میرے مستعفی ہونے سے دہشتگردی کا مسئلہ حل ہوتا ہے تو تیار ہوں خواجہ محمد آصف

مولانا  طارق جمیل کو پہلی بار 6 اکتوبر 1999 کو کابینہ کی میٹنگ میں بیان دیتے ہوئے دیکھا، میں نے اس وقت کہا  تھا  یہ عالم دین نہیں  قصہ خواں ہے 

موصوف کی قصہ خوانی کا سارا فوکس صنف نازک پر ہوتا ہے،  پشاور کا قصہ خوانی بازار بھی ان کے ہم پیشہ حضرات سے منسوب ہے:میڈیا سے گفتگو‘ایکس پر پیغام

اسلام آباد (آن لائن‘آئی این پی) وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے  اگر میرے  مستعفی ہونے سے دہشتگردی کا مسئلہ حل ہوتا ہے تو اس کے لئے تیار ہوں ۔ پارلیمنٹ ہاوس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوے انہوں نے  جعفر ایکسپریس پر حملے کے بعد پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے عہدے سے استعفیٰ کے مطالبے پر ردعمل ظاہر کیا ہے۔ صحافی نے سوال کیا کہ پی ٹی آئی سیکیورٹی لیپس کا ذمہ دارآپ کو قرار دیکراستعفے کا مطالبہ کررہی ہے۔ اس پر انہوں نے کہا اچھا مجھے ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے اگر میرے استعفے سے معاملہ حل ہوتا ہے تو میں حاضر ہوں، مجھے اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے‘دریں اثناء  خواجہ آصف نے   معروف عالم دین  مولانا طارق جمیل کے ایک  انٹرویو  پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے  کہ  میں نے اس مولانا کو پہلی بار 6 اکتوبر 1999 کو کابینہ کی میٹنگ میں بیان دیتے دیکھا۔ میں نے اس وقت کہا کہ یہ عالم دین نہیں ہے قصہ خواں ہے۔انھوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس   پر مولانا طارق جمیل  کے ایک  انٹرویو کا کلپ ری شیئر کرتے ہوئے اپنے بیان میں لکھا کہ اس کی گفتگو کا علم اور دین سے کوئی تعلق نہیں۔ پرانے زمانے سے گائوں اور شہروں کے گلی کوچوں میں پیشہ ور قصہ خواں ہوتے تھے اور جو محفلوں میں کہانیاں سناتے جو ساری ان کی اپنی ذہنی اختراع ہوتی۔انھوں نے معروف عالم دین پر تنقید کرتے ہوئے   لکھا کہ یہ ہمارے معاشرے کی ایک خاص بات سے تعلق رکھتے اور لوگ ان کی کہانیاں بڑے انہماک سے سنتے اور شام کو دن کے کام سے تھکے ہارے لوگوں کے لیے یہ انٹرٹینمنٹ کا ذریعہ ہوتے ہیں۔ان کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ موصوف کی قصہ خوانی کا سارا فوکس صنف نازک پر ہوتا ہے۔ پشاور کا قصہ خوانی بازار بھی ان کے ہم پیشہ حضرات سے منسوب ہے۔ موصوف کی جنت میں 70 فٹ کی حور والی کہانی قصہ خوانی کا شاہکار ہے۔