سمیع اللہ ملک (پہلی قسط)
ٹرمپ20جنوری کوامریکاکے47 ویں صدرکی حیثیت سے حلف اٹھائیں گے تاہم حلف اٹھانے سے قبل ہی ٹرمپ نے اپنے دوسرے دورصدارت کیلئے اہم عہدوں پر نامزدگیاں کردی ہیں۔دنیابھرکے ممالک میں بھی ان تعیناتیوں کوغورسیدیکھاجارہاہے اور اس بات کااندازہ لگایاجارہاہے کہ کون سی شخصیت اہم امورپرماضی میں کیامؤقف اپناتی رہی ہے۔ان تعیناتیوں سے ماہرین یہ اندازہ لگانے کی کوشش کررہے ہیں کہ ٹرمپ کی پالیسی کیاہوگی؟مشرق وسطی پرامریکاکیامؤقف اپنائے گااورکیاوہ اسرائیل کی حمایت ہی جاری رکھے گا؟اب تک نئی ذمہ داریاں سنبھالنے والے افرادسے معلوم ہوتاہے کہ ٹرمپ اپنے حامیوں کونوازرہے ہیں لیکن کیا ٹرمپ واقعی قومی سلامتی کوترجیح دیتے ہوئے آئندہ دنیامیں جاری ان تمام جنگوں کوبندکروانے میں کامیاب ہوجائیں گے جس کا انہوں نے وعدہ کیاہے۔
اس تحریرمیں ہم اہم ترین عہدوں پرہونے والی ان نامزدگیوں پرنظردوڑائیں گے کہ ٹرمپ کی ٹیم کاحصہ بننے والی یہ شخصیات کون ہیں اورماضی میں ان کی سیاسی سوچ کیارہی ہے؟ اس بات کااندازہ لگانے کی کوشش کرتے ہیں کہ رپبلکن صدرکی جنوبی ایشیا،مشرقِ وسطی اورخصوصاپاکستان کیلئیکیاپالیسی ہوگی۔ٹرمپ کی ٹیم میں ایسی کئی شخصیات شامل ہیں جو ماضی میں جنوبی ایشیاخصوصاپاکستان اورانڈیااورمشرقِ وسطی کے حوالے سے اپنے نقطہ نظرکے باعث خبروں میں رہے ہیں تاہم حلف برداری سے قبل واضح طورپریہ کہنامشکل ہوگا کہ وہ کس معاملے پرکیاپالیسی اختیارکرتے ہیں۔
ٹرمپ نے ایک سابق فوجی کرنل مائیک والٹزکوقومی سلامتی امورکے مشیرنامزدکیاہے جوماضی میں چین کوامریکی اثرورسوخ کیلئے معاشی اورعسکری اعتبارسے سب سے بڑاخطرہ سمجھتے ہوئے اسے ایک نئی سردجنگ سے تعبیرکرتے ہیں۔اسی طرح اقوام متحدہ کے سفیرکیلئے نامزدہونے والی الیزسٹیفنک نے بھی ماضی میں چین پرالزام لگایاتھاکہ وہ الیکشن میں مداخلت کررہاہے جب یہ خبریں سامنے آئی تھیں کہ چینی حمایت یافتہ ہیکرزنے سابق صدرکے فون سے معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔ اگرچہ ٹرمپ نے چین پرتنقیدکو تجارت تک محدودرکھاہے تاہم ان کی خارجہ امورکی ٹیم چین کے نقادوں سے بھررہی ہے۔
ٹرمپ نے سیکریٹری خارجہ کے اہم عہدے کیلئے سینیٹرمارکوروبیوکونامزدکیاجوکہ ماضی میں ٹرمپ کے مخالف رہے ہیں لیکن انہیں خارجہ پالیسی امورکاایک ماہرسمجھاجاتاہے۔وہ بنیادی طورپرامریکاکے اعلی سفارت کارکے طورپرکام کریں گے۔ان کی نامزدگی کااعلان کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہاکہ’’روبیوآزادی کی ایک مضبوط آوازاورامریکا کیلئے طاقتوروکیل ‘‘ ثابت ہوں گے۔وہ کیوباکے تارکین وطن خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔اگران کی اس عہدے کیلئے منظوری دی گئی تووہ امریکی تاریخ میں پہلے لاطینی سیکرٹری خارجہ ہوں گے۔یہ ماضی میں چین کے ناقدرہے ہیں۔
روبیوپاکستان کے قریب ترین اتحادی چین کے حوالے سے بھی انتہائی سخت مؤقف رکھتے ہیں۔رواں برس ستمبرمیں انہوں نے امریکی اخبارواشنگٹن پوسٹ میں چھپنے والے اپنے ایک مضمون میں لکھاتھاکہ چین امریکاکاسب سے بڑااورترقی یافتہ مخالف ہے۔کمیونسٹ چین جمہوری ممالک کانہ ابھی دوست ہے اورنہ کبھی ہوسکتاہے۔2020میں چینی حکومت نے ان پرپابندی عائدکردی تھی جب انہوں نے ہانگ کانگ میں مظاہروں پرکریک ڈان کے بعدچین کے خلاف پابندیاں لگوانے کی مہم چلائی تھی۔وہ ایران اورچین سے متعلق سخت مقف اپنانے کیلئے جانے جاتے ہیں۔
رواں برس جولائی میں سینیٹرمارکوروبیواس وقت بھی خبروں میں آئے تھے جب انہوں نے امریکی سینیٹ میں انڈیاکی حمایت اور پاکستان کی مخالفت میں ایک بِل متعارف کروایاتھا ۔ اس بِل کانام امریکا،انڈیادفاعی تعاون ایکٹ تھاجس کامقصددونوں ممالک میں دفاعی شراکت داری کوبڑھاناتھاتاکہ انڈوپیسیفک خطے میں’’چین میں بڑھتی ہوئی جارحیت‘‘کو روکاجاسکے۔انڈیاکودرپیش خطرات کے پیش نظراسے سکیورٹی تعاون مہیاکی جائے اوراس کیساتھ دفاعی،سِول سپیس،ٹیکنالوجی اورمعاشی سرمایہ کاری کے شعبے میں بھی تعاون کیاجائے۔اس بِل میں تجویزپیش کی گئی تھی کہ’’ٹیکنالوجی کی منتقلی‘‘کے حوالے سے انڈیاکے ساتھ وہی رویہ اختیارکیاجائے جوکہ امریکاجاپان،اسرائیل،کوریااورنیٹواتحادیوں کے ساتھ رواں رکھتاہے۔
اس بِل میں پاکستان کاذکرکرتے ہوئے کہاگیاتھاکہ کانگریس کوپاکستان کے"دہشتگردی اورپروکسی گروپس کے ذریعے انڈیاکے خلاف طاقت کے استعمال پرکانگریس میں رپورٹ جمع کروائی جائے۔اگرپاکستان انڈیاکے خلاف دہشتگردی سپانسرکرنے میں ملوث پایاجاتاہے تواسے سکیورٹی کے اعتبارسے مددنہ فراہم کی جائے۔مارکوروبیوایران کے حوالے سے بھی سخت مؤقف رکھتے ہیں اوراس کو’’دہشتگرد‘‘ملک بھی قراردے چکے ہیں۔رواں برس اسرائیل پرایرانی حملوں کے بعدمارکوروبیونے حماس کے خلاف اسرائیلی کاروائیوں کی حمائت کرتے ہوئے سوشل میڈیاپرلکھاتھاکہ:اسرائیل کوایران کوویساہی ردِعمل دیناچاہیے جیساامریکادیتااگرکسی ملک نے ہم پر180میزائل داغے ہوتے۔میں چاہتاہوں کہ وہ(اسرائیل)حماس کے ہرعناصرکوتباہ کرے۔یہ(حماس)جانورہیں جنہوں نے خوفناک جرائم کیے ہیں۔روبیوخارجہ تعلقات اورانٹیلی جنس کمیٹیوں کے سینئررکن اور ٹرمپ کے سابق سیاسی حریف اورسخت ناقدرہ چکے ہیں اب وہ ان کے قریبی ساتھی سمجھے جاتے ہیں۔یہ سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کے نائب سربراہ کے طورپرکام کررہے ہیں اوروہ خارجہ تعلقات کی کمیٹی کے بھی رکن ہیں۔روبیوکوخارجہ پالیسی کے حوالے سے ایک شاطرماہرسمجھاجاتاہے جنہوں نے ماضی میں کہاتھاکہ روس اوریوکرین کے درمیان جاری تنازع کو’’نتیجے تک پہنچانے‘‘کی ضرورت ہے۔تاہم روبیو نے اس عہدے کیلئے اپنی نامزدگی کو ایک’’بھاری ذمہ داری‘‘قراردیتے ہوئے کہاہے کہ وہ بطورسیکرٹری خارجہ روزانہ ٹرمپ کے ایجنڈے کیلئے کام کروں گا۔صدر ٹرمپ کی قیادت میں ہم طاقت کے ذریعے امن قائم کریں گے اورہمیشہ امریکیوں اورامریکاکے مفادات کوہرچیزپرمقدم رکھیں گے۔
فلوریڈاکے رکنِ کانگریس مائیک والٹزجوامریکی فوجی ہونے کی حیثیت سے کئی بارافغانستان،مشرقِ وسطی اورافریقامیں بھی خدمات سرانجام دیتے رہے ہیں۔گذشتہ برس انڈین چینل ویون کودیے گئے ایک انٹرویومیں انہوں نے پاکستان کے حوالے سے کہا تھاکہ:دہشتگردی خارجہ پالیسی کاحصہ نہیں ہوسکتی۔چاہے وہ لشکرِطیبہ ہویادیگردہشتگردگروہ،یہ ناقابل ِ قبول ہے۔پاکستانی حکومت ،فوج اورانٹیلیجنس کواس سے آگے بڑھناہوگااورہم ان پرصحیح سمت اختیارکرنے کیلئے دباؤڈالتے رہیں گے۔رواں برس جولائی میں فلوریڈا پولیٹکس کودیے گئے ایک انٹرویومیں ٹرمپ کی تعریف کرتے ہوئے کہاتھاکہ:ہمارے ایک صدرتھے جنہوں نے نام نہاد دولت اسلامیہ کوشکست دی تھی،ایران کوتوڑدیاتھا،ہمیشہ اسرائیل اوردیگراتحادیوں کے ساتھ کھڑے رہے اورچین کوپسپائی پرمجبورکیا۔آپ نے صدرٹرمپ کی موجودگی میں کبھی امریکامیں جاسوس غبارے نہیں دیکھے ہوں گے۔
تلسی گبارڈامریکی فوج میں بطورلیفٹینٹ کرنل بھی خدمات سرانجام دے چکی ہیں اوروہ اس دوران مشرقِ وسطی اورافریقامیں بھی تعینات رہی ہیں۔ٹرمپ نے سابق رکن کانگریس تِلسی گبارڈکونیشنل انٹیلیجنس کاڈائریکٹرنامزدکیاہے۔ماضی میں تلسی گبارڈبھی پاکستان پرتنقیدکرتی ہوئی نظرآئی ہیں۔2017میں انہوں نے پاکستان پراسامہ بن لادن کوپناہ دینے کاالزام بھی عائدکیاتھا۔اس وقت کالعدم جماعت الدعو ہ کے سربراہ حافظ سعیدکی ایک مقدمے پررہائی پربھی تلسی نے پاکستان پرتنقیدکرتے ہوئے کہاتھاکہ حافظ سعیدممبئی حملوں کے’’ماسٹرمائنڈ‘‘تھے جن میں چھ امریکیوں سمیت سینکڑوں افرادہلاک ہوئے تھے۔مارچ2019میں انہوں نے پاکستان اورامریکاکے درمیان تعلقات پرتبصرہ کرتے ہوئے ایک سوشل میڈیاپوسٹ میں لکھاتھاکہ’’جب تک پاکستان دہشتگردوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرتارہے گادونوں ممالک کے درمیان تنارہے گا وقت آگیاہے کہ پاکستانی رہنماانتہاپسندوں اوردہشتگردوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں‘‘۔
جون ریٹکلف ٹرمپ کے پہلے دورِصدارت میں بھی نیشنل انٹیلیجنس کے سربراہ رہ چکے ہیں اوراب ایک مرتبہ پھران کوبطور سی آئی اے کاسربراہ نامزدکیاگیاہے۔انہیں پہلی بار 2019میں سابق سپیشل کونسلررابرٹ مولرسے کانگریس میں ہائی پروفائل سوالات کرنے کے چنددن بعدنیشنل انٹیلیجنس کے ڈائریکٹرکیلئے نامزدکیاگیاتھا۔ملرایف بی آئی کے سابق ڈائریکٹرتھے جنہوں نے روس اورٹرمپ کی2016کی انتخابی مہم کے درمیان ملی بھگت کے الزامات کی تحقیقات کی قیادت کی تھی۔ٹرمپ نے جان ریٹکلیف کی اہلیت کے بارے میں خدشات پردونوں جماعتوں کے اعتراضات کے چنددن بعدان کی نامزدگی واپس لے لی تھی۔2020میں ٹرمپ نے جان ریٹکلیف کودوبارہ نامزدکرتے ہوئے کہاتھا کہ ’’پریس نے ان کے ساتھ بہت براسلوک کیا‘‘۔ان کے بارے میں مشہورہے کہ وہ چین اورایران کے حوالے سے سخت مؤقف رکھتے ہیں۔دسمبر2020میں’’داوال سٹریٹ جرنل‘‘میں ایک مضمون میں انہوں نے لکھاتھاکہ ’’انٹیلی جنس بہت واضح ہے:بیجنگ اقتصادی،عسکری اورٹیکنالوجی کے میدان میں امریکا اورپوری دیناپربرتری چاہتاہے۔چین کی بڑی کمپنیاں اپنی سرگرمیوں کی آڑمیں چین کی کمیونسٹ حکومت کیلئے کام کرتی ہیں۔(جاری ہے)