اڑھائی ماہ میں 27 خودکشیاں

خودکشی کے واقعات میں اضافہ،لاہور کے مختلف علاقوں میں 8 خواتین اور 19 مردوں نے نے موت گلے لگائی 
 پھندا ڈالنا، زہریلی گولیاں کھانا، خود کو گولی مارنا اور بلند عمارت سے چھلانگ لگانا جیسے طریقے استعمال کئے گئے
 گھریلو تنازعات، مالی مشکلات، بے روزگاری اور ذہنی دباؤ جیسے عوامل سامنے آئے ، قابو پانے کی ضرورت : ماہرین 
لاہور(کرائم رپورٹر)صوبائی دارالحکومت میں خودکشی کے واقعات میں بھی اضافہ ہوگیارواں سال کے دوران اب تک 27 افراد نے مختلف وجوہات پر خودکشی کی مختلف علاقوں میں خودکشی کرنے والوں میں 8 خواتین اور 19مرد شامل ہیں ترجمان ایدھی ایمبولینس کے مطابق 3 جنوری کو شاہدرہ میں 35 سالہ عائشہ گلے میں پھندا ڈال کر جان سے گئی،11 جنوری کو شفیق آباد میں 50 سالہ شمیم بی بی نے مکان کی بالائی منزل سے چھلانگ لگا کر خودکشی کی،12 جنوری کو معراج پارک شاہدرہ میں 30 سالہ بلال نے سر میں گولی مار کر اپنی جان لی،13 جنوری کو کاہنہ میں ساجد نے دوست شہزاد کو قتل کرنے کے بعد سر میں گولی مار کر خودکشی کی،16 جنوری کو شاد باغ میں 40 سالہ وسیم نے گلے میں پھندا ڈال کر اپنی جان گنوائی،17 جنوری کو والٹن روڈ پیر کالونی میں 30 سالہ ساجد ریاض نے گلے میں پھندا ڈال کر خودکشی کی،17جنوری کو بھمے جھگیاں شادباغ میں 40 سالہ وسیم نذیر گلے میں پھندا ڈال کر جھول گیا18 جنوری کو لیاقت آباد میں 28 سالہ ارسلان گندم میں رکھنے والی گولیاں کھا کر جان سے گیا18جنوری کو باغبانپورہ میں 30 سالہ شہزاد نے گلے میں پھندا ڈال کر خودکشی کی،25 جنوری کو نولکھا میں 52 سالہ احسان انور نے گلے میں پھندا ڈال کر اپنی جان گنوائی،26 جنوری کو نواں کوٹ میں 40 سالہ ظل ہما نے گندم میں رکھنے والی گولیاں کھا کر خودکشی کی،26 جنوری کو نشتر کالونی میں 30 سالہ علی صابر نے گلے میں پھندا ڈال کر زندگی کا خاتمہ کیا،3 فروری کو گنگارام ہسپتال میں 38 سالہ صائمہ اختر نے بالائی منزل سے کود کر خودکشی کی،4 فروری کو فیکٹری ایریا میں 38 سالہ رابعہ گلے میں پھندا ڈال کر جان سے گئی،8 فروری کو ملت پارک میں 22 سالہ احسن نے سینے میں گولی مار کر اپنی جان گنوائی،9 فروری کو نولکھا کے ایک نجی ہوٹل کے کمرے سے 40 سالہ احسن اقبال کی لاش ملی، متوفی راولپنڈی کا رہائشی اور تاجر تھا، زہریلی گولیاں کھا کر خودکشی کی،15 فروری کو گلشن اقبال کے علاقہ ملتان چونگی میں عامر رائس سٹور کے سکیورٹی گارڈ کی خودکشی،فیروز والا کے رہائشی 65 سالہ محمد حسین نے خود کو گولی مار کر زندگی کا خاتمہ کیا،15 فروری کو جنوبی چھاؤنی میں 35 سالہ حمیرا نے گلے میں پھندا ڈال کر خودکشی کی،24 فروری کو گجر پورہ کے علاقہ چائنہ سکیم میں 45 سالہ عمران نے اپنی جان گنوائی،متوفی نے اوور ہیڈ برج کی سڑک کنارے لگی لوہے کی سیڑھیوں سے موٹر سائیکل ٹکرا کر اپنی جان لی،26 فروری کو گجرپورہ میں 29 سالہ جنید گلے میں پھندا ڈال کر جان سے گیا26 فروری کو نشتر کالونی میں 19 سالہ سعدیہ نے زہریلی گولیاں کھا کر زندگی کا خاتمہ کیا، 27 فروری کو بیگم کوٹ شاہدرہ میں 17 سالہ اسامہ گلے میں پھندا ڈال کر جھول گیا28 فروری کو گجرپورہ میں بے روزگاری سے تنگ آ کر 32 سالہ سلیمان افضل نے خودکشی کی،متوفی نے گلے میں پھندا ڈال کر اپنی زندگی کا خاتمہ کیا10 مارچ کو ہربنس پورہ سوہے والا روڈ پر 18 سالہ اریبہ نے گلے میں پھندا ڈال کر اپنی جان لی،10 مارچ کو ڈوگر مارکیٹ ساندہ میں 25 سالہ شہباز گلے میں پھندا ڈال کر جھول گیا12 مارچ کو سرور روڈ کے علاقہ میں پولیس کانسٹیبل 40 سالہ محمد حسنین نے خودکشی کی، متوفی ٹوبہ ٹیک سنگھ کا رہائشی تھا، سرکاری رائفل سے خود کو گولی مار کر جان گنوائی،12 مارچ کو رائیونڈ سٹی میں نامعلوم نوجوان نے چلتی ریل گاڑی سے ٹکرا کر خودکشی کی، خودکشی کے بیشتر واقعات میں گھریلو تنازعات سمیت دیگر ذاتی نوعیت کے محرکات رہے، رواں سال اب تک 27 افراد مختلف وجوہات کی بنا پر اپنی جان لے چکے ہیں، جن میں 8 خواتین اور 19 مرد شامل ہیں۔ ایدھی فاؤنڈیشن کے مطابق خودکشی کے یہ واقعات شہر کے مختلف علاقوں میں پیش آئے، جن میں گلے میں پھندا ڈالنا، زہریلی گولیاں کھانا، خود کو گولی مارنا اور بلند عمارت سے چھلانگ لگانا جیسے طریقے استعمال کئے گئے۔ بعض واقعات میں گھریلو تنازعات، مالی مشکلات، بے روزگاری اور ذہنی دباؤ جیسے عوامل سامنے آئے ہیں، جبکہ بعض افراد نے قتل کے بعد خودکشی کا راستہ اپنایا۔ پولیس اور سماجی ماہرین کے مطابق یہ رجحان خطرناک صورت اختیار کر رہا ہے اور اس پر قابو پانے کے لئے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔