اینٹی ٹینک گائیڈڈ میزائل کے ذریعے افغان طالبان کی اہم فوجی پو سٹیں تباہ ہسپتال پر حملے کا پروپیگنڈا جھوٹ ہے:وزارت اطلاعات

 آپریشن غضب لِلحق میں کابل اور ننگرہار میںدہشت گردی کی سرپرستی میں ملوث  فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، کابل میں دو مقامات پر تکنیکی معاونت کے انفراسٹرکچر اور اسلحہ کی  ذخیرہ گاہیں تباہ کر دی گئیں
  ننگرہار میں بھی  طالبان حکومت کے زیر استعمال چار فوجی تنصیبات کونشانہ بنایاگیا،  لاجسٹکس، اسلحہ اور تکنیکی انفراسٹرکچر کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا، تمام اہداف کو انتہائی درستی کے ساتھ نشانہ بنایا گیا: وفاقی وزیر اطلاعات 
راولپنڈی (آن لائن‘آئی این پی) خیبر سیکٹر میں جاری آپریشن "غضب للحق" کے دوران پاک افواج نے مؤثر اور کامیاب کارروائیاں کرتے ہوئے دشمن عناصر کے خلاف اپنی پیشہ ورانہ برتری کا مظاہرہ کیا ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق اس آپریشن کے تحت افغان سرحد سے ملحقہ علاقوں میں موجود افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ذرائع کے مطابق پاک فوج نے جدید جنگی حکمت عملی اپناتے ہوئے اینٹی ٹینک گائیڈڈ میزائل کے ذریعے افغان طالبان کی اہم فوجی پوسٹوں کو کامیابی سے تباہ کر دیا۔ ان کارروائیوں کے نتیجے میں دشمن کو بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے‘دریں اثنا ء وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے کہا ہے  کابل اور ننگرہار میں فضائی حملوں کے دوران فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ، پاکستانی شہریوں کے تحفظ کے  لئے آپریشن غضب لِلحق مطلوبہ اہداف کے حصول تک جاری رہے گا۔ عطا اللہ تارڑ نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر)پر ویڈیو جاری کرتے ہوئے لکھاکہ پاک فوج نے 16 مارچ کی رات آپریشن غضب لِلحق کے تحت کامیابی سے اہداف پر فضائی حملے کیے جس میں کابل اور ننگرہار میں  فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا جو دہشت گردی کی سرپرستی میں ملوث تھیں۔انہوں نے   بتایا کہ کارروائیوں میں کابل اورننگرہارمیں افغان طالبان حکومت کے دہشتگردی کی معاونت کرنے والے ٹھکانوں کو نشانہ بنایاگیا، کابل میں دو مقامات پر تکنیکی معاونت کے انفراسٹرکچر اور اسلحہ ذخیرہ گاہیں تباہ کر دی گئیں، حملوں کے بعد ہونے والے ثانوی دھماکے بڑے اسلحہ ڈپو کی موجودگی کی واضح نشاندہی کرتے ہیں۔وفاقی وزیرِاطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ ننگرہار میں بھی افغان طالبان حکومت کے زیر استعمال چار فوجی تنصیبات کونشانہ بنایاگیا، کارروائیوں میں لاجسٹکس، اسلحہ اور تکنیکی انفراسٹرکچر کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا، تمام اہداف کو انتہائی درستی کے ساتھ نشانہ بنایا گیا، صرف ان تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا جو دہشتگرد گروہوں کی معاونت کے لیے استعمال ہو رہی تھیں‘وزارت اطلاعات و نشریات نے ایکس پر پاکستانی فوج کی جانب سے افغانستان میں امید ہسپتال کو نشانہ بنانے کی خبروں کی تردید کر دی اور بتایا کہ حقیقت میں حملہ کیمپ فینکس پر ہوا جو ہسپتال سے کئی کلومیٹر دور ہے۔  وزارت اطلاعات و نشریات کے مطابق کیمپ فینکس فوجی و دہشت گرد سامان کا سٹوریج پوائنٹ تھا، اصل ہسپتال ایک کثیر المنزلہ عمارت ہے