ٹرمپ کی کابینہ کے اہم ارکان

سمیع اللہ ملک (آخری قسط)

امریکی سیاست اورپالیسی سازوں پرگہری نظررکھنے کے بعدیوں لگتاہے کہ ٹرمپ کی حلف برداری سے قبل واضح طورپریہ کہنا مشکل ہوگاکہ وہ کس معاملے پرکیاپالیسی اختیارکرتے ہیں۔تاہم یہ واضح ہے کہ پاکستان ٹرمپ کی ترجیحات میں شامل نہیں ہے اور اگرہم ٹرمپ کی جانب سے عہدوں پرنامزدکی گئی شخصیات کے بیانات دیکھیں تولگتاہے کہ ٹرمپ انتظامیہ اپنے نظریات کے مطابق ہی کام کرے گی۔تاہم پالیسی سازی میں نظریات کاعمل دخل کم ہی ہوتاہے۔پالیسی سازی میں نظریات سے کام نہیں لیاجاسکتا بلکہ یہ پیچیدہ مشکلات سے نمٹنے کاایک طریقہ ہوتاہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ شخصیات متعددموضوعات پرسخت مؤقف رکھتے ہیں لیکن ضرورت پڑنے پروہ کمزورآنے کے ڈر کے بغیراپنے عملیت پسندہونے کی گنجائش بھی پیداکر لیتے ہیں۔بالآخران  سب کوصدرکی ایماپرہی کام کرناپڑے گااورٹرمپ کوئی نظریاتی شخصیت نہیں بلکہ ڈیل میکرہیں اورجنگوں کے خلاف ہیں۔جہاں تک پاکستان کی بات ہے تمام پالیسیاں پہلے جیسے ہی رہیں گی،اگرمعاملات خراب نہیں ہوتے یاپاکستان کسی بڑے بحران کاشکارنہیں ہوجاتا۔پاکستان ٹرمپ انتظامیہ کیلئے تیسرے درجے کی ترجیحات میں ہی رہے گایاپھرپاکستان کونئی آنے والی انتظامیہ کے سامنے خودکومددگارثابت کرناہوگالیکن چین کی دوستی ایک چیلنج کی طرح ہرحال میں مقدم ہوگی۔
نئی امریکی انتظامیہ کوچیلنجزکے ایک انبارکاسامناہے۔پاکستان خصوصاًاس کی اندرونی سیاست اوراس کاانڈیاسے تعلق ان کی ترجیحات کی فہرست میں بہت نیچے ہوں گے۔نئی  ٹرمپ انتظامیہ کی تمام ترتوجہ پہلے مشرقِ وسطیٰ اورخصوصاایران پرہوگی۔ قوی امکان یہی ہے کہ ٹرمپ کی مشرق وسطی پالیسی کی بنیاد’’ایران پرزیادہ سے زیادہ دباؤ‘‘ڈالنے پرہوگی اوران کی کوشش ہوگی کہ معاہدہ ابراہیمی کوایک مرتبہ پھرزندہ کیاجائے اورتوجہ اس بات پررکھی جائے کہ سعودی عرب اسرائیل کوبطورریاست تسلیم کرلے۔تاہم ایساہونااس لیے مشکل ہے کیونکہ فلسطین کی صورتحال انتہائی کشیدہ ہے اورریاض میں ہونے والی اسلامی کانفرنس میں سعودی ولی عہد نے اپنی تقریرمیں واضح طورپراسرائیل کوفوری طورپرجنگ بند کرنے اورایران پرحملہ ہونے کی صورت میں اپنے تعاون کابھرپوریقین دلایاہے۔
حقیقت یہ ہے کہ افغانستان سے فوج کے انخلاکے بعدامریکاکی نگاہ میں پاکستان کی اہمیت کم ہوئی ہے اس لئے پاکستان ابھی واشنگٹن کے ریڈارپرنہیں ہے۔پاکستان اورچین کے درمیان سٹریٹجک تعلقات اورانڈیااورامریکاکے درمیان شراکت داری کے بیچ میں ہی پاکستان کوکوئی گنجائش نکالناہوگی اورامریکاسے تعلقات کوبہتربناناہوگا۔تاہم ٹرمپ کی ٹیم میں چین مخالف شخصیات اگر پاکستان کوچین یاانڈیا کے لینس سے دیکھتی ہیں توامریکااورپاکستان کے درمیان معنی خیزدوطرفہ تعلقات کی گنجائش مزیدسکڑ جائے گی۔اس لئے اندازہ یہی ہے کہ نئی انتظامیہ کی پالیسی میں شاید پاکستان کیلئے کوئی خوشگوارتبدیلی دیکھنے میں نہ آئے۔
امریکی پالیسی سازیہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان کونظراندازکرنے کی پالیسی اورواشنگٹن میں طاقت کے ایوانوں تک اسلام آبادکو رسائی نہ دیناپاکستان کوایک مشکل پوزیشن میں رکھنے کیلئے مناسب ہے لیکن وہ سمجھتے ہیں کہ ایران اورچین کے مقابلے میں پاکستان کے پاس زیادہ موقع ہے کہ وہ کچھ کوششیں کرکے ٹرمپ انتظامیہ سے تعلقات بہترکرسکیں۔
مائیک ہکابی اسرائیل کیلئے امریکاکے نئے سفیرہوں گے۔اگرچہ وہ13سال میں اس عہدے پرآنے والی وہ پہلی شخصیت ہیں جو یہودی نہیں لیکن69سالہ ہکابی ایک طویل عرصے سے اسرائیل کے حق میں آوازاٹھاتے رہے ہیں۔2008میں مائیک ہکابی نے ایک بیان میں کہاتھاکہ’’فلسطین نام کی کوئی چیزہی نہیں۔مائیک ہکابی کی نامزدگی پراسرائیل کے وزیربرائے قومی سلامتی ایتامیربین گویرنے سوشل میڈیاپران کانام جھنڈے اوردل کی ایموجیزکے ساتھ شیئرکیا۔امریکی ریاست آرکنساس کے سابق گورنرنے اپنا پہلا دورہ اسرائیل1973میں کیااوراس کے بعدسے وہ وہاں جانے والے درجنوں عیسائی مشنوں کی قیادت کرتے رہے۔2018میں اسرائیل کے دورے کے دوران مغربی کنارے پرایک نئے ہاسنگ کمپلیکس کیلئے اینٹیں بچھاتے ہوئے انہوں نے کہاتھاکہ وہ’’کسی دن یہاں گھرخریدناپسند کریں گے‘‘۔
چنددن قبل ٹرمپ نے  اپنی انتخابی مہم کے ڈونراوررئیل سٹیٹ ٹائیکون’’سٹیووٹکوف‘‘کوامن کیلئے ایک ان تھک آوازاوراسے اپنا فخرقراردیتے ہوئے مشرق وسطی کیلئے خصوصی ایلچی نامزدکیاہے۔یادرہے کہ سٹیوٹرمپ کے قریبی دوست ہیں اورطویل عرصے سے ان کے گولف پارٹنرہیں۔درحقیقت،وٹکوف ستمبرمیں ٹرمپ پردوسرے قاتلانہ حملے کے دوران ان کے ساتھ گولف کھیل رہے تھے۔سٹیو نے مین ہٹن فراڈکیس میں عدالت میں ٹرمپ کے دفاع میں گواہی دی تھی۔دونوں کی ملاقات1986میں کاروباری لین دین کے بعدہوئی تھی۔سٹیو کے مطابق اس وقت ٹرمپ کوسینڈوچ خریدکردیاتھاکیونکہ اس وقت ٹرمپ کے پاس کوئی کیش رقم نہیں تھی۔
پیٹ ہیگستھ ماضی میں امریکی فوج کے ساتھ بھی منسلک رہے ہیں۔اس کے علاوہ وہ فاکس نیوزکے میزبان بھی رہ چکے ہیں۔وہ فوجیوں کی وکالت کرنے والے دوگروپس کے بھی سربراہ رہ چکے ہیں۔انہوں نے مینیسوٹامیں سینیٹ کی نشست کیلئے الیکشن میں بھی حصہ لیاتھالیکن وہ کامیاب نہیں ہوسکے تھے۔ٹرمپ نے پیٹ ہیگستھ کوسیکرٹری دفاع کے عہدے کیلئے نامزدکرتے ہوئے لکھا ہے کہ’’وہ سخت،ذہین اورسب سے پہلے امریکاکوحقیقی معنوں میں مانتے ہیں۔پیٹ کی وجہ سے ہماری فوج دوبارہ بہترین بنے گی اورامریکاکبھی گرے گانہیں۔فوجیوں کیلئے کوئی بھی نہیں لڑتااورپیٹ’’طاقت کے ذریعے امن‘‘کی ہماری پالیسی کے دلیراورمحب وطن چیمپیئن ہوں گے‘‘۔
فلوریڈاکے50برس کے رکن کانگرس مائیک  والٹزماضی میں امریکی فوج کاحصہ رہے اورکئی بارافغانستان،مشرق وسطی اور افریقاکادورہ کرچکے ہیں۔ان کوٹرمپ کے دوسرے دور صدارت میں قومی سلامتی کے نئے مشیرکے طورپرنامزدکیاگیاہے۔وہ طویل عرصے سے ٹرمپ کے حامی ہیں۔ایکس پراپنے پیغام میں انہوں نے لکھاکہ وہ ٹرمپ کی کابینہ میں خدمات سرانجام دینے پر’’بہت اعزاز‘‘محسوس کرتے ہیں۔ہماری قوم کی اقدار،آزادی اورہرامریکی کی حفاظت کادفاع کرنے سے بڑھ کرکوئی چیزنہیں‘‘۔
مسلح افواج کی سب کمیٹی کے سربراہ مائیک والٹزچین کے بارے میں سخت مؤقف رکھتے ہیں اوراس بات پرزوردیتے ہیں کہ بحرالکاہل میں تنازعات کیلئے امریکاکومزیداقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔وہ یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ امریکاکو یوکرین کیلئے اپنی حمایت برقراررکھنی چاہیے لیکن حالیہ عرصے میں اس جنگ کیلئے امدادپروہ امریکی اخراجات کے دوبارہ جائزے کی وکالت بھی کرتے ہیں۔
ٹرمپ کے بڑے حامی اورفنانسرایلون مسک اورسابق رپبلکن صدارتی امیدواروویک رامسوامی کوبھی ٹرمپ نے حکومتی کارکردگی کے نئے محکمے کی قیادت کرنے کاکام سونپاہے۔ واضح رہے کہ ٹرمپ کے سب سے اہم حامی سمجھے جانے والے اور دنیاکے امیرترین افرادمیں شامل ایلون مسک نے ان کی انتخابی مہم کو11کروڑ90لاکھ کافنڈدیا ٹرمپ نے ایک بیان میں کہاکہ’’یہ دو شاندارامریکی مل کرمیری انتظامیہ کیلئے سرکاری بیوروکریسی کوختم کرنے،اضافی ضابطوں میں کمی،فضول اخراجات میں کمی اوروفاقی ایجنسیوں کی تنظیم نوکرنے کیلئے راہ ہموارکریں گے،جو’’امریکا بچاؤ‘‘تحریک کیلئے ضروری ہے‘‘۔ 
ٹرمپ انتظامیہ میں ملنے والی اس ذمہ داری پرردعمل دیتے ہوئے امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ٹیسلاکے سربراہ ایلون مسک نے لکھا کہ’’یہ نظام میں شامل افرادکوہلاکررکھ  دے گا‘‘ ۔ دوسری جانب وویک رامسوامی نے بھی لکھاکہ وہ’’کوئی رعایت نہیں برتیں گے‘‘۔ اسی طرح ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ وہ جنوبی ڈکوٹاکی گورنرکرسٹی نوم کومحکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کی سربراہی کیلئے مقرر کریں گے۔نوم کانام موسم گرمامیں ایک ممکنہ نائب صدرکے امیدوارکے طورپرسامنے آیاتھا۔وہ طویل عرصے سے ٹرمپ کی اتحادی رہی ہیں اورانہوں نے منتخب صدرکیلئے بھرپورمہم بھی چلائی۔رواں برس وہ میڈیاکی شہ سرخیوں میں بھی رہی تھیں،جب انہوں نے انکشاف کیاتھاکہ انہوں نے اپنے کتے کوگولی سے ماراکیونکہ یہ’’غیرتربیت
 یافتہ اورخطرناک‘‘تھا۔
ان نامزدگیوں سے یہ معلوم ہوتاہے کہ ٹرمپ اپنے حامیوں کونوازرہے ہیں اوردوسرایہ کہ چین اورایران کے ساتھ انتہائی سخت مؤقف رکھتے ہوئے اسرائیل کی کھل کرحمائت کریں گے جس سے ان کے جنگ بندکرانے کاانتخابی وعدہ مشکوک ہوگیا ہے۔