لاہور کی پہلی ٹائر بیسڈ ٹرام سروس تاخیر کا شکار

سست فیصلوں نے ییلو لائن منصوبہ غیر یقینی صورتحال سے دوچار 
لاہور (خصوصی رپورٹ)لاہور کی پہلی ٹائر بیسڈ ٹرام سروس تاخیر کا شکار ہو گئی ہے۔پنجاب ماس ٹرانزٹ اتھارٹی نے ٹینڈر جمع کروانے کی تاریخ 16 مارچ سے بڑھا کر 2 اپریل کر دی ہے۔80 ارب روپے لاگت کے منصوبے کے لیے صرف 10 ارب روپے مختص کیے گئے، جس سے مالی خلا واضح ہو گیا۔کنٹریکٹرز کی عدم دلچسپی، تکنیکی مسائل اور سست فیصلوں نے ییلو لائن منصوبے کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔تفصیلات کے مطابق لاہور میں ٹائر بیسڈ ٹرام سروس، جسے ییلو لائن کے نام سے متعارف کرایا گیا تھا، عملی آغاز سے پہلے ہی رکاوٹوں کا شکار ہو گئی ہے۔پنجاب ماس ٹرانزٹ اتھارٹی اور محکمہ ٹرانسپورٹ پنجاب نے اس منصوبے کے لیے ٹینڈر طلب کیے تھے اور 16 مارچ کو اظہار دلچسپی جمع کروانے کی آخری تاریخ مقرر کی گئی تھی، تاہم تکنیکی خامیوں اور کنٹریکٹر کمپنیوں کی عدم دلچسپی کے باعث یہ ڈیڈ لائن بڑھا کر 2 اپریل کر دی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق بین الاقوامی کمپنیوں نے بھی منصوبے میں فوری دلچسپی ظاہر نہیں کی، جس کے بعد حکام کو دوبارہ موقع فراہم کرنا پڑا تاکہ مزید بولی دہندگان کو شامل کیا جا سکے۔