خیبر پختونخوا میں سی این جی بندش، وزیراعلیٰ کا وزیراعظم کو فوری گیس بحالی کے لیے خط

خیبر پختونخوا میں سی این جی بندش، وزیراعلیٰ کا وزیراعظم کو فوری گیس بحالی کے لیے خط

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے وزیراعظم پاکستان کو خط لکھ کر صوبے میں سی این جی سیکٹر کو گیس کی فراہمی کی معطلی پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور معاملے کے فوری حل کا مطالبہ کیا ہے۔

خط میں وزیراعلیٰ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ خیبر پختونخوا ایک گیس پیدا کرنے والا بڑا صوبہ ہے، جسے آئین کے تحت اپنے وسائل پر پہلا حق حاصل ہے۔ انہوں نے لکھا کہ صوبہ مجموعی طور پر تقریباً 494 ایم ایم سی ایف ڈی گیس پیدا کرتا ہے جبکہ مقامی استعمال صرف 120 ایم ایم سی ایف ڈی کے قریب ہے۔خط کے مطابق صوبے کے سی این جی سیکٹر کو تقریباً 36 سے 40 ایم ایم سی ایف ڈی گیس کی ضرورت ہوتی ہے، تاہم یہ مقدار کھاد کے شعبے کو منتقل کیے جانے کے باعث سی این جی اسٹیشنز کو گیس کی فراہمی معطل ہے، جس سے شدید بے چینی پائی جا رہی ہے۔وزیراعلیٰ نے خبردار کیا کہ سی این جی کی بندش سے نہ صرف ٹرانسپورٹ سیکٹر متاثر ہو رہا ہے بلکہ ہزاروں افراد کے روزگار کو بھی خطرہ لاحق ہے۔ ان کے مطابق مہنگے متبادل ایندھن کے استعمال سے عوام پر اضافی مالی بوجھ بڑھ رہا ہے۔

خط میں مزید کہا گیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 158 کے تحت گیس پیدا کرنے والے صوبے کو ترجیحی بنیادوں پر اس کے استعمال کا حق حاصل ہے۔ وزیراعلیٰ نے یہ بھی نشاندہی کی کہ پشاور ہائیکورٹ پہلے ہی سی این جی اسٹیشنز کی بندش کو غیر منصفانہ قرار دے چکی ہے۔وزیراعلیٰ نے وزیراعظم سے فوری مداخلت کی درخواست کرتے ہوئے سی این جی سیکٹر کو گیس کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے مشترکہ مفادات کونسل (CCI) کا اجلاس بلانے اور اس معاملے کو ایجنڈے میں شامل کرنے کی بھی اپیل کی ہے تاکہ مسئلے کا مستقل حل نکالا جا سکے۔