بھارت کے اتر پردیش میں پیش آیا ہے، جہاں ایک نئی نویلی دلہن کو شادی کے صرف ایک دن بعد اس کے سسرال والوں نے جہیز کے مطالبات پورے نہ ہونے پر گھر سے نکال دیا۔
رپورٹس کے مطابق، شادی 29 نومبر کو ہوئی تھی، اور دلہن جب اپنے سسرال پہنچی تو اسے استقبال کے بجائے مطالبات اور طعنوں کا سامنا کرنا پڑا۔ سسرالیوں نے دلہن پر دباؤ ڈالا کہ وہ اپنے میکے سے موٹر سائیکل یا دو لاکھ روپے لائے، کیونکہ وہ اس مطالبہ سے انکار کرتی رہی۔اس دوران، سسرالیوں نے دلہن کے زیورات اور شادی پر ملنے والی نقدی بھی چھین لی، اسے زد و کوب کیا، اور پھر گھر سے نکال دیا۔دلہن کے والدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے شادی پر لاکھوں روپے خرچ کیے تھے، اور دلہن کے لیے صوفہ سیٹ، بیڈ، ڈریسنگ ٹیبل، ٹی وی، واشنگ مشین، واٹر کولر، برتنوں کے سیٹ، اور دیگر گھریلو سامان بھی دیا تھا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر سسرال والوں نے پہلے ہی موٹر سائیکل کا مطالبہ کیا ہوتا، تو وہ رشتہ ہی نہ کرتے۔دلہن کے والدین نے اس واقعے کے خلاف پولیس میں شکایت درج کروائی ہے، اور شادی پر کیے گئے اخراجات کی واپسی کا بھی مطالبہ کیا ہے۔یہ واقعہ بھارتی معاشرت میں جہیز کے مطالبات اور خاندانی تعلقات کی پیچیدگیوں کو ظاہر کرتا ہے، اور اس بات کو اجاگر کرتا ہے کہ بعض اوقات روایتی رسم و رواج اور مطالبات خاندان کے درمیان مسائل پیدا کر سکتے ہیں۔