجنبی اورخطرناک قرار دیاتھا۔معاملہ مسلمانوں تک محدودنہ تھا۔امریکی پروٹسٹنٹ توکیتھولک عیسائیوں کے نظریات کوبھی اِسی طرح اجنبی اورخطرناک قرار دیتے تھے۔ کیتھولسزم کو بھی آزادی کے امریکی تصورات اوروسیع النظری کامخالف سمجھاجاتاتھا۔
جیفرسن اورنان پروٹسٹنٹ شہریت کی حامی دیگرشخصیات نے آئین کے بنیادی ڈھانچے کے ساتھ ساتھ ایک اورفکری دھارے کو پروان چڑھانے میں معاونت کی،جس کے ذریعے مسلمانوں کے ساتھ ساتھ کیتھولک عیسائیوں اوریہودیوں کوقبول کرنے کی راہ بھی ہموارہوتی تھی۔16ویں صدی کے جن کیتھولک اورپروٹسٹنٹ عیسائیوں نے اپنے اپنے نظریات کی تبلیغ کی تھی،انہوں نے ان کیلئے جان بھی دی تھی۔17ویں صدی عیسوی میں یورپ کے جن لوگوں نے تمام مذاہب کوقبول کرنے اورتمام ثقافتوں اورنسلوں کے لوگوں کواپنے ہاں قابل قبول قراردینے کی بات کی تھی انہیں سزائے موت یاپھرقیدِ بامشقت کاسامناکرناپڑا۔اکثریت کوان نظریات کی بنیادپرملک سے نکال دیاگیا۔اس معاملے میں امیروغریب اوربے کس وطاقتورکی کوئی تخصیص نہ تھی۔اشرافیہ میں سے بھی جن لوگوں نے تمام مذاہب کے لوگوں کواپنانے کی بات کی،انہیں شدیدمخالفت اورایذاؤں کاسامناکرنا پڑا۔یورپ میں رومن کیتھولک چرچ سے متصادم نظریات رکھنے والے کیتھولک اورپروٹسٹنٹ کسان تھے،سیاسیات سمیت مختلف علوم کے ماہرین تھے یاپھراول انگریزبیپٹسٹ۔ان
میں کوئی بھی سیاسی قوت رکھنے والایااعلی معاشرتی حیثیت کاحامل شخص نہ تھا۔مذہب کے لگے بندھے نظریات سے ہم آہنگی نہ رکھنے والے اگرچہ منظم نہ تھے مگراس کے باوجودانہوں نے منظم فکررکھنے والے مسلمانوں کو عیسائی ریاستوں میں ایذاوں سے بچانے کیلئے خاصی وقیع جدوجہدکی۔
18ویں صدی کی اینگلیکن اسٹیبلشمنٹ کے رکن اورورجینیاکے ایک اعلی سیاست دان کی حیثیت سے تھامس جیفرسن نے وہ تصورات پیش کیے،جواس سے قبل یورپ میں اپنے پیش کرنے والوں پرشدیدلعن طعن کاسبب بنے تھے اوربہتوں کوتوسزائے موت کابھی سامناکرناپڑاتھا۔تھامس جیفرسن چونکہ خود اسٹیبلشمنٹ سے تعلق رکھتے تھے،اس لیے مسلمانوں کے حقوق سے متعلق ان کامقف ورجینیامیں پوری توجہ سے سناگیا۔چندساتھیوں کے ساتھ مل کرتھامس جیفرسن نے نوزائیدہ ریاست ہائے متحدہ امریکامیں وہ تصورات پیش کیے، جواس سے قبل یورپ کے مرکزی دھارے سے بہت دورجوہڑکی شکل میں اپنی وقعت کھوبیٹھے تھے۔ایسا نہیں ہے کہ تھامس جیفرسن نے تمام مذاہب کے لوگوں کوقبول کرنے اورہر مذہب کے پیروکاروں کے حقوق کوسرکاری مداخلت سے مبرارکھنے کاتصورپیش کیااوران پرمبارک بادکے ڈونگرے برسنے لگے۔مخالفین نے ہرقدم پران کیلئے مشکلات پیداکرنے کی کوشش کی مگریہ بھی حقیقت ہے کہ بہت سے حلقوں میں جیفرسن کوغیرمعمولی وقعت ملی۔ پریسبائٹیرینزاوربیپٹسٹس سمیت بہت سی ایسی برادریوں نے جیفرسن کی بات پرمسرت کا اظہارکیاجوپروٹسٹنٹس کی جانب سے جبرکاسامنا کرتے رہے تھے۔ویسے تو خیرامریکی معاشرے کاکوئی بھی طبقہ غیرپروٹسٹنٹس کوجامع امریکی شہریت دینے کے حق میں نہ تھا،مگر پھر بھی مسلمانوں کیلئے ان کے دلوں میں نرم گوشہ ضرورتھا۔
مسلمانوں کے حقوق کے حوالے سے بحث شروع کرنے والے جوکچھ کہہ رہے تھے،وہ18ویں صدی کے معاشرے میں محض فکری یانظری سطح پربھی خاصااجنبی اورناقابل قبول تھا ۔ تب تک امریکی شہریت کاحقداروہی سمجھاجاتاتھاجوپروٹسٹنٹ،سفیدفام اورمردہو۔شہریت کے معاملے کومذہب سے الگ کرنالازم تھا۔ورجینیامیں اس حوالے سے قانون سازی توایک بڑے سفرکی محض ابتداتھی۔تھامس جیفرسن،جارج واشنگٹن اورجیمز میڈیسن نے شہریت کے معاملے کومذہب سے الگ کرنے کاعمل شروع کیاتھا۔یہ کوئی آسان کام نہ تھا۔ انہوں نے اپنی سیاسی کیریئرکے دوران اس آدرش کے حصول کیلئے غیرمعمولی محنت کی مگرمکمل کامیابی حاصل نہ کرسکے۔وہ اپناادھوراکام بعدمیں آنے والوں کیلئے فریضے کے طورپر چھوڑگئے۔یہ کتاب پہلی باراس امرپربحث کرتی ہے کہ کس طورجیفرسن اوران کے ساتھی،اسلام کے بارے میں اپنے نامکمل اورمبہم تصورات کے باوجود،مسلمانوں سمیت تمام نان پروٹسٹنٹ افرادکے شہری حقوق کیلئے متحرک رہے۔
جارج واشنگٹن نے جب1784میں مسلمانوں کومحنت کشوں کی حیثیت سے امریکاآنے کی اجازت دینے کی وکالت کی،اس سے ایک عشرہ قبل انہوں نے اپنی محصول پذیراملاک میں افریقی نسل کی دوعورتوں کاذکربھی کیاتھا،جوماں بیٹی تھیں۔ایک کانام فاطمہ اوردوسری کافاطمہ صغیرہ تھا۔جارج واشنگٹن نے مسلمانوں کوامریکی شہریت دینے کی وکالت کی جبکہ حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کوغلام کی حیثیت سے خریدکرانہوں نے خودہی ان کے بنیادی حقوق کی راہ مسدودکی تھی۔واضح رہے کہ تب تک غلام مسلمانوں کواپنے مذہب پرکاربند رہنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔ہوسکتاہے کہ جیفرسن اورمیڈیسن کی جاگیروں اورزرعی اراضی پربھی یہی حقیقت پائی گئی ہو۔مگرخیر،ان کے غلاموں کے مذہب کے بارے میں زیادہ کچھ معلوم نہ ہوسکا۔اس میں کوئی شک نہیں مغربی افریقاسے محنت کشوں کے طورپرلائے گئے مسلم غلاموں کی تعداد لاکھوں میں تھی۔یہ تعدادامریکامیں آباد کیتھولک عیسائیوں اوریہودیوں سے کہیں زیادہ رہی ہوگی۔یہ بھی ہوسکتاہے کہ بہت سے سابق مسلم غلاموں نے کانٹی نینٹل آرمی میں بھی خدمات انجام دی ہوں۔مگرخیر،اس امرکاکوئی ثبوت نہیں ملتا کہ وہ اپنے مذہب پرکاربندرہے ہوں اوریہ بھی ثابت نہیں کیاجا سکاہے کہ امریکا کے بانیوں کوان کی موجودگی کاعلم تھا۔یہ بات بھی قابل غورہے کہ مسلمانوں کے شہری یاشہریتی 
حقوق سے متعلق بحث پریہ سابق مسلم غلام اثراندازنہیں ہوئے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکامیں مسلمان(پروٹسٹنٹ عیسائیوں کی طرح)17ویں صدی سے موجودتھے مگرنسل اورغلامی کے عوامل اس قدرمضبوط تھے کہ ان کے مذہب کامعاملہ سات پردوں میں لپٹارہا۔امریکاکے بانیان نے جب مستقبل کے امریکی مسلمانوں کے حقوق کاسوچاتھاتوان کے ذہن میں سفید فام مسلم ہی رہے ہوں گے کیونکہ1790کے عشرے تک کسی بھی نسل یا مذہبی پس منظر کاحامل سفید فام شخص امریکامیں شہریت کیلئے درخواست دے سکتاتھا۔جیفرسن نے صرف دومسلمانوں سے ملاقات کی تھی اوروہ دونوں ترک نسل کے شمالی افریقی سفیرتھے۔جیفرسن نے ان کی رنگت کے بارے میں کچھ کہا،نہ لکھا۔ دونوں بہت حد تک سفید فام تھے۔ان دونوں میں رنگ یامذہب کے اعتبار سے جیفرسن کیلئے کوئی کشش نہ تھی۔اس نے ان دونوں سے ملاقات کی اورانہیں اہمیت دی تواس کا سبب صرف یہ تھا کہ وہ سیاسی و سفارتی اعتبار سے بہت مضبوط تھے۔(جاری ہے)