بھارتی شہر گریٹر نوئیڈا میں 25 سالہ دیپیکا نگر شادی کے 17 ماہ بعد سسرال کی چھت سے گر کر ہلاک ہو گئی، جبکہ اہلِ خانہ نے واقعے کو حادثہ نہیں بلکہ قتل قرار دیا ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق دیپیکا نگر کے والد سنجے نگر نے الزام لگایا ہے کہ شادی کے بعد سے ہی بیٹی کو اضافی جہیز کے لیے دباؤ اور تشدد کا سامنا تھا۔ ان کے مطابق شادی میں تقریباً ایک کروڑ روپے خرچ کیے گئے تھے، جس میں 11 لاکھ روپے نقد، 50 لاکھ روپے کے زیورات، فرنیچر اور ایک اسکارپیو گاڑی شامل تھی۔اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ اس کے باوجود سسرال کی جانب سے فورچیونر گاڑی اور مزید 51 لاکھ روپے کا مطالبہ کیا جا رہا تھا۔والد کے مطابق دیپیکا کو شادی کے بعد مسلسل ذہنی اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا، اور واقعے سے چند گھنٹے قبل بھی اس نے فون پر روتے ہوئے بتایا تھا کہ شوہر اور سسرال والے اسے مار رہے ہیں۔
اہلِ خانہ کے مطابق جب وہ سسرال پہنچے تو دیپیکا زندہ تھی، تاہم کچھ دیر بعد انہیں اطلاع دی گئی کہ وہ چھت سے گر گئی ہے۔ خاندان نے الزام لگایا ہے کہ اسے قتل کر کے چھت سے نیچے پھینکا گیا۔پولیس نے واقعے کے بعد مقتولہ کے شوہر رتک تنور اور سسر منوج کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ لاش پوسٹ مارٹم کے لیے بھجوا دی گئی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمہ درج کر کے مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔